عورت اور اسلام : (5) / پيشکش : اشھد نقوي

وہ دوسري جگہ پر يوں فرماتے ہيں : اسلامي سماج کي خواتين اپنے صلاحيتوں کو بروے کار لاتے ہوئے اپنے اندر خدمت کا جذبہ پيدا کر کے اپني فطرت سے مناسب تمام مقامات اور مناصب پر فائز ہو سکتي ہيں اور اسلامي سماج کي ترقي ميں زيادہ سے زيادہ موثر ثابت ہو سکتي ہيں? يعني در حقيقت عورت ان مسائل ميں جو اس کي شرافت کے منافي نہيں ہيں آزاد ہے ? ?
اگر عورت کو ايک انسان ہونے کے عنوان سے ملاحظہ کريں اس معني ميں کہ اولا انسان ترقي کا سبب ہے اور دائمي ترقي يہ ہے کہ سماج کے تمام عناصر کے درميان توازن برقرار کيا جائے، ثانيا انسان کي فطري خصوصيات ان عناصر کا اہم حصہ ہيں? ان کے بغير انسان اپني شخصيت کو کھو جائے گا اور ايک مشينري ميں تبديل ہو جائے گا کہ جس کے بارے ميں انساني حقوق يا سماجي اخلاق کي بات کرنا فضول کہلائے گا،تو عورت سماجي ترقي ميں برابر کي حصہ دار شمار ہو گي?
دين اسلام کہ جس کے اصول کا سرچشمہ فطرت انساني ہيں خالق انسان کي طرف سے مادي اور معنوي ترقي حاصل کرنے کا بہترين دستور العمل پيش کرتا ہے? لہذا بغير کسي شک و شبہہ کہ يہ کہا جا سکتا ہے کہ صرف دين ہے کہ جو سماج کي ہر فرد کے ليے اس کي فطرت کے اعتبار سے مقام و منصب کا تعين کر سکتا ہے جس ميں اس کي شخصيت اور شرافت کي حفاظت ہو سکے اور انساني سماج ميں ترقي بھي ہو اور مشکلات کا سد باب بھي ہو سکے ورنہ دين کو درکنار کر کے اگر انسان، چاہے وہ مرد ہو يا عورت، خود اپنے ليے تعيين وظائف کرنے لگے گا تو نتيجہ ميں سماج بجائے ترقي کي تنزلي کي طرف بڑھے گا مادي اعتبار سے بھي اور معنوي اعتبار سے بھي?
خالق انسان نے عورت کي فطرت اور سرشت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے جو سماجي مقام و مناصب اسے عطا کئے ہيں اگر عورت مزيد ان سے آگے بڑھنے کي کوشش کرے گي تو اس کا مطلب يہ ہے کہ وہ اپني فطرت کو کچل کر آگے بڑھ رہي ہے وہ اپني تکليف ما لا يطاق انجام دينے کي کوشش کر رہي ہے وہ اس چيز کي تلاش ميں ہے جو اس کے بس ميں نہيں ہے نتيجہ کيا ہوگا؟ نتيجہ يہ ہو گا کہ وہ اس کام يا ذمہ داري کو کما حقہ انجام نہيں پائے گي اس ليے کہ اس کي طاقت سے بالا تر ہے? ايسي صورت ميں جب سماجي اور اجتماعي کام کما حقہ انجام نہيں پائيں گے تو کيا سماج اور معاشرہ ترقي کرے گا يا تنزلي کرے گا؟
اگر ان تمام حقائق کو ملحوظ نظر رکھا جائے تو ہم يہ ديکھتے ہيں کہ عورت بھي مرد کي طرح سماجي ترقي کا بنيادي رکن ہے? اور وہ معاشرہ کبھي ترقي نہيں کر سکتا جس ميں عورت کا کوئي نقش اور رول نہ ہو جس ميں عورت کو اس کے فطري وظائف سے محروم رکھا جائے جس ميں عورت کو محض مرد کي تسکين کا ساز و سامان بنا ديا جائے جس ميں عورت صرف گھر کي ايک نوکراني تصور کيا جائے، يا اس کے برعکس اس سماج ميں بھي کوئي انساني اور معنوي ترقي نظر نہيں آئے گي جس ميں عورت کو مطلق العنان کر ديا جائے جس عورت کي شرافت کا جنازہ نکال ديا جائے، جس ميں عورت ہر ہوس پرست کي ہوس کا لقمہ بن جائے? جس ميں عورت کے فطري حقوق کو پامال کر ديا جائے اور ہر جگہ ہر کوچہ گلي ميں جلوت و خلوت ميں جنسي تسکين کا ذريعہ سمجھ ليا جائے?
اس نکتہ کو بھي ذہن نشين کر لينا چاہيے کہ عورت کي شخصيت کي حفاظت سماج کے مستقبل کو روشن بنا سکتي ہے اور اسے ترقي کي راہ ميں گامزن کرنے ميں مددگار ثابت ہو سکتي ہے?
سماجي ترقي ميں عورت کے کردار کو اگر اس کي ذاتي اور فطري خصوصيات کو مد نظر رکھ کر متعين کريں گے تو اس سے عورت کي ارزش اور قيمت ميں کوئي کمي واقع نہيں ہو گي بلکہ اس کي قيمت ميں اضافہ ہو گا اس کي عظمت ميں اضافہ ہو گا? اور يہ چيز مرد و عورت کے وظائف تعين کرنے ميں تاثير گذار ثابت ہوگي اس معني ميں کہ تقدير الہي نے مرد و عورت کے وظائف کو سماجي فلاح و بہبود ميں مقدور فرما ديا ہے?
وہ عورت جو بيوي يا ماں ہے يقينا اس کے وظائف اس مرد سے جو شوہر يا باپ ہے فرق کرتے ہيں اور ممکن نہيں ہےکہ دونوں کي ايک طرح کي ذمہ دارياں ہوں ورنہ گھر کا نظام چل ہي نہيں سکتا? دونوں کا کردار مل کر گھر کے نظام کو چلانے، بہتر بنانے اور اسے ترقي دينے ميں کارآمد ثابت ہوتا ہے? اور ممکن نہيں ہے کہ ايک دوسرے کا جايگزيں کر ديا جائے ليکن گھر کے نظام ميں کوئي خلل اندازي نہ ہو?
اس بنا پر زن و مرد دونوں اجتماعي اور سماجي ترقي کي راہ ميں برابر کا کردار رکھتے ہيں ليکن اپنے اپنے وظائف اور ذمہ داريوں کي رعايت کے ساتھ اور ايک دوسرے کے کاموں ميں عدم مداخلت کے ساتھ ? ورنہ سماج ميں خرابياں وجود پائيں گي?
ہم يہاں پر سماج ميں عورت کے چند ايک وظائف کي طرف اشارہ کرتے ہيں جو سماجي ترقي ميں نہايت موثر واقع ہوتے ہيں:
?: گھر ميں سالم ماحول پيدا کرنا
عورت گھر ميں سالم اور پرسکون ماحول ايجاد کر کے انساني سماج کو قوي، روشن فکر اور متحرک بنا سکتي ہے?
واضح ہے کہ ايسے ماحول کے بغير سماج عاطفي اعتبار سے بکھرا ہوا اور معنوي اور روحي اعتبار سے کمزور نظر آئے گا اس ليے کہ سماج گھرانوں سے ہي مل کر بنتاہے اور وہ سماج جس ميں کھوکھلاپن، سستي اور تباہي پائي جاتي ہو وہ بجائے اس کے کہ خلاقيت اور اختراعات کي ميدان ميں قدم بڑھائے آلودگيوں اور فتنوں کي آغوش ميں پروان چڑھے گا? لہذا عورت سماج کا بنيادي رکن ہونے کے حوالہ سے اور گھر اور خاندان ميں اصلي محور ہونے کے اعتبار سے کہ جو دو اہم وظائف "مادري اور شوہرداري" کو اپنے ذمہ رکھتي ہے صحيح اور سالم ماحول کو وجود ميں لانے اہم کردار ادا کر سکتي ہے?
?: عورت کا تربيتي کردار
صالح انسان، ترقي اور تکامل کا محور قرار پاتاہے ليکن صالح انسان کي تربيت ايک دائمي تربيتي پروگرام کي محتاج ہے? اور کبھي کبھي اتفاقي طور پر نہيں ہوتا ہے کہ ايک موثر انسان اتفاقي پور پر سماج ميں ظہور کر جائے? ہر بڑي شخصيت کے پيچھے ايک سليقہ مند عورت کا کردار کارفرما ہوتا ہے? امام خميني [رہ] نے يونہي نہيں کہہ ديا کہ "مرد عورت کے دامن سے معراج پاتا ہے"? يہ ايک واقعيت ہے جس کا کوئي انکار نہيں کر سکتا? اولاد کي بہترين تربيت جو انساني سماج کے بنيادي عناصر ہوتے ہيں عورت سے مخصوص ہے?
?:محبت آميز ماحول فراہم کرنا
عورت اپني طبيعي استعداد کي بدولت اس بات پر قدرت رکھتي ہے کہ گھر ميں محبت بھرا ماحول فراہم کرے اس طريقہ سے سماج کي ترقي اور تکامل کے ليے مناسب زمين ہموار کرے?
ليکن وہ سماج جو محبت اور عطوفت سے خالي ہو ايک خشک اور جامد ماحول ہو گا? يہ سماج اگر بعض مادي موارد ميں پيشرفت بھي کئے ہوئے ہو ليکن معنوي اور انساني اعتبار سے جمود اور خلاد کا شکار ہے? يقينا ايسے ماحول ميں آپسي اتحاد ، ہمدردي اور ايک دوسرے کا احساس نظر نہيں آسکتا?
بنابر ايں، جو بھي صدمہ عورت کے گھريلو کردار پر وارد ہو گا اور ايک گھرانے ميں اس کے مقام و منزلت کو مخدوش کيا جائے گا اس کے منفي آثار سماج کے مستقبل پر ضرور اثر انداز ہوں گے?
حتي يہ کہنا بے جا نہيں ہو گا کہ جو لوگ عورت کي گھريلو زندگي ميں اہميت کو ختم کرنے کہ در پہ ہيں وہ در حقيقت عورت کي شرافت اور عظمت کو خدشہ دار کرنا چاہتے ہيں?
اس ميں کوئي شک نہيں ہے کہ قرآن کريم ميں عورت کو اقتصادي، سياسي، علمي، ثقافتي اور ہنري ميدان ميں مرد کے برابر قرار ديا ہے خدا وند عالم دونوں کو زندگي کے مختلف ابعاد ميں يکساں قرار دے کر انہيں مخاطب کرتا ہے:
«انى لا اضيع عمل عامل منکم من ذکراو انثى بعضکم من بعض.(2)
ميں تم مرد و عورت ميں سے کسي کے عمل کي جزا کو ضايع نہيں کرتا?
«و من يعمل من الصالحات من ذکر او انثى و هو مؤمن فاولئک يدخلون الجنه و لا يظلمون نقيراً.(3)
اور جو نيک عمل انجام دے چاہے مرد ہو يا عورت اس حال ميں کہ مومن ہے جنت ميں داخل ہوں گے اور ذرہ برابر بھي ان پر ظلم نہيں کيا جائے گا?
و «من عمل صالحا من ذکر او انثى و هو مؤمن فلنحيينه حياة طيبة و لنجزينهم اجرهم باحسن ما کانوا يعلمون ? (4)
اہل ايمان ميں سے جو نيک کام انجام ديتے ہيں مرد ہوں يا عورتيں ہم انہيں پاکيزہ زندگي عطا کريں گے اور انہيں ان کے اعمال سے زيادہ بہتر جزا ديں دے?
اس بنا پر اسلام کي نگاہ ميں عورتيں مردوں کي طرح زندگي کے تمام امور ميں حصہ لے سکتي ہيں اور تمام سماجي وظائف کو انجام دے سکتي ہيں اور ان کي جزا اور پادايش وصول کر سکتي ہيں?
اس ليے کہ اسلام کي نگا ميں ان ميں کوئي ايک بھي دوسرے پر فضيلت کا حامل نہيں ہے بلکہ دونوں آزاد ہيں اور اچھے برے اعمال کے ذمہ دار ہيں?
حضرت امام خميني )رہ( فرماتے ہيں:
"اسلام عورت کو تمام امور ميں شريک سمجھتا ہے جيسا کہ مرد تمام امور ميں دخالت کا اختيار رکھتا ہے عورت بھي رکھتي ہے? جيسا کہ مرد اختيار رکھتے ہيں آپ [خواتين] کو بھي خدا نے باکرامت خلق کيا ہے آزاد خلق کيا ہے ? (?)
اور نيز فرماتے ہيں:
"جس طريقہ سے مردوں کے حقوق اسلام ميں بيان کئے گئے ہيں عورتوں کے حقوق بھي بيان ہوئے ہيں اسلام نے عورتوں کو زيادہ اہميت دي ہے مردوں کي نسبت???" [?]
" انساني حقوق کے اعتبار سے مرد و عورت ميں کوئي فرق نہيں ہے اس ليے کہ دونوں انسان ہيں???" [?]
ترقي يافتہ ممالک ميں عورت کي حالت زار
آج اس جديد اور متمدن دور ميں خواتين پرظلم و ستم کے طريقے بھي نئے ہيں ? ڈيموکراسي کے جھوٹے نعرے اور آزادي وحقوق کے نام پر عورتوں پر ظلم و ستم ہو رہا ہے ہيں? مختلف ممالک خصوصاً يورپ ميں عورت کو اپنا سرمايہ اور مال و دولت کي خريد وفروخت کيلئے پبلسٹي کا وسيلہ قرار ديتے ہيں? سوپر مارکٹوں دفتروں، بينکوں ، دکانوں ، ميں عورتوں کو اس مقصد سے رکھا جاتا ہے کہ زيادہ سے زيادہ خريداروں کو اپني طرف مائل کرسيں ? اور اسي طرح شہوت راني ، فحشا اور فلموں ميں لا کر زيادہ سے زيادہ امدني کا وسيلہ بنايا جارہا ہے ? اور خاندان جو ہر انسان کے تشخص کا ايک شرافت مندانہ وسيلہ ہے درہم برہم کرديا گيا ? يہاں نمونے کے طور پر کچھ نام نہاد ترقي يافتہ اور متمدن ممالک کا تذکرہ کريں گے:
روس :
سروے کے مطابق روس ميں پچاس في صد ناجائز بچے پيدا ہوتے ہيں?
1980ع کے سروے کے مطابق ساٹھ ہزارعورتيں شراب کا نشہ کرتي ہيں?
1990ع کے سروے کے مطابق سالانہ تين لاکھ سے پانچ لاکھ خواتين جنسي تجاوزات کا شکار ہوتي ہيں?
امريکہ :
کچھ سال پہلے کے سروے کے تحت امريکہ ميں اٹھارہ سال سے کم کي تين لاکھ لڑکياں اور ہر تيسري عورت ، تجاوز کا شکار ہوتي ہے? ناجائزجنسي ملاپ کي وجہ سے مختلف بيماريوں ميں مبتلا ہوکر ہزاروں عورتيں اور مرد ہر سال لقمہ? اجل بن جاتے ہيں اس کے علاوہ گذشتہ چند برسوں ميں اٹھارہ ملين بچے سقط کئے گئے- ?
انگلينڈ :
انگلينڈ کے معتبر مراکز کي رپورٹ کے مطابق ہر ہفتہ چودہ سال سے کم کي پچاس حاملہ لڑکياں حمل گراديتي ہيں اور ہرتيسري شوہر دارخاتون کي اجنبي مرد کيساتھ دوستي قائم ہے?
جاپان :
جاپان حکومت کا دعوي ہے کہ حکومت کو پانچ لاکھ فاحشہ عوروں کي وجہ سے بہت ساري مشکلات کا سامنا ہے?
اقوام متحدہ :
اقوام متحدہ نے گزارش دي ہے کہ ھر سال دنيا کي اسّي ملين خواتين نہ چاہتے ہوئے بھي حاملہ ہوتي ہيں-?
تھائلينڈ :
ہفتہ وار مجلہ اشپيگل کي يکم جولائي 1985ع ميں منتشرہ رپورٹ کے مطابق دلال فقيرنشين ديہاتوں سے دوشيزہ جوان لڑکيوں کو ظاہرا خدمت طور سے ليکن درحقيقت فاحشہ گري کيلئے ايک ہزار مارک ميں خريد لاتے ہيں جو بنکاک ، ہانکانگ،جاپان اور جرمن کے نائٹ کلب ميں سرويس ديتي ہيں ? بنکاک پوليس کے ايک اعداد وشمار کے مطابق تھائلينڈ سے سولہ ہزار عورتيں اور لڑکياں دوسرے ممالک ميں بھيجي جاتي ہيں صادر ہوتي ہيں?
مغربي جرمني
مغربي جرمني ميں قانوني طور پر دوہزار کمپنياں موجود ہيں جو فاحشہ عورتوں اور لڑکيوں کو ملک ميں لا کر خريداروں کے ہاتھوں بيچ دينا ہے ? بہت سارے لوگ ان ايجنسيوں ميں رجوع کرتے ہيں اور لڑکيوں يا عورتوں کو خريد کر بازاروں ميں بھيج ديتے ہيں، تاکہ وہ بدن فروشي کرکے مالک کيلئے پيسہ کمائيں ? اور مالک کا اقتصاد بحال کريں ? ہر مہينہ ميں تين ہزار کے قريب عوتوں اور لڑکيوں کا معاملہ ہوتا ہے- ??
افسوس کا مقام ہے کہ آج بھي آزادي کے نام سے عورتوں کي يہ درد ناک حالت باقي ہے اور خود عورتيں بھي اسے آزادي سمجھ کر بہت خوش ہيں ?
????????????????????????????????????????????????
حوالہ جات
1) صحيفه نور، ج3، ص49.
2) آل عمران، آيه195.
3) نساء، آيه 124.
4) نحل، آيه97.
5) صحيفه نور، ج11، ص254.
6) صحيفه نور ، ج 5، ص221.
7) صحيفه نور ، ج3، ص49.
8? اخبار جمہوري اسلامي? 8/3/1364 .
9 ? فقہ و حقوق، ج 3، ص18 ?
10? حجاب و آزادي، ص137?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے