بيس جمادي الثاني وومنس ڈے کے موقع پر:
يہ کتاب عرض ناشر ، ايک مقدمہ ، دوباب اور چہار فصلوں پر مشتمل ہے ? عرض ناشر ميں يوں رقم ہے کہ ’’عورت گوہر ہستي‘‘، در اصل ايک زندہ حقيقت و سچائي اور اسلام کي حقانيت کا منہ بولتا ثبوت ہے?
’’عورت گوہر ہستي‘‘ميں سماجي اور گھريلو مسائل سميت عورت کے اجتماعي ،سياسي اور معنوي کردار، مغرب ميں خواتين کي حالت زار ،خواتين پر مغرب کے ظلم اور اسلام کي خدمات ،آزادي نسواں کے حقيقي مفہوم ، خواتين کي فعاليت کيلئے جامع راہنمائي ،حجاب کي حقيقت و فوائد ،عورت کے بارے ميں اسلام کي حقيقي نگاہ اور اسلامي آئيڈيل کو قرآن و روايات کي روشني ميں بہت سادہ انداز سے بيان کيا گيا ہے?
اور پھر اسي کتاب کے مقدمہ ميں بيان کيا گيا : مرد وعورت ، دو متقابل نقاط ميں نہيں بلکہ معاملے،رابطے اور تعامل کے ايک نقطے پر تکميلِ خلقت ، دوامِ نسل اور محبت و سکون ميں توازن کيلئے خلق ہوئے ہيں اور خدائے رحمان و رحيم نے دونوں ميں سے ہر ايک کو اُس کي خلقت کے بُنيادي مقصد کي جوابدہي اور اُس کے مناسب ترين مقام تک رسائي کيلئے اپنے لطف و رحمت ميں ڈھانپا رکھا ہے? اُس باري تعالي نے ايک وجود کو لطافت ، نرمي، نفاست ، ظرافت اور محبت بخشي ہے تو دوسرے کو قوت و طاقت ، مضبوط و بلند حوصلے اور تکيہ و اعتماد کا مرکز بنايا ہے? نہ پہلے کو دوسرے پر برتري دي ہے اورنہ دوسرے کو پہلے پر سبقت کاموقع فراہم کيا ہے بلکہ اُس نے ہر ايک کو خانداني مدار اورعالمِ ہستي کے نظام ميں اپني اپني مخصوص ذمہ داريوں اورشرعي واجبات کي ادائيگي کيلئے مقرر کيا ہے? عالمِ خلقت ميں دونوں کي جداگانہ ذمہ داريوں کے تعين کي وجہ سے مرد و عورت دونوں کے حقوق واضح ہوجاتے ہيں اور اسي نگاہ سے دونوں کي حدود اوردائرہ فعاليت بھي مشخص ہوجاتے ہيں?
اس کتاب کا پہلا باب دو فصلوں پر مشتمل ہے ، اس کي پہلي فصل ميں ؛ مغرب اورخواتين ، خواتين اور گھرانے کے بارے ميں مغرب کا افراط و تفريط ، مغربي ادب ميں عورت کي مظلوميت ? اوردوسري فصل ميں ؛ جاہلانہ تمدن و ثقافت کے خطرات و نتائج ، حقو ق نسواں، موجودہ دنيا کا ايک گھمبير اور حل نشدہ مسئلہ ، دنيا ميں ’’خانداني‘‘ بحران کي اصل وجہ ! ، مرد و عورت کي کثير المقدار مشکلات کا علاج يورپ کي موجودہ تمدن کي بنياد ، مغربي عورت کي حالت زار ، حقوق نسواں کے بارے ميں استکبار کي غلطي ، مغربي عورت، مرد کي نفساني خواہشات کي تسکين کا وسيلہ ، اسلام ميں خواتين کي فعاليت و ملازمت، خواتين کو ہماري دعوت ! جيسے عنوان ديکھنے کو ملتے ہيں ?
اس کتاب کا دوسرا باب بھي پہلے ہي طرح دو فصلوں پر مشتمل ہے ? جس کي پہلي فصل ميں ؛ خواتين کے مسائل اور حقوق کے بارے ميں اسلام کي عادلانہ نظر، عورت، عالم ہستي کا اہم ترين عنصر ، عورت عالمِ خلقت کے اہم ترين امور کي ذمہ دار ، جلتا ہوا مغربي معاشرہ ! ، يورپي عورت کي آزادي کے مغرضانہ مادّي عوامل ، خواتين مرد کے شانہ بشانہ بلکہ اُن سے بھي آگے ؟ ، خاندان ميں عورت کا حق ! اور دوسري فصل ميں ؛ اسلام اورحجاب ، مرد اور عورت کي درمياني ’’حد‘‘ پر اسلام کي تاکيد ، حجاب و پردے ميں اسلام کي سنجيدگياسلامي انقلاب اورحقوق نسواں ! ، مغربي اور مغرب زدہ معاشرے ميں خواتين کي صورتحال ، خواتين، معاشرہ اور حجاب ! ، اسلامي جمہوريہ ايران ميں خواتين کي ترقي ، اہل مغرب کي ايک ظاہري خوبصورتي مگر درحقيقت ؟ ، خواتين کا اسلامي تشخص اور اُس کے تقاضے جيسے عنوانين ديکھنے کو ملتے ہيں ?
اس کتاب کا ترجمہ سيد صادق رضا تقوي اور کمپوزنگ مبارک زيدي نے کيا اور پہلي بار 2000 تعداد الباسط پرنٹرز کي جانب سے محرم 1428ہجري / فروري 2007ئ ميں منتشر ہوئي اور اس قيمت 80 روپے ہے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے