20 May 2012 - 16:36
خبر کا کوڈ: 4089
فونت
عورت اوراسلام (3) / پيشکش : اشھد نقوي
رسا نيوزايجنسي - رھبر معظم انقلاب اسلامي حضرت ايت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي اسلامي معاشرے ميں موجود عورت کي اھميت وحيثيت کي جانب اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہيں : اسلام کے نقطہ نگاہ سے عورتوں کے لئے علمي، اقتصادي اور سياسي فعاليت اور سرگرميوں کا دروازہ پوري طرح کھلا ہوا ہے? اگر کوئي اسلامي نقطہ نگاہ کا حوالہ دے کر عورت کو علمي سرگرميوں سے محروم کرنے کي کوشش کر رہا ہے، اقتصادي فعاليت سے دور رکھنے کے در پے ہے يا سياسي و سماجي امور سے لا تعلق رکھنے پر مصر ہے تو وہ در حقيقت حکم خدا کے خلاف عمل کر رہا ہے?
عورت اسلام کے نقطہ نظر سے

جب دنيا کے فکري ميدان پر نظر دوڑائي جاتي ہے اور پھر اسلامي نقطہ نگاہ کا جائزہ ليا جاتا ہے تو صاف صاف يہ محسوس ہوتا ہے کہ انساني معاشرہ اسي وقت مرد و زن کے رابطے کے سلسلے ميں مطلوبہ منزل اور نہج پر پہنچ سکتا ہے جب اسلامي نظريات کو بغير کسي کمي و بيشي کے اور بغير کسي افراط و تفريط کے سمجھا اور درک کيا جائے اور انہيں پيش کرنے کي کوشش کي جائے? اس وقت مادہ پرست تہذيبوں ميں عورت کے سلسلے ميں جو طرز عمل اختيار کيا گيا ہے اور جو سلسلہ چل رہا ہے وہ کسي صورت بھي قابل قبول نہيں ہے اور وہ عورت کے مفاد اور حق ميں ہے نہ معاشرے کے فائدے ميں?

اسلام کي خواہش ہے کہ عورتوں کا فکري، علمي، سياسي، سماجي اور سب سے بڑھ کر روحاني و معنوي نشو نما اپني منزل کمال پر پہنچ جائے اور ان کا وجود انساني معاشرے اور کنبے کے لئے، ايک اہم رکن کي حيثيت سے، آخري حد تک ثمر بخش اور مفيد ثابت ہو? تمام اسلامي تعليمات منجملہ مسئلہ حجاب کي بنياد يہي ہے?
قرآن کريم ميں اللہ تعالي جب اچھے اور برے انسانوں کي مثال دينا چاہتا ہے تو دونوں کے سلسلے ميں عورت کا انتخاب کرتا ہے? ايک مثال زوجہ فرعون کي ہے اور دوسري مثال حضرت نوح و حضرت لوط عليھم السلام کي بيويوں کي ہے? " و ضرب اللہ مثلا للذين آمنوا امرئ? فرعون" اس کے مقابلے ميں برے، نگوں بخت، منحرف اور غلط سمت ميں بڑھنے والے انسان کي مثال کے طور پر حضرت نوح اور حضرت لوط کي ازواج کو پيش کرتا ہے? يہاں سوال يہ اٹھتا ہے کہ مرد بھي موجود تھے، ايک مثال مرد کي دے دي ہوتي اور ايک مثال عورت کي دي ہوتي? ليکن نہيں، پورے قرآن ميں جب بھي ارشاد ہوتا ہے کہ " ضرب اللہ للذين آمنوا" يا " ضرب اللہ للذين کفروا" تو دونوں کي مثال عورتوں کے ذريعے پيش کي جاتي ہے?

دين اسلام کي بے مثال خاتون کے کردار سے جب ربرو ہوتے ہيں تو ھميں ملتا ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ عليھا چھے سات سال کي تھيں کہ شعب ابو طالب کا مرحلہ در پيش ہوا? صدر اسلام کي تاريخ ميں شعب ابو طالب بے حد سخت اور دشوار دور تھا? يعني پيغمبر اسلام کي تبليغ دين شروع ہو چکي تھي، آپ نے اپني نبوت کا اعلان کر ديا تھا? رفتہ رفتہ اہل مکہ بالخصوص نوجوان اور غلام، حضرت کے گرويدہ ہوتے جا رہے تھے اور اکابرين طاغوت کو محسوس ہونے لگا تھا کہ ان کے پاس سوائے اس کے کوئي چارہ نہيں کہ پيغمبر اور ان کے ارد گرد جمع افراد کو مکے سے باہر نکال ديا جائے? انہوں نے ايسا ہي کيا بھي? ان ميں سے بہتوں کو جن ميں درجنوں خاندان شامل تھے خود پيغمبر اسلام اور آپ کے قريبي رشتہ دار، خود حضرت ابو طالب جبکہ حضرت ابو طالب کا شمار بزرگوں ميں کيا جاتا تھا، بچے اور بوڑھے شامل تھے? سب کو مکے سے باہر نکال ديا? حضرت ابو طالب کے پاس ايک چھوٹا پہاڑي درہ تھا? کہہ ديا گيا کہ آپ لوگ وہيں چلے جائيں? مکہ ميں دن ميں تو دھوپ کي شکل ميں آگ برستي تھي ليکن رات کو کڑاکے کي سردي پڑتي تھي? يعني موسم ناقابل برداشت تھا? ان لوگوں نے اس بيابان ميں تين سال کاٹ دئے? کتني سختياں برداشت کيں اور بھوک کي شدت جھيلي! پيغمبر اسلام کي زندگي کا ايک انتہائي سخت دور يہي تھا? اس عرصے ميں پيغمبر اسلام کي ذمہ داري صرف لوگوں کي ہدايت و رہنمائي نہيں تھي بلکہ انہيں سختياں جھيلنے والے ان افراد کے سامنے بھي اپنے مشن کا دفاع کرنا تھا(کہ اس کے لئے اتني سختياں برداشت کرنا کوئي بڑي بات نہيں ہے)? ان دنوں جب پيغمبر اسلام انتہائي سخت حالات سے دوچار تھے حضرت ابو طالب، جو پيغمبر کے مددگار تھے اور ان سے پيغمبر اسلام کي اميديں وابستہ تھيں، اسي طرح حضرت خديجہ کبرا جو پيغمبر اسلام کي ايک اور بہت بڑي ياور و مددگار تھيں ايک ہفتے کے اندر دونوں دنيا سے رخصت ہو گئے?! يہ بڑا عجيب سانحہ ہے، پيغمبر بالکل بے سہارا اور تنہا ہو گئے?

فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا نے ايک مشير اور ايک ماں کا کردار ادا کيا پيغمبر اسلام کے لئے? يہي وجہ تھي کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ عليھا کے سلسلے کہا گيا کہ آپ تو "ام ابيھا" يعني اپنے والد کي ماں ہيں? يہ اسي وقت کي بات ہے? يعني ايک چھے سات سال کي بچي کا يہ کردار تھا? البتہ يہ بھي ہے کہ عرب ماحول ميں اور گرم علاقوں ميں لڑکيوں کا جسماني اور ذہني نشونما تيزي سے ہوتا ہے اس لحاظ سے آج کي دس بارہ سالہ لڑکي کے برابر رہي ہوں گي? تو يہ احساس ذمہ داري اور فرض شناسي ہے? کيا ايک نوجوان لڑکي کے لئے يہ چيز نمونہ عمل اور درس نہيں ہے کہ وہ اپنے ارد گرد کے مسائل کے تعلق سے جلد ہي اپني ذمہ داري کا احساس کرے، اپنے وجود ميں پنہاں جوش و نشاط کے اس خزانے کو بروئے کار لاتے ہوئے باپ کے چہرے سے جو اس وقت غالبا پچاس سال کا ہو چکے ہيں اور بڑھاپے کي سمت گامزن ہيں غم و غصے کے غبار کو جھاڑے، يہ ايک نوجوان لڑکي کے لئے کيا بہترين نمونہ نہيں ہے؟

دوسري جانب شوہر سے متعلق اپنے فرائض کي ادائيگي ہے? بعض اوقات لوگ يہ سمجھنے لگتے ہيں کہ شوہر کے حقوق ادا کرنے کا مطلب يہ ہے کہ عورت باورچي خانہ سنبھالے، کھانے پکائے، گھر کي صفائي ستھرائي کرے، بستر بچھائے اور گاؤ تکيہ لگائے کہ شوہر نامدار دفتر يا دکان سے آ رہے ہوں گے! اسي کو شوہر کے حقوق کي ادائيگي نہيں کہتے? آپ جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ عليھا کو ديکھئے کہ کس انداز سے شوہر کے تعلق سے اپنے فرائض ادا کر رہي ہيں? پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے مدينہ ميں دس برس گزارے ان ميں نو برس وہ تھے جن ميں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ عليھا اور اميرالمومنين حضرت علي عليہ السلام نے شوہر اور زوجہ کي حيثيت سے ايک ساتھ زندگي گزاري? ان نو برسوں ميں جن چھوٹي بڑي جنگوں کا ذکر کيا گيا ہے وہ تقريبا ساٹھ جنگيں ہيں? ان ميں اکثر و بيشتر جنگوں ميں حضرت امير المومنين عليہ السلام نے شرکت کي?
غورکريں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ عليھا گھر ميں موجود ہيں اور آپ کے شوہر مسلسل محاذ جنگ سنبھالے ہوئے ہيں? کيونکہ آپ کے وجود پر محاذ جنگ کي مضبوطي کا دار و مدار تھا، آپ نہ ہوتے تو محاذ کمزور پڑ جاتا? گھر کي مالي حالت بھي اچھي نہيں ہے، بلکہ حقيقت ميں آپ کي زندگي غربت و عسرت و تنگدستي ميں گزر رہي تھي? جبکہ آپ قائد ملت کي دختر گرامي ہيں، پيغمبر کي لخت جگر ہيں اور آپ کے اندر ايک احساس ذمہ داري اور فرض شناسي بھي موجود ہے? بے حد مضبوط اعصاب اور قوي جذبات کي ضرورت ہے کہ انسان اپنے شوہر کو آمادہ کرے، اس کے ذہن و دل کو گھر کے مسائل و مشکلات اور بال بچوں کي فکر سے آزاد اور مطمئن رکھے، اس کي حوصلہ افزائي کرے اور بچوں کي ايسي مثالي تربيت کرے جيسي صديقہ طاہرہ نے کي? آپ خود کہئے! حضرت امام حسن اور حضرت امام حسين عليہما السلام تو امام تھے اور سرشت و طينت امام رکھتے تھے ليکن حضرت زينب سلام اللہ عليہا تو امام نہيں تھيں? حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ عليھا نے انہي نو برسوں ميں آپ کي تربيت کي تھي? پيغمبر اسلام کي وفات کے بعد تو آپ زيادہ دن زندہ بھي نہيں رہيں?

اس انداز سے گھر چلايا، اس انداز سے شوہر کے تئيں اپنے فرائض ادا کئے اور اس انداز سے گھر کي مالکہ کا کردار ادا کيا کہ تاريخ ميں پائيدار خانداني زندگي کا محور قرار پائيں? کيا يہ نوجوان لڑکي، گھريلو عورت يا گھريلو زندگي شروع کرنے جا رہي خاتون کے لئے آپ اسوہ حسنہ نہيں ہيں؟ يہ تمام بڑي اہم باتيں ہيں?

عورت کے سلسلے ميں اسلام کا طرز سلوک

عورت کے ساتھ اسلام کا سلوک مودبانہ اور محترمانہ ہے، خير انديشانہ، دانشمندانہ اور توقير آميز ہے? يہ مرد و زن دونوں کے حق ميں ہے? اسلام مرد و زن دونوں کے سلسلے ميں اسي طرح تمام مخلوقات کے تعلق سے حقيقت پسندانہ اور حقيقي و بنيادي ضرورتوں اور مزاج و فطرت سے ہم آہنگ انداز اختيار کرتا ہے? يعني کسي سے بھي قوت و توانائي سے زيادہ اور اس کو عطا کردہ وسائل سے بڑھ کر کوئي توقع نہيں رکھتا? عورت کے سلسلے ميں اسلامي نقطہ نگاہ کو سمجھنے کے لئے اس کا تين زاويوں سے جائزہ ليا جا سکتا ہے?

اول: ايک انسان ہونے کي حيثيت سے روحاني و معنوي کمالات کي راہ ميں اس کا کردار؛ اس زاويے سے مرد اور عورت ميں کوئي فرق نہيں ہے? تاريخ ميں جس طرح بہت سے با عظمت مرد گزرے ہيں، بہت سي عظيم اور نماياں کردار کي حامل خواتين بھي گزري ہيں?

دوم: سماجي، سياسي، علمي اور معاشي سرگرمياں؛ اسلام کے نقطہ نگاہ سے عورتوں کے لئے علمي، اقتصادي اور سياسي فعاليت اور سرگرميوں کا دروازہ پوري طرح کھلا ہوا ہے? اگر کوئي اسلامي نقطہ نگاہ کا حوالہ دے کر عورت کو علمي سرگرميوں سے محروم کرنے کي کوشش کر رہا ہے، اقتصادي فعاليت سے دور رکھنے کے در پے ہے يا سياسي و سماجي امور سے لا تعلق رکھنے پر مصر ہے تو وہ در حقيقت حکم خدا کے خلاف عمل کر رہا ہے? عورتيں، جہاں تک ان کي ضروريات و احتياج کا تقاضا ہو اور جسماني توانائي جس حد تک اجازت دے، سرگرمياں انجام دے سکتي ہيں? جتنا ممکن ہو وہ سياسي و معاشي و سماجي امور انجام ديں، شريعت اسلامي ميں اس کي ہرگز مناہي نہيں ہے? البتہ چونکہ جسماني ساخت کے لحاظ سے عورت مرد سے نازک ہوتي ہے لہذا اس کے اپنے کچھ تقاضے ہوتے ہيں? عورت پر طاقت فرسا کام مسلط کر دينا اس کے ساتھ زيادتي ہے، اسلام اس کا مشورہ ہرگز نہيں ديتا? البتہ اس نے (عورت کو ) روکا بھي نہيں ہے? حضرت امير المومنين عليہ الصلا? و السلام سے منقول ہے کہ آپ فرماتے ہيں: " المرآ? ريحان? و ليست بقھرمان?" يعني عورت پھول کي مانند ہے "قہرمان" نہيں? "قہرمان" يعني با عزت پيش کار اور خدمت گار? آپ مردوں کو مخاطب کرکے فرماتے ہيں: عورتيں تمہارے گھروں ميں گل لطيف کي مانند ہيں ان کے ساتھ بڑي ظرافت اور توجہ سے پيش آؤ? عورت آپ کي خادمہ اور پيش کار نہيں ہے کہ آپ سخت اور طاقت فرسا کام اس کے سر مڑھ ديں?

اسلام نے عورت کو معاشي اور سماجي سرگرميوں ميں حصہ لينے سے نہي روکا ليکن دوسري طرف اسلام نے يہ بھي نہيں کہا ہے کہ عورت کو محنت شاقہ اور طاقت فرسائي کي متقاضي سياسي و سماجي و معاشي سرگرميوں ميں لگا ديا جائے? اسلام کا نظريہ اعتدال پسندانہ ہے? يعني عورت کے پاس اگر فرصت ہے، بچوں کي پرورش اس کي راہ ميں حائل نہيں ہو رہي ہے، اس ميں شوق و دلچسپي اور جسماني طاقت و توانائي بھي ہے اور وہ سماجي، سياسي اور معاشي امور ميں حصہ لينا چاہتي ہے تو کوئي مضائقہ نہيں ہے? ليکن يہ کہ اسے مجبور کر ديا جائے اور اسے حکم ديا جائے کہ جاؤ جيسے بھي ممکن ہو روزگار تلاش کرو اور يوميہ اتنا کام کرو تاکہ اس آمدني سے گھر کے خرچ کا کچھ بوجھ تم اٹھاؤ، تو يہ مناسب نہيں ہے? اسلام نے عورت کو ہرگز اس کا حکم نہيں ديا ہے? اسے عورت کے ساتھ ايک طرح کي زيادتي قرار ديتا ہے?

دينداري کے جذبے کے نام پر لڑکيوں کو اعلي تعليم حاصل کرنے سے روک دينا دين نہيں، دين کي نظر ميں تعليم کے لحاظ سے لڑکے اور لڑکي ميں کوئي فرق ہي نہيں ہے? اگر لڑکا اعلي تعليم حاصل کرتا ہے تو لڑکي بھي اعلي تعليم حاصل کر سکتي ہے? نوجوان لڑکياں تعليم حاصل کريں، علم کي منزليں طے کريں، معلومات ميں اضافہ کريں? اپني اہميت اور مقام و منزلت سے آگاہ ہوں اور اپني قدر و قيمت کو سمجھيں، تاکہ انہيں يہ پتہ چلے کہ عورت کے سلسلے ميں عالمي استکبار کے پروپيگنڈے کتنے کھوکھلے اور بے بنياد ہيں?

سوم: عورت کو خاندان اور کنبے کي ايک رکن کي حيثيت سے ديکھنا? يہ سب سے اہم اور با ارزش ہے? اسلام ميں مرد کويہ اجازت نہيں ہے کہ عورت سے جبر و اکراہ کا برتاؤ کرے اور اس پر کوئي چيز مسلط کر دے? خاندان کے اندر مرد کے لئے محدود حقوق رکھے گئے ہيں جو در حقيقت بڑي حمکت آميز بات ہے? يہ حقوق جس کے سامنے بھي رکھے اور بيان کئے جائيں، وہ اس کي حمايت او تائيد کرے گا? اسي طرح عورت کے لئے بھي خاندان کے اندر کچھ حقوق رکھے گئے ہيں اور ان ميں بھي بڑي مصلحت انديشي پوشيدہ ہے? مرد و زن دونوں کے اپنے مخصوص جذبات، مزاج، اخلاق اور خواہشات ہيں? وہ دونوں اگر اپنے اپنے جذبات اور خواہشات کے مطابق صحيح طور پر عمل کريں تو گھر ميں بڑا اچھا ہم آہنگ اور ايک دوسرے کے لئے سازگار جوڑا وجود ميں آ جائے گا? اگر مرد زيادتي کرتا ہے تو توازن بگڑ جاتا ہے، اسي طرح عورت کوئي زيادتي کرے تو اس سے بھي توازن ختم ہو جاتا ہے? اسلام گھر کے اندر مرد اور عورت کو دروازے کے دو پلوں، چہرے کي دو آنکھوں، محاذ زندگي کے دو مجاہدوں اور ايک دوکان ميں کام کرنے والے دو رفقائے کار کي حيثيت سے ديکھتا ہے? ان ميں ہر ايک کا اپنا مزاج، اپني خصوصيات، اپني خصلتيں ہيں? جسماني لحاظ سے بھي، روحاني لحاظ سے بھي، فکري لحاظ سے بھي او جذبات و خواہشات کے اعتبار سے بھي? يہ دونوں صنفيں اگر ان حدود اور معياروں کي پابندي کرتے ہوئے جس کا تعين اسلام نے کيا ہے ايک ساتھ زندگي بسر کريں تو ايک مضبوط، مہربان، با برکت اور انتہائي کارآمد کنبہ معرض وجود ميں آئے گا?

اسلام ان مردوں کو جو اپني جسماني يا مالياتي قوت کے بلبوتے پر عورتوں سے اپني خدمت ليا کرتے تھے، عورتوں کو بسا اوقات اہانت اور تحقير کا نشانہ بناتے تھے، ان کي حدود دکھائيں اور عورت کو اس کي حقيقي منزلت پر پہنچايا اور بعض چيزوں کے لحاظ سے اسے مرد کے برابر قرار ديا? "ان المسلمين و المسلمات و المؤمنين و المؤمنات" مسلمان مرد، مسلمان عورت، عبادت گزار مرد، عبادت گزار عورت، شبوں ميں عبادت کرنے والے مرد اور راتوں کو جاگ کر عبادتيں کرنے والي عورتيں? معلوم ہوا کہ اسلام ميں يہ تمام معنوي و روحاني مقامات اور اعلي انساني درجات مرد اور عورت کے درميان مساوي طور پر تقسيم کئے گئے ہيں? اس لحاظ سے عورتيں بھي مردوں کے برابر ہيں? جو بھي اللہ کے لئے کام کرے گا "من ذکر او انثي" خواہ وہ مرد ہو کہ عورت " فلنحيينھ حياتا طيب?" (ہم اسے پاکيزہ زندگي عطا کريں گے)


اسلام نے بعض مقامات پر عورتوں کو مردوں پر ترجيح تک دي ہے? مثال کے طور پر ايک مرد اور ايک عورت کسي بچے کے ماں باپ ہيں اور يہ بچہ دونوں کا ہے ليکن اولاد کے لئے ماں کي خدمت کرنا زيادہ لازمي قرار ديا گيا ہے? اولاد کي گردن پر ماں کا حق زيادہ ہے اور ماں کے تعلق سے اولاد کے فرائض زيادہ سنگين ہيں? پيغمبر اسلام نے اس سوال کے جواب ميں کہ " من ابر" ميں کس کے ساتھ بھلائي اور نيکي کروں؟ فرمايا ہے کہ "امک" يعني اپني ماں کے ساتھ? آپ نے دوبارہ اس کي تکرار کي اور تيسري بار بھي يہي جملہ دہرايا? جب پوچھنے والے نے چوتھي دفعہ يہي سوال کيا تب آپ نے فرمايا کہ " اباک" يعني اپنے باپ کے ساتھ? بنابريں خاندان ميں بچوں پر ماں کا حق زيادہ ہے اور ماں کے تعلق سے بچوں کے فرائض بھي زيادہ ہيں? البتہ اس کي وجہ يہ نہيں ہے کہ اللہ تعالي نے کچھ لوگوں کو بعض ديگر افراد پر (بے سبب) ترحيج دے دي ہے? اس کي وجہ يہ ہے کہ عورتيں بہت زيادہ محنت و مشقت کرتي ہيں? يہ عدل الہي کا تقاضا ہے? جس کي زحمتيں زيادہ ہيں اس کا حق بھي زيادہ ہے? چونکہ (ماں) زيادہ مشقتيں برداشت کرتي ہے اس لئے اس کي قدر و منزلت بھي بالاتر ہے?

يہ سب عدل و انصاف کا تقاضا ہے? مالياتي امور ميں، کنبے کے حق کے سلسلے ميں، خاندان کي سرپرستي کے سلسلے ميں اور گھر کے امور کو چلانے کے تعلق سے اسلام کي روش بڑي متوازن روش ہے? ان امور ميں بھي اسلامي قانون نے ايسا بندو بست کيا ہے کہ مرد يا عورت کسي پر بھي ذرہ برابر ظلم و زيادتي نہ ہو? اس نے مردوں کے حقوق بھي معين کر دئے ہيں اور عورتوں کے حقوق کي بھي نشاندہي کر دي ہے? ايک چيز مرد کے پلڑے ميں ڈالي ہے تو دوسري چيز عورت کے پلڑے ميں رکھي ہے? جو لوگ صاحب نظر ہيں اگر وہ غور کرتے ہيں تو ان حقائق کو باقاعدہ محسوس بھي کرتے ہيں اور انہوں نے کتابوں ميں يہ چيزيں لکھي بھي ہيں?

اسلام کي نظر ميں جنس يعني مرد يا عورت ہونا موضوع بحث نہيں بلکہ ارتقاء انساني پر گفتگو کي گئي ہے، اخلاق انساني کو موضوع گفتگو بنايا گيا ہے، صلاحيتوں کو نکھارنے کي بات کي گئي ہے، ان فرائض کي بات کي گئي ہے جن کا تعلق کسي بھي جنس سے ہو سکتا ہے? البتہ اس کے لئے مزاج سے آشنائي ضروري ہے? اسلام مرد اور عورت دونوں کے مزاج کو بخوبي پہچانتا ہے? اسلام کي نظر ميں سب سے اہم ہے توازن کا برقرار رہنا، يعني انسانوں بشمول مرد و زن، کے درميان عدل و انصاف کي مکمل پابندي? حقوق کي برابري موضوع گفتگو ہے? البتہ يہ ممکن ہے کہ بعض مقامات پر عورتوں اور مردوں کے سلسلے ميں احکام مختلف ہوں? بالکل اسي طرح، جس طرح عورت اور مرد کے مزاج بعض خصوصيات کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہيں? اسلامي تعليمات ميں مرد اور عورت سے متعلق زيادہ سے زيادہ حقائق فطري خصائل اور طينت اور نفسيات کو ديکھا جا سکتا ہے?


اسلامي معاشرہ اور عورت

اسلامي معاشرے ميں عورت سے توقع يہ ہوتي ہے کہ وہ عالمہ ہو، سياسي شعور رکھتي ہو، سماجي سرگرمياں انجام دے، تمام شعبوں ميں سرگرم عمل ہو? گھر ميں مالکہ کا رول ادا کرے، شوہر اور بچوں کي نگہداشت اور اولاد کي تربيت کا ذمہ سنبھالے? گھر کے باہر عفت و طہارت و پاکدامني کا مظہر ہو? اسلامي معاشرہ ايسي عورتوں کو ديکھنا چاہتا ہے جوگھر کے اندر بچوں کي پرورش کرنے والي اور شوہر کے لئے سکون و چين کا سامان فراہم کرنے والي اور شوہر کے وجود سے سکون حاصل کرنے والي ، گھر کے باہر کي فضا ميں اپني پاکدامني و عفت کي حفاظت کرتے ہوئے تمام سياسي، علمي، سماجي اور ديگر شعبوں ميں موجود رہے? اگر يہ ہدف پورا کرنا ہے تو اس کي اولين شرط حجاب ہے? حجاب کے بغير يہ ممکن نہيں ہے? حجاب کے بغير عورت وہ بے فکري اور اطمينان خاطر حاصل نہيں کر سکتي جس کے ذريعے وہ ان منزلوں کو طے کر سکے?

اسلامي معاشرے ميں اور مسلمانوں کي زندگي کے اصلي بہاؤ ميں مسلمان عورت کي خاص حرمت و وقار ہے اور اس کا مظہر حجاب ہے? جو (خاتون) حجاب ميں ملبوس رہتي ہے، اس کا احترام کيا جاتا ہے? قديم زمانے ميں بھي وہ عورتيں زيادہ معزز اور قابل احترام ہوتي تھيں جو با حجاب رہتي تھيں? حجاب وقار کي علامت ہے? حجاب پہننے والي خواتين کا خاص احترام کيا جاتا ہے? اسلام تمام عورتوں کے لئے اسي حرمت و عزت کا خواہاں ہے?


تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬