ايک وہابي عالم دين نے ؛

رسا نيوزايجنسي کي الجوار سے منقولہ رپورٹ کے مطابق ، مصري وہابي عالم دين ، محمد بن عبدالملک الزغبي نے مصر کے بوابد الوفد سے گفتگو کرتے ہوئے مصر کے اولين امام بارگاہ کے قيام پر تنقيد کرتے ہوئے اس کے انھدام کا مطالبہ کيا ?
انہوں نے مصر کے سني شھريوں سے اس امام بارگاہ کے مقابل اجتماع کرکے دنيا کو اس بات سے اگاہ کرنے پر اکسايا کہ مصر ھر قسم کي شيعہ فعاليتوں کا مخالف ہے ?
اس متعصب اورتندرو وہابي عالم دين نے مسلسل اس بات کي کوشش کرتے ہوئے کہ مصري عوام کو شيعوں کا مخالف ظاھر کرسکيں کہا : جامعہ الازھر سے بھي ھمارا مطالبہ ہے کہ تيزي سے ميدان عمل ميں اتريں اور اس امام بارگاہ کو منھدم کرائيں اور اس کے موسسيں کا محاکمہ کريں ?
الزغبي نے مزيد کہا : ھمارا الازھر ، وقف بورڈ ، شريعت کونسل ، انصار سنت اور جماعت اسلامي کے اپنے تمام دوستوں اور چاھنے والوں سے مطالبہ ہے کہ نماز جمعہ ميں متحد ہوکر اپنے خطبوں ميں شيعوں کو رسوا وبد نام کريں ?
انہوں نے مصر کے تمام وکيلوں سے بھي مطالبہ کيا کہ امام بارگاہ کا افتتاح کرنے والے شيخ علي کوراني کي گرفتاري کا فوري اقدام کريں ?
قابل ذکر ہے کہ مصر ميں پہلے امام بارگاہ کا گذشتہ ھفتہ لبناني عالم دين حجت الاسلام شيخ علي کوراني کے ہاتھوں افتتاح کيا گيا جس سے وہابيت کے دل ميں خلفشار مچا ہوا ہے ?
واضح رہے کہ وہابيت نے اج تک مصر ميں موجود اسلام مخالف اور مسلمانوں کے دشمن صھيوني اور اسرائيلي مراکز کے انھدام يا بند کئے جانے کا کبھي مطالبہ نہي کيا اور کسي وہابي عالم دين نے مظلوم فلسطينيوں کي حمايت اور اسرائيليوں کي خلاف خطبہ دينے کي کوشش نہي کي مگر اسلام ہي کا ايک حصہ اور جزء تشيع جس نے ھرگز اسلام اور مسلمانوں کو نقصان نہي پہونچايا ھميشہ ان کي جڑيں کاٹنے کوشش کي ہيں اور ان کي مخالفت کرتے رہے ہيں ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے