آيتالله جوادي آملي کے تفسير کے درس ميں بيان کيا گيا :

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق حضرت آيت الله عبدالله جوادي آملي نے مسجد اعظم قم ايران ميں علماء اور طلاب کے درميان سورہ مبارکہ نمل کي تفسير کے سلسلہ درس کو جاري رکھتے ہوئے کہا : يقينا انبياء عليہم السلام علم ملکوتي اور علم غيب کے مالک ہيں ليکن عام طور سے اس علم کے مطابق عمل نہي کرتے ہيں ? انبيا و ائمه عليهم السلام جو کہ روز قيامت اپني امت کي گواہي دے نگے لہذا ان کے پاس اس علم کا ہونا ضروري ہے ?
حوزہ علميہ قم ميں تفسير کے استاد نے کہا : اگر يہ لوگ اپنے ملکوتي علم کے مطابق عمل کريں تو عوام گناہ نہ کرنے پر مجبور ہو جائے ، فقط جہاں پہ ضرورت پيش ا?تي ہے وہاں پر اس علم کا استعمال کرتے ہيں ? ليکن امام زمانہ عليہ السلام کے سلسلہ ميں جو ادارے يا سينٹر تحقيقي کام انجام دے رہي ہيں ان کو اس سلسلہ ميں کوشش زيادہ کرني چاہيئے اور اس موضوع پر زيادہ تحقيق ہو کہ کيا امام کے ظہور کے زمانہ ميں تمام امور علم غيب کے مطابق انجام پائے نگے يا يہ کہ اکثر جو لوگ منصب قضاوت پر ہيں علم غيب نہي رکھتے اور ظاھري حکام کے مطابق حکم کرتے ہيں ليکن خود امام اپنے ملکوتي علم پر عمل کرتے ہيں يا کبھي کبھي اس علم سے استفادہ کرتے ہيں ?
حضرت آيتالله جوادي آملي نے وضاحت کي : ظاہر يہ ہے کہ امام کے ظہور کے زمانہ ميں دنيا بھر کي عدالتيں امام کے شاگرد اور علماء کے ذريعہ ادارہ ہونگے اور ان ميں سے اکثر کے پاس علم غيب نہي ہے وہ اپنے ظاھري علم پر عمل کرے نگے ? مگر جہاں امام زمانہ عليہ السلام براہ راست خود کام کو انمام دے نگے وہاں حضرت خضر عليہ السلام کي طرح اپنے ملکوتي علم سے استفادہ کرے نگے اور کبھي امام حسن و امام حسين عليهما السلام کي طرح ظاھري دلائيل اور وجوہات کے مطابق حکم کرے نگے مگر جہاں جس طرح کي ضرورت پيش ا?ئے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے