22 May 2012 - 13:19
خبر کا کوڈ: 4134
فونت
رسا نيوزايجنسي - مجلس وحدت مسلمين شعبہ خواتين کي جانب سے منعقدہ عظيم الشان اجتماع ميں مقررين نے موجودہ زمانے ميں آزادي نسواں کے عالمي نعروں کو محض فريب اور دھوکہ بتايا ?
اجتماع

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، مجلس وحدت مسلمين شعبہ خواتين نے المحسن ہال ميں جشن فاطمہ الزہرا(س) کا انعقاد کيا جس ميں پاکستان اور بيرون پاکستان کي معروف ومشھور شخصيتوں نے شرکت کي ?

ممتازايراني اسکالر خانم عبدالہي نے يہ کہتے ہوئے کہ اسلام سے وابستگي کے دعويداروں کي ھدايت اور رہنمائي کا منبع قرآن کريم اور سنت رسول اکرم (ص) ہے تاکيد کي : قرآني احکام اورتمام مسلمانوں کے مسلمہ و متفقہ عقيدے کے مطابق پيغمبر گرامي (ص) کي ذات مبارک عالم اسلام کے لئے نمونہ عمل ہے ?

انہوں نے مزيد کہا : پيغمبراسلام (ص) کي اپني ہدايت اور راہنمائي کے مطابق حضرت سيدہ فاطمہ زہرا (س) کي شخصيت خواتين عالم کے لئے بہترين نمونہ عمل اور آئيڈيل ہيں ?

اس اجتماع کے دوسرے مقررمجلس وحدت مسلمين کے ڈپٹي جنرل سکريٹري حجت الاسلام محمد امين شھيدي نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ حضرت فاطمہ زہرا ء ( س) کي مثالي زندگي سے خواتين اپنے ذاتي، اجتماعي اور معاشرتي مسائل کو حل کر سکتي ہيں تاکيد کي : جناب سيدہ عالم (س) کے بارے ميں پيغمبر اسلام (ص) کے فرامين ايک ايسي حقيقت ہيں جسے دنيا کے تمام مسلمان تسليم کرتے ہيں ?

انہوں نے يہ کہتے ہوئے کہ جناب سيدہ عالم (س) کا دختر رسول (ص) ہونے کے حوالے سے احترام اورعقيدت اپني جگہ ہے ليکن عالم نسواں کے لئے قيامت تک نمونہ عمل ہونا خود ايک منفرد اور نماياں پہلو ہے کہا : اپ کي ذات گرامي نے عمل اور اخلاق کے ميدان ميں اپني زندگي کے جو اصول اور نقوش چھوڑے ہيں وہ دائمي اور ابدي ہيں، اورانہيں کسي خاص زمانے، معاشرے يا علاقے تک مخصوص اور مختص نہيں کيا جاسکتا ?

اس اجتماع کے ديگر مقررين نے يہ کہتے ہوئے کہ سيدہ فاطمہ زہرا( س ) کي زندگي کے اصولوں کو اجاگر کرکے اور جديد دور کے تقاضوں کے مطابق ان اصولوں پر عمل کرکے ہي مسلم خواتين فلاح پا سکتي ہيں کہا : ان اصولوں کي آفاقيت اور افاديت اس قدر وسيع ہے کہ دنيائے بشريت کي تمام خواتين بلا تفريق رنگ و نسل اور مذہب و علاقہ ان اصولوں سے استفادہ کرکے کامياب زندگي گزار سکتي ہيں اور اخروي نجات کا سامان پيدا کرسکتي ہيں?

مقررين نے يہ کہتے ہوئے کہ آزادي نسواں کے عالمي نعروں کو اگر حضرت سيدہ فاطمہ زہرا س کے کردار کي روشني ميں ديکھا جائے تو موجودہ نعرے فريب اور دھوکے کے سوا کچھ نہيں تاکيد کي : سيرت زہرا(س) کي روشني ميں آزادي نسواں کے تصور اور نظريہ پر عمل کرنے سے عورت حقيقي معنوں ميں ترقي کرسکتي ہے، معاشروں کي تعمير کر سکتي ہے، نئي نسلوں کي کردار سازي کر سکتي ہے? سوسائٹي کو سنوارنے ميں اپنا کردار ادا کر سکتي ہے، اپنے ذاتي، اجتماعي اور معاشرتي مسائل کا حل تلاش کر سکتي ہے?

قابل ذکر ہے کہ اس اجتماع ميں خانم طيبہ اعجاز (اسلام آباد )، خانم طاہرہ فاضلي ،خانم عذرا عمار نے بھي تقريريں کيں ?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬