آيت الله جوادي آملي :

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، مفسر زمان حضرت آيت الله عبدالله جوادي آملي نے اج علماء وافاضل حوزہ علميہ قم ميں مجمع ميں ، مسجد اعظم قم ميں درس تفسير ميں سوريہ نمل کي تفسير کرتے ہوئے کہا کہ حاکم اگر دين کے زير سايہ حکومت کرے تو بطور احسن حکومت کرسکتا ہے ?
انہوں نے حضرت داوود عليه السلام کے ہاتھوں جالوت کے مارے جانے کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : ايسا نہيں کہ اگر خدا نے کسي سوپر پاور کي رسي ڈھيلي کررکھي ہے تو اسے روک نہي سکتا کيوں کہ اس نے فرمايا : «وَلَوْلا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَفَسَدَتِ الْأَرْضُ» اگر خدا نے بعض انسانوں کو بعض انسانوں سے محفوظ نہ رکھا ہوتا تو دنيا ختم ہوجاتي ? لھذا جب بھي کسي زمانے اور کسي مقام پر کسي جائر وظالم نے حکومت قائم کي اور فساد برپا کيا تو خدا نے کچھ لوگوں اسے لگام دينے کے لئے منتخب کيا ?
عصر حاضر کے اس نامور مفسر نے کہا : سورہ بقرہ ميں حضرت داوود عليه السلام کے قيام اور ان کي پيروزي کے سلسلے ميں بيان ہے کہ بعض افراد سوچ رہے تھے کہ اقدار کا معيار مال وثروت ہے ، جاہليت کے دور ميں بھي لوگ ايسا ہي سوچ رہے تھے ? اسي لئے جب طالوت کو حکمراں بنايا گيا تو انہوں نے کہا کہ ھم حکومت کے زيادہ حقدار ہيں کيوں کہ ھمارے پاس مال ہے جو طالوت کے پاس نہي ہے ?
حضرت آيتالله جوادي آملي نے ياد دہاني کي : جہاں بھي «نحن أحق» و «انا خير منه» کي بات ائے وہ شيطاني کلام ہے ? جيسا کہ شيطان نے کہا کہ ميں حضرت ادم سے برتر ہوں اسي لئے ان کا سجدہ بھي نہي کروں گا ? ان لوگوں نے بھي اپنے پيغمبر کے سلسلے ميں بھي يہي کہا کہ ھميں حکومت کا زيادہ حق ہے کيوں کہ ھمارے پاس مال و دولت ہے ? اور جہاں بھي اس طرح کي بات ہو کہ ، چونکہ ميرے پاس مال ودولت ہے لھذا ھم بہتر ہيں ، تو وہ شيطاني کلام ہوگا ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے