
رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، وہابيت کي جانب سے ڈيش ٹي وي پر شيعت کي توھين کئے جانے پرعلماء الازھرنے شديد رد عمل کا اظھار کيا اور اس طرح کي اہانتوں کے خاتمہ کا مطالبہ کيا ?
الازھر يونيورسٹي کے استاد محمد الدسوقي نے شيعت کي توہين کئے جانے کي مذمت کرتے ہوئے کہا : ڈيش ٹي وياں عوام کو متحد کرنے کے بجائے اختلاف کي بيج بور ہے ہيں يہ چائينلس جان ليں کہ تمام مسلمان ايک اصل پر متفق ہيں اور ديگر مذاھب سے ان کے رابط بہت مستحکم ہيں ?
انہوں نے مزيد کہا : مسالکوں کے تمام ليڈرس اپس ميں علمي تبادلہ رکھتے تھے اور طرفين کے علمي نظريات کي قدر داني بھي کيا کرتے تھے اور ھرگز تاريخ ميں نہي ملتا کہ ان ميں سے کسي ايک نے بھي ايک دوسرے کي توھين کي ہو يا کسي نے تعصب سے کام ليتے ہوئے ايک دوسرے کا مزاق اڑايا ہو ?
محترمہ خانم ناديا مصطفي ،الازھر بات چيت سينٹر کي انچارج نے اس طرح کي نشريات کے سلسلے ميں اظھار نظرکرتے ہوئے کہا : يہ چائينلس عراق پر امريکا کے قبضے کے بعد خود اسي کے ہاتھوں شروع کئے گئے کيوں کہ وہ معتقد ہے کہ امت اسلاميہ پر قبضے کے لئے لازم ہے کہ ان کے درميان مذھبي ومسلکي فتنے کي اگ بھڑکا دي جائے اور اسي بنياد پر اس ملک سے وابستہ افراد اس طرح کي نشريات انجام ديتے ہيں ?
مصر کے سني عالم دين شيخ محمود عاشور نے اس طرح کي باتوں پر تنقيد کرتے ہوئے کہا : خداوند متعال نے مسلمانوں کو اتحاد کي رسي تھامنے کي دعوت دي ہے مگر يہ چائينلس انہيں ايک دوسرے سے دور کررہے ہيں ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے