13 May 2012 - 16:04
خبر کا کوڈ: 4097
فونت
آيت ‌الله جوادي آملي :
رسا نيوزايجنسي - حضرت آيت الله جوادي آملي نے آيات قرآن کريم کے ائينے ميں خدا کے مطيع بندوں کو هم ‌قافلہ شهدا و صالحان بتاتے ہوئے تاکيد کي : خدا ونبي خدا کے مطيع بندوں کے ساتھي بھي اچھے ہوتے ہيں ?
آيت ‌الله جوادي آملي

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، مفسرزمان حضرت آيت ‌الله عبدالله جوادي آملي نے اج علماء وافاضل حوزہ علميہ قم کے مجمع ميں مسجد اعظم قم ميں سوره مبارکه نمل کي تفسير کرتے ہوئے کہا : حضرت سليمان عليه ‌السلام ، داوود عليه السلام کي ثروت وحکومت کے مالک تھے ان کي نبوت کے نہي ، کيون کہ نبوت ورثہ نہي ہے ? ہاں ورثہ ميں حضرت سليمان عليه ‌السلام کے ساتھ دوسرے وارث بھي شريک تھے مگر حکومت فقط حضرت سليمان نبي عليہ السلام سے ہي مخصوص تھي ?

قران کريم کے اس مفسر نے کہا : ممکن ہے خدا وند بعض غير صالح افراد کو بعض علوم عطا کرے ، خدا وند متعال نے سامري اور بلعم باعور جيسے لوگوں کو علم وکرامت امتحان کي غرض سے عطا کيا ، مگرمنصب رسالت اور امامت غير صالح افراد کو ھرگزعطا نہي عطا کرتا بلکہ انہيں کوہي ديتا ہے جو اس کي نگاہ ميں محکم ارادے کے مالک ہيں جو سخت ترين مشکلات کے دور ميں بھي ، جب ان کا کوئي بھي ساتھ دينے والا نہ ہو اس مقام ومنزلت سے سوء استفادہ نہ کريں ?

قران کريم کے اس نامور مفسر نے تقيہ کے سلسلے ميں کہا : نبي تقيہ نہي کرتا ، اگر پوري دنيا بھي اس کے مقابلہ ميں رہے تو بھي وہ اپني ذمہ داريوں کو انجام ديتا ہے «لَا تُکَلَّفُ إِلَّا نَفْسَکَ» مگر امام ممکن ہے کہ تقيہ کرے ? ھم نے ديکھا کہ سيدنا الاستاد مرحوم محقق داماد رضوان الله تعالي عليه کي انکھوں سے فقہي مباحث ميں انسو بہنے لگے ? يہ اس وقت تھا جب امام کاظم عليه السلام نے ہارون ملعون کو خطاب ميں فرمايا : «يا اميرالمؤمنين» ? اگر غدير کو ديکھ کر کوئي خاموش رہ جائے ، اگر سقيفہ «بيّن الغي» کو برداشت کرلے جائے تو يہ تقيہ کے سوا کچھ بھي نہي ?

حوزہ علميہ قم ميں درس خارج فقہ کے اس نامور استاد نے کہا : مجرم ، گناہ گار برزخ اور قبر ميں عذاب کا مزا چکھے گا ? روايات ميں موجود ہے کہ حيوانات اس منظر کو ديکھ کر بھاگ کھڑے ہوں گے ، انسان وجنات نہي سمجھتے مگر حيوانات سمجھتے ہيں ? اگر چہ حيوانات موجودہ صلاحيتوں سے بالاتر نہي جاسکتے جيسے شھد کي مکھياں اور چينوٹياں اپني تمام عجائيبات کے باوجود ھزاروں سال سے اسي طرح ہيں ان ميں کوئي تبديلي واقع نہي ہوئي ، انہوں نے ترقي نہي کيا مگر انسان خدا کي دي ہوئي نعمتوں کا استعمال نہ کرے تو «کالانعام بل هم اضل » حيوانوں سے بھي گيا گزرا ہے ?

حضرت آيت ‌الله جوادي آملي نے ايت شريفہ «فتبسم ضاحکا من قولها» کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : حضرت سليمان عليه ‌السلام کا چينوٹي کي شکرگزاري پر مسکرانا اس وجہ سے تھا کہ وہ سمجھانا چاہ رہے تھے کہ اگر ميري حکومت ميں چينوٹي پر بھي زيادتي ہوتي تو ھم اس سے اگاہ ہوتے ، اس حکومت ميں چينوٹي کے ساتھ بھي زيادتي نہي ہوتي ? اور اگرميري حکومت ميں انہيں کسي قسم کا گزند پہونچا ہوبھي تو غفلت کي بنياد پر ہے ، ھميں متوجہ رہنا چاھئے کہ ھم غفلت نہ کريں ?

حضرت آيت الله جوادي آملي نے آيه شريفه «فَتَبَسَّمَ ضَاحِکًا مِّن قَوْلِهَا وَقَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِکَ فِي عِبَادِکَ الصَّالِحِينَ» کي تفسير ميں کہا : حضرت کي يہ دعا وحي عملي سے متعلق ہے ? يعني انسان اپنے اندر کسي سمت رجحان يا لگاو محسوس کرتا ہے تو «و اوحي اليهم فعل الخيرات» کا مصداق ہے ? اور کبھي انسان کسي عمل کو انجام دينے کا ارادہ کرتا ہے تو فضل وخدا کي عنايت کي بنياد پر ہے «ذلک فضل الله يؤتيه من يشاء» ? وہ جانتا تھا کہ اعتکاف اچھا عمل ہے مگر اسے انجام نہي ديتا تھا اور اج اس کے انجام کا رجحان پيدا ہونا خدا کي عنايت کے سبب ہے ?

انہوں نے مزيد کہا : حضرت سليمان عليه‌ السلام نے خدا کي بارگاہ ميں دعا کي انہيں وہ صلاحيت عطا کرے کہ اس کا شکر بہ موقع انجام دے سکيں ، يعني انہيں عمل کي نعمت عطا کرے ?

حوزہ علميہ قم ميں درس خارج فقہ کے اس نامور استاد نے حضرت سليمان عليه السلام «وَأَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِکَ فِي عِبَادِکَ الصَّالِحِينَ» کي دعا کے سلسلے ميں کہا : خدا کے اطاعت گزار بندوں کے ساتھي بھي اچھے ہوتے ہيں جيسا کہ قران کريم کا فرمان ہے کہ «وَ مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَ الرَّسُولَ فَأُولئِکَ مَعَ الَّذينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَ الصِّدِّيقينَ وَ الشُّهَداءِ وَ الصَّالِحينَ وَ حَسُنَ أُولئِکَ رَفيقاً»، انبياء، صديقين، شهداء اور صالحين راستے ميں کثير زاد راہ کے ساتھ موجود ہيں اور اطاعت گزار بندہ بھي اسي قافلہ کا حصہ ہے ?

تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬