حداد عادل نے بيداري اسلامي کانفرنس ميں بيان کيا ؛

رسا نيوزايجنسي کے رپورٹرکي رپورٹ کے مطابق ، ايراني پارليمنٹ ميں ثقافتي کميشن کے ذمہ دار غلام علي حداد عادل نے " بيداري اسلامي امام خميني و رهبرمعظم انقلاب اسلامي کے افکار کي نگاہ ميں " منعقدہ کانفرنس ميں جو اج ظھر سے پہلے ريڈو ٹي وي کانفرنس ہال تہران ميں منعقد ہوا تاکيد کي : اج پوري دنيا کي نگاہ انقلاب جمهوري اسلامي ايران پر گڑي ہوئي ہے اور سبھي جاننا چاھتے ہيں کہ ھم کس طرح مغربي اور امريکي اقتدار سے مقابلہ کرتے ہيں ?
حداد عادل نے اس بات کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ گذشتہ صديوں ميں اسلامي اور عيسائي تہذيبوں کے درميان بہت زيادہ فرق رہا ہے کہا : گذشتہ زمانے ميں مسلمان اور عيسائي برابر تھے مگر سولہويں صدي کے بعد سے مغربي دنيا ميں تبديلياں رونما ہوئي اور يوروپ مادي ومالي حوالے سے ترقي يافتہ ہوا اور اس توازن کے ختم ہوتے ہي مغربي دنيا کي ترقي اور اسلامي ممالک کي پستي واضح ہوگئي ? بيسويں صدي ميں اگر چہ مقبوضہ ممالک ميں بظاھر استقلال ايا مگر يہ تبديلياں بھي اسلامي ممالک کي سياسي طاقت ميں تبديلي کا سبب نہ بن سکيں ?
شہر تھران کے ممبر اف پارليمنٹ نے اپني اس تقرير کے دوسرے حصے ميں مشرق وسطي ميں غاصب صھيونيت کے وجود ميں انے کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : مشرق وسطي ميں غاصب صھيونيت کا وجود ميں انا اسلامي دنيا کے گلے ميں خنجر گھونپ دينے کے مانند تھا اور امام خميني (رہ) کے فرمان کے مطابق اسرائيل کا وجود کينسر کا ٹومر تھا ?
انہوں نے مزيد کہا : پاکستان کا بننا بھي اسلامي دنيا کے لئے نہايت اھم تھا کيوں کہ طے تھا کہ پاکستان ايک ايسا اسلامي ملک بنے گا جہاں تمام مسلمان يکجا ہوں گے مگر افسوس مغربي دنيا نے ايک طاقتوراسلامي ملک بننے سے پاکستان کو روک ديا ?
حداد عادل نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ جب بھي کسي ملک نے خود کو مستقل ہونے کي کوشش کي مغربي دنيا نے حکومت کے دو نمونے سامنے رکھ کر اس کے استقلال کو ختم کرديا کہا : اج بظاھر پاکستان اور ٹرکي ميں جمھوري کا دورودورہ ہے مگر امريکا جب بھي چاھتا ہے اپنے فوجي جنرلس کي ذريعہ ملک کے مسائل ميں مداخلت کرتا ہے ?
انہوں نے مزيد کہا : هر 10 سال ميں ايک بار پاکستان کي جمھوريت کو ضربہ لگتا ہے ، ايک فوجي جنرل بظاھر نظم کا نارہ لگا کر امريکا کے من موافق کام انجام ديتا ہے ?
حداد عادل نے مشرق وسطي ميں مغربي دنيا کي دي ہوئي دوسري جمھوريت کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : گذشتہ زمانے ميں مغربي دنيا کوشش ميں رہي کہ ايران اور اردن جيسے اسلامي ممالک ميں شاہنشاہيت قائم کرکے براہ راست اپنا اقتداربرقرار رکھے ، اس زمانے ميں اسلامي دنيا مغرب کا سامان استعمال کرنے والي تھي اور اسلامي سرزمين مغرب کي فوجي چھاوني تھي ?
ايراني پارليمنٹ ميں ثقافتي کميشن کے ذمہ دار نے کہا : ايسے حالات ميں ايران ميں ايک مذھبي رہنما امام خميني (رہ) کي رہنمائي ميں انقلاب ايا جو سامراجي نظام کے خلاف اور حقيقي استقلال کے ائينے ميں تھا ? اور فکري حوالے سے بھي نه شرقي، نه غربي، جمهوري اسلامي کي بنيادوں پر استوار تھا اور امام خميني(رہ) نے خدا کے بھروسے اور عوام کي حمايت ميں خالي ہاتھوں ان سے مقابلہ کيا ?
انہوں نے اپنے تقرير کے ايک دوسرے حصے ميں يہ کہتے ہوئے کہ اج اسلام قدرتمند نظام کے حوالے سے پہچانا جارہا ہے کہا : اج پوري دنيا کي نگاہ انقلاب جمهوري اسلامي ايران پر گڑي ہوئي ہے اور سبھي جاننا چاھتے ہيں کہ ھم کس طرح مغربي اور امريکي اقتدار سے مقابلہ کرتے ہيں ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے