20 May 2012 - 16:46
خبر کا کوڈ: 4087
فونت
عورت اور اسلام (2) / پيشکش : اشھد نقوي
رسا نيوزايجنسي - رھبر معظم انقلاب اسلامي حضرت ايت اللہ خامنہ اي مغربي معاشرے ميں عورت کي منزلت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہيں : مغرب اپني تاريخ کے مختلف ادوار ميں خواتين کے بارے ميں شديد افراطي گري کا شکار رہا ہے ، وہاں اقتصادي ، اجتماعي اور تحصيل علم کے مسائل ميں حقوقِ نسواں کو کبھي رسمي نگاہ سے نہيں ديکھا گيا ، مغربي معاشرے ميں عورتيں ھميشہ ظلم و ستم کا نشانہ بنتي رہيں اورآج جبکہ مغربي تمدن کي اوج کا زمانہ ہے تو خواتين اورنوجوان لڑکيوں پر جنسي تشدد کے نتيجے ميں پيدا ہونے والي مشکلات، گھرانے ميں عدم تربيت و عدم محبت کا بُحران اور فيمين ازم (حقوق نسواں) کے کھوکھلے نعروں نے مغربي معاشرے کا جنازہ نکال ديا ہے?
عورت

عورت در اصل ايک زندہ حقيقت و سچائي اور حقانيت اسلام کا منہ بولتا ثبوت ہے ، عورت ميں سماجي اور گھريلو مسائل سميت ،سياسي اور معنوي کردار سے خود کو مزين کرنے کي امنگيں پائي جاتي ہيں ?

مغرب ميں خواتين کي حالت زار ، خواتين پر مغربي دنيا کے مظالم ، ناقابل انکار گفتگو ہے جسے موجودہ معاشرے نے بظاھر اچھائي ، ترقي اور ازادي کا رنگ دے در حقيقت غلامي ، ہواوہوس اور خود غرضي کي زنجيروں ميں جکڑ ديا ہے ?

اِس دنيا کا ہرذي حيات وجود، خُداوند عالم کي حکمت وعدالت کي بنياد پر عالم خلقت ميں نہ صرف يہ کہ اپنے ہدف وغايت اوراپني زندگي سے متعلق خاص سوالات کے جوابات کا متلاشي ہے بلکہ اپنے خاص اورمناسب مقام ميں ديگر مخلوقات سے باہمي رابطے و معاملے کے بندھن ميں بھي جڑا ہوا ہے? اَحسَنُ الخَالِقين کي تمام مخلوقات کے درميان، سب سے اَحسَن ترين تخليق (انسان)، ديگر موجودات کے مقابلے ميں بہت زيادہ حکمت و عدالت سے مالا مال ہے اور خداوند عالم کے پنہاں اسرار و رموز نے اُس کا احاطہ کر رکھا ہے?

مرد وعورت ، دو متقابل نقطے ميں نہيں بلکہ معاملے،رابطے اور تعامل کے ايک نقطے پر تکميلِ خلقت ، دوامِ نسل اور محبت و سکون ميں توازن کيلئے خلق ہوئے ہيں اور خدائے رحمان و رحيم نے دونوں ميں سے ہر ايک کو اُس کي خلقت کے بُنيادي مقصد کي جوابدہي اور اُس کے مناسب ترين مقام تک رسائي کيلئے اپنے لطف و رحمت کے سايہ ميں لے رکھا ہے?

جہاں اُس نے ايک وجود کو لطافت ، نرمي، نفاست ، ظرافت اور محبت عطا کي ہے وہيں دوسرے کو قوت و طاقت ، مضبوط و بلند حوصلے اور تکيہ و اعتماد کا مرکز بنايا ہے? نہ پہلے کو دوسرے پر برتري دي ہے اورنہ دوسرے کو پہلے پر سبقت کا موقع فراہم کيا ، بلکہ اُس نے ہر ايک کو خانداني مدار اورعالمِ ہستي کے نظام ميں اپني اپني ذمہ داريوں اورشرعي واجبات کي ادائيگي کيلئے مقرر کيا ہے? عالمِ خلقت ميں دونوں کي جداگانہ ذمہ داريوں کے تعين کي وجہ سے مرد و عورت دونوں کے حقوق واضح اور دونوں کي حدود اوردائرہ فعاليت بھي معين ومشخص ہوجاتے ہيں?

بشر نے اپني جاہلانہ و شيطاني طور طريقے کي بنيادوں پرجب حدودِ ال?ہي سے تجاوز کيا تو نہ صرف يہ کہ اپني مخصوص ذمہ داريوں اورفرائض کو نہيں پہچانا بلکہ دائرہ فعاليت اور حدود کو بھي يکسر فراموش کرديا اور پورے معاشرتي نظام کو تہہ وبالا کر کے رکھ ديا ، انساني معاشرے ميں موجود انحطاط ، برائياں اور عرياني وفحاشي سب حقوق و حدود ال?ہي سے تجاوز کرنے اور ظالمانہ رفتار و کردار پر دلالت کرتے ہيں?

ايسے دور ميں انقلاب اسلامي انسان کو عظمت وکرامت عطا کرنے کے حوالے سے طراوت و نشاط کي پہلي کرن اور مرد و عورت پر خداوند عالم کي رحمت و معنويت کي زندہ نشاني ہے ? انقلاب اسلامي نے سيرت حضرت ختمي مرتبت اور امير المومنين ? علي عليہ السلام کي تعليمات کي روشني و پيروي ميں تمام خواتين کو اُن کے عظيم و بلند مقام ديا ?

مغربي دنيا کي نگاہ ميں خواتين کي منزلت

مغرب اپني تاريخ کے مختلف ادوار ميں خواتين کے بارے ميں شديد افراطي گري کا شکار رہا ہے ، اقتصادي ، اجتماعي اور تحصيل علم کے مسائل ميں حقوقِ نسواں کو کبھي رسمي نگاہ سے نہيں ديکھا گيا اور وہ ظلم و ستم کا نشانہ بنتي رہيں اورآج جبکہ مغربي تمدن کي اوج کا زمانہ ہے تو خواتين اورنوجوان لڑکيوں پر جنسي تشدد کے نتيجے ميں پيدا ہونے والي مشکلات، گھرانے ميں عدم تربيت و عدم محبت کا بُحران اور فيمين ازم (حقوق نسواں) کے کھوکھلے نعروں نے مغربي معاشرے کا جنازہ نکال ديا ہے?

مرد و خواتين کے باہمي تعلقات ميں آزادانہ ميل ملاپ اور لا اُبالي پن ، مردوں کي لذت و شہوت کي تکميل کيلئے خواتين کو وسيلہ بننا، خواتين کا فضول خرچي ، عيش پرستي اور زينت پرستي کي دوڑ ميں شريک ہونا، عرياني، بے پردگي اور برائيوں کا عام ہونا، مردوں کي جنسي آزادي اور حقوقِ نسواں کے بارے ميں مرد اورخواتين کے درميان اختلافات اُن جملہ اجتماعي اور ثقافتي اختلافات ميں سے ہيں کہ جس نے مغرب کو تباہي کے دہانے پر لاکھڑا کيا ہے? دنيا کے انسان اور مسلمان ، اِس ظلم وستم کي وجہ سے مغربي ثقافت کو عدالت کے کٹہرے ميں لے آئے ہيں اور مغرب کو اب ملامت و سرزنش کا نشانہ بنانے کے درپہ ہيں ?

اہل مغرب ، عورت کے مزاج کي شناخت اور صنفِ نازک سے برتاو ميں افراط و تفريط کا شکار رہے ہيں ? بنيادي طور پر عورت کے بارے ميں مغرب کي نگاہ دراصل غير متوازن اورعدم برابري کي نگاہ ہے? اھل مغرب کے نعرے کھوکھلے اور حقيقت سے کوسوں دور ہيں ، ان نعروں سے مغربي ثقافت کي شناخت ممکن نہيں بلکہ مغربي ثقافت کو اُن کے ادب ميں تلاش کرنا چاہئے? جو لوگ مغربي ادب ، يورپي معاشرے کے اشعار، ادبيات،ناوليں، کہانياں اور اسکرپٹ سے واقف ہيں ، وہ جانتے ہيں کہ مغربي ثقافت ميں قبل از قرون وسطي? کے زمانے سے لے کر اس صدي کے آخر تک عورت کو دوسرا درجہ ديا گيا ہے? جو فرد بھي اس حقيقت کے خلاف دعوي? کرتا ہے وہ حقيقت کے خلاف بولتا ہے? آپ شيکسپيئر کے ناول کو ديکھئے اس ناول ميں اور بقيہ مغربي ادب ميں صنف نازک کو کن خيالات ، کس زبان اور کس نگاہ سے ديکھا جاتا ہے? مغربي ادب ميں مرد،عورت کا سرادر،مالک اورصاحب اختيار ہے اور اس ثقافت کي بعض مثاليں اور آثار آج بھي باقي ہيں?

آج بھي جب ايک عورت ، مرد سے شادي کرتي ہے اور اپنے شوہر کے گھر ميں قدم رکھتي ہے تو حتي اُس کا فيملي نام تبديل ہوجاتا ہے اور اُسے شوہر کے فيملي سے جوڑ ديا جاتا ہے يعني عورت جب تک شادي نہيں کرتي اسکا خانداني نام اس کے نام سے لگا رہتا ہے ليکن جب وہ شوہر دار ہوجاتي ہے تو شوھر کے فيملي نام کو اس کے فيملي نام کي جگہ دے کر شوھر کے قدموں تلے کچل جانے کا پہلا قدم ہوتا ہے ? اسلام ميں نہ کل تھا اور نہ اج ہے ہاں مغربي اسلام ميں کبھي کدھار شايد ديکھں کو مل جائے ? اسلام ميں عورت کا تشخص اس کي ساتھ شادي کے بعد بھي محفوظ رہتا ہے?

يورپي قديم ثقافت ميں جب ايک عورت اپنے تمام مال و منال کے ساتھ شادي کرتي اور شوہر کے گھر ميں قدم رکھتي تو نہ صرف يہ کہ اُس کا جسم ، مرد کے اختيار ميں ہوتا بلکہ اُس کي تمام ثروت و دولت جو اُس کے باپ اور خاندان (ميکے) کي طرف سے اُسے ملتي ، شوہر کے اختيار ميں چلي جاتي ? يہ وہ چيز ہے کہ جس کا انکار خود اہلِ مغرب بھي نہيں کرسکتے کيونکہ يہ مغربي ثقافت کا حصہ ہے? مغربي ثقافت ميں جب عورت اپنے خاوند کے گھر ميں قدم رکھتي تھي تو در حقيقت اُس کے شوہر کو اُس کي جان کا بھي اختيار ہوتا تھا! چنانچہ آپ مغربي کہانيوں ، ناولوں اور يورپي معاشرے کے اشعار ميں ملاحظہ کريں گے کہ شوہر ايک اخلاقي مسئلے ميں اختلاف کي وجہ سے اپني بيوي کو قتل کرديتا ہے اوراس سلسلے ميں کوئي بھي اُسے سرزنش نہيں کرتا ! اسي طرح ايک بيٹي کو اپنے باپ کے گھر ميں کسي قسم کے انتخاب کا کوئي حق حاصل نہيں تھا?

البتہ يہ بات ضرور ہے کہ اُسي زمانے ميں مغربي معاشرے ميں مرد و خواتين کا طرززندگي ايک حد تک آزاد تھا ليکن اِس کے باوجود شادي کا اختيار اورشوہر کا انتخاب صرف باپ کے ہاتھ ميں تھا? شيکسپيئر کے ناول ميں جو کچھ آپ ديکھيںگے وہ يہي کچھ ہے کہ ايک لڑکي کو شادي پر مجبور کيا جاتا ہے، ايک عورت اپنے شوہر کے ہاتھوں قتل ہوتي ہے اور آپ کو ايک ايسا گھر نظر آئے گا کہ جس ميں عورت سخت دباو ميں گھري ہوئي ہے، غرض جو کچھ بھي ہے وہ اِسي قسم کا ہے? يہ ہے مغربي ادب وثقافت ! موجودہ نصف صدي تک مغرب کي يہي ثقافت رہي ہے? البتہ انيسويں صدي کے اواخر ميں وہاں آزادي نسواں کي تحريکيں چلني شروع ہوئي ہيں?

جلتا ہوا مغربي معاشرہ !

مغربي معاشرے کي اس افراط کے مقابل تفريط بھي موجود ہے ? جب اُس گھٹن کے ماحول ميں خواتين کے حق ميں اس قسم کي بظاہرپُرسود تحريک شروع ہوئي تو خواتين تفريط کا شکار ہوتي چلي گئيں ، لہ?ذا گذشتہ چند دہائيوں ميں آزادي نسواں کے نام پر مغرب ميں کئي قسم کي برائيوں ، فحاشي و عرياني اور بے حيائي نے جنم ليا اور يہ سب برائياں بتدريج رواج پيدا کرتي چلي گئيں کہ جن سے خود مغربي مفکرين بھي حيران و پريشان ہيں? آج مغربي ممالک کے سنجيدہ ، مصلح،خردمند اور سينے ميں دل و تڑپ رکھنے والے افراد اِس جنم لينے والي موجودہ صورتحال سے حيران و پريشان اور ناراض ہيں ليکن وہ اِس سيلاب کا راستہ روکنے سے قاصر ہيں ? انہوں نے خواتين کي خدمت کرنے کے نام پر اُن کي زندگي پر ايک بہت کاري ضرب لگائي ہے ، آخر کيوں؟ صرف اِس لئے کہ مرد و عورت کے درميان تعلقات ميں اس لا اُبالي پن، برائيوں اور فحاشي و عرياني کو فروغ دينے اور ہر قسم کي قيد وشرط سے دور مرد وخواتين کي آزادي اور طرز معاشرت نے گھرانے کي بنيادوں کو تباہ و برباد کرديا ہے? وہ مرد جو معاشرے ميں آزادانہ طور پر اپني شہوت کي تشنگي کو بجھا سکے اور وہ عورت جو سماج ميں بغير کسي مشکل اور اعتراض کے مردوں سے مختلف قسم کے روابط برقرار کرسکے، گھر کي چارديواري ميں يہ مرد نہ ايک اچھا شوہر ثابت ہوگا اور نہ ہي يہ عورت ايک اچھي اور بہترين و وفادار بيوي بن سکے گي? يہي وجہ ہے کہ وہاں گھرانے کي بنياديں مکمل طور پر تباہ ہوگئيں ہيں?

حقوق نسواں کے بارے ميں بہت زيادہ گفتگو کي گئي ہے اور کي جاري ہے? جب ہم اس دنيا کے مختلف انساني معاشروں پر نظر ڈالتے ہيں ، خواہ وہ ہمارے اپنے ملک کا اسلامي معاشرہ ہو يا ديگر اسلامي ممالک کا يا حتي غير اسلامي معاشرے بھي کہ جن ميں پيشرفتہ اور متمدن معاشرے بھي شامل ہيں، کو ہم ديکھتے ہيں تو بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حقوق نسواں کا مسئلہ ابھي تک حل نہيں ہوا ہے? يہ سب انساني مسائل کے بارے ميں ہماري کج فکري اور غلط سوچ کي نشاني ہے اور اس بات کي عکاسي کرتے ہيں کہ ہم ان تمام مسائل ميں تنگ نظري کا شکار ہيں? ايسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنے تمام بلندو بانگ دعووں،مخلص اور ہمدرد افراد کي تمام تر جدوجہد اور حقوق نسواں اور خواتين کے مسائل کے بارے ميں وسيع پيمانے پر ہونے والي ثقافتي سرگرميوں اور فعاليتوں کے باوجود ايک سيدھے راستے اور صحيح طور و طريقے کو ابھي تک ڈھونڈھنے سے قاصر ہے?

شايد آپ نے دنيا کي ہنرمند خواتين کے ہنري اور ادبي آثار کو ديکھا يا پڑھا ہو وہ تمام اِسي مذکورہ بالا مسئلے کي عکاسي کرتے ہيں کہ خواتين سے متعلق مسائل کو حل کرنے ميں بشر ابھي تک عاجز و ناتوان رہا ہے? بہ عبارت ديگر؛ زيادتي ، کج فکري اور فکري بدہضمي اور اِن کے نتيجے ميں ظلم و تعدّي، تجاوز، روحي ناپختگي، خاندان اور گھرانوں سے متعلق مشکلات ؛ ان دو جنس? مردو زن? کے باہمي تعلقات ميں اختلاط و زيادتي سے مربوط مسائل ابھي تک عالم بشريت کے حل نشدہ مسائل کا حصہ ہيں? يعني مادي ميدانوں ميں ترقي، آسماني واديوں اور کہکشاوں ميں پيشقدمي اور سمندروں کي گہرائيوں ميں اتني کشفيات کرنے، نفسياتي پيچيدگيوں اور الجھنوں کي گھتيّوں کو سُلجھانے اور اجتماعي و اقتصادي مسائل ميں اپني تمام تر حيران کن پيشرفت کے باوجود يہ انسان ابھي تک اس ايک مسئلے ميں زمين گير و ناتواں ہے? اگر ميں ان تمام ناکاميوں اور انجام نشدہ امور کو فہرست وار بيان کروں تو اِس کيلئے ايک بڑا وقت درکار ہے کہ جس سے آپ بخوبي واقف ہيں?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬