رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹ کے مطابق ، جماعت اسلامی لبنان کا سیاسی مجموعہ ، گذشته روز اپنے مسلسل نشست کے انعقاد کے بعد ، جاری کئے گئے بیانیہ میں لبنان کے خلاف اندرونی و بیرونی پر حجم دھمکی کو اس ملک کے سیستمداروں کے لئے اعلان خطر بتایا اور قومی منافع کی اھمیت کو مقدم رکھنا اور ملک کے ثبات و امنیت ، اور وحدت ملی حکومت کی تشکیل دینے میں تیزی کی ضرورت کی طرف تاکید کی ہے ۔
اس بیانیہ میں لبنان کے مختلف علاقہ میں ہوئے آخری امنیتی حادثہ نے اس ملک کی اھم ضرورت کی تائید کی اور حکومت جاری و یک پارچہ کو اس بات کی طرف تاکید کی تا کہ لبنان کا اقتصادی ، اجتماعی ، و امنیتی مسئلہ حل ہو اور کہا : لبنان کے پاس اتنی صلاحیت نہی ہے کہ وہ بغیر اسلحہ کے اسرائیلی صھیونی دشمن کے مقابلہ کرے و اس کے لالچ کا شکار بنا رہے ۔
جماعت اسلامی لبنان نے دوسری طرف صھیونی حکومت کی مسجدالاقصی و بیت المقدس پر تجاوز و مظالم کرنے پراس کو محکوم کیا اور اس کا مقابلہ کرنے کے لئے عرب اور اسلامی ممالک کو آپس میں کامل طور سے مل کر اس اھم ضرورت پر صحیح موقف اختیار کرنے کی بات کی اور اسرائیلی غاصب صھیونی حکومت کی دھمکی کا مقابلہ کرتے ہوئے فلسطینی مظلوم عوام کا ساتھ دینے کی تاکید کی ۔
جماعت اسلامی لبنان کے سیاستمداروں کے مجمع نے اسی طرح ترکی ملک کے موقف کی قدردانی کی جو گذشتہ ایام میں اسرائیلی صھیونی حکومت کے مشارکت سے ہونے والی فوجی تمرین سے انکار کردیا ، اسی طرح تمام عربی اور اسلامی ممالک اسرائیلی صھیونی حکومت سے ھر طرح کے رابطہ کو ختم کرنے کی اپیل کی ہے ۔
دوسری طرف جبهه عمل اسلامی لبنان نے بھی آپسی اتحاد اور همبستگی کے ساتھ فلسطینی عوام کاجنوب لبنان کے عکار میں شھر برقایل میں ساتھ دینے کی تاکید کی ، مسلمانوں کے درمیان مسجدالاقصی و بیت المقدس کی شان و منزلت ہے اس کی طرف اشارہ کیا اور جھاد و اسلحہ کے ساتھ مقابلہ کرنے کو جس کی وجہ سے لبنان و غزہ کی کامیابی بطور تحفہ لبنان و فلسطین اور دوسرے عربی ممالک کے لئے باعث افتخار و عزت ہوئی تاکید کی ۔