08 April 2012 - 17:18
خبر کا کوڈ: 3966
فونت
درس خارج فقہ خبرميں بيان ہوا ؛
رسا نيوزايجنسي -حوزہ علميہ قم کے استاد نے يہ کہتے ہوئے کہ لوگ خبروں کو پسند کرتے ہيں اور خبريں ذخيرہ بھي کي جاسکتي ہيں اسي بناء پر خبروں کي مالي حيثيت ہے کہا : شايد خبر سے زيادہ عام پسند شئي کوئي اور نہ ہو کيوں کہ انسان پاني پياس کے وقت پيتا ہے مگر خبر کے سلسلے ميں ايسا نہي ہے لھذا «خبر من حيث انه خبر» کي مالي حيثيت ہے ?
حجت الاسلام والمسلمين مهدي طائب

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، حوزہ علميہ قم کے نامور استاد حجت الاسلام والمسلمين مهدي طائب نے اج درس خارج فقہ خبرکي چوتھي نشست ميں خبر کے بيچنے اور خريدنے کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : کتاب مکاسب ميں شيخ نے مصباح المنيرکے مطابق بيع کي لغوي تعريف «البيع مبادله مال بمال» کي ہے يعني بيع ايک طرح کا طرفيني توافق ہے اگرچہ اس تعريف پر اعتراضات وارد ہوئے ہيں مگر وہ خود اصل تعريف کو نقصان دہ نہي ہيں ?

انہوں نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ خبروں کي مالي حيثيت ہے يا نہي تاکہ تبادلہ کيا جاسکے کہا : مال کي تعريف ميں ايا «المال ما يميل إليه طبع الانسان بحيث يدخروه» و « المال ما يميل إليه طبع الإنسان ويقبل الادخار» کہ اس تعريف کے مطابق مال کے لئے دو تعريف موجود ہے ، ايک انسان طبيعتا اس کي جانب ميلان رکھتا ہو اور دوسرے يہ کہ وہ قابل ذخيرہ ہو ?

حجت الاسلام والمسلمين مهدي طائب نے مزيد کہا : مچھر اور گيہوں کا دانہ جيسي چيزوں کي مالي حيثيت نہي ہے کيوں کہ لوگ اس کي طرف رجحان نہي رکھتے اور دوسرے وہ ذخيرہ کرنے کے لائق بھي نہي ہے ?

حوزہ علميہ قم کے استاد نے يہ کہتے ہوئے کہ لوگ خبروں کو پسند کرتے ہيں اور خبريں ذخيرہ بھي کي جاسکتي ہيں اسي بناء پر خبروں کي مالي حيثيت ہے کہا : شايد خبر سے زيادہ عام پسند شئي کوئي اور نہ ہو کيوں کہ انسان پاني پياس کے وقت پيتا ہے مگر خبر کے سلسلے ميں ايسا نہي ہے لھذا «خبر من حيث انه خبر» کي مالي حيثيت ہے ?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬