
ولادت باسعادت
اپ بتاريخ يکم رجب المرجب سن ?? ھ ق جمعہ کے دن مدينہ منورہ ميں پيدا ہوئے ?1 علامہ مجلسي اپ کے سلسلے ميں تحريرفرماتے ہيں کہ جب آپ بطن مادرميں تشريف لائے تواپ کے آباؤ اجداد کي طرح آپ کے گھرميں آوازغيب آنے لگي اورجب شکم مادر گرامي ميں نوماہ کے ہوئے توفرشتوں کي بے انتہا آوازيں آنے لگيں ? ولادت کي شب ايک نورساطع ہوا اورولادت کے بعد اپ نے قبلہ رخ ہوکرعبادت خدا کي اورانسانوں کے مانند تين بار چھينکنے کے بعد حمدخدا بجالائے،ايک شبانہ روزدست مبارک سے نورساطع رہا، آپ ختنہ کردہ ،ناف بريدہ، تمام آلائشوں سے پاک اورصاف متولدہوئے? 2 ? آپ کااسم گرامي ”لوح محفوظ“ کے مطابق اورسرورکائنات کي تعيين کے موافق ”محمد“ تھا آپ کي کنيت ”ابوجعفر“ اورآپ کے القاب کثيرتھے، جن ميں باقر،شاکر،ہادي زيادہ مشہورہيں ? 3
باقرکي وجہ تسميہ
حضرت امام محمدباقرعليہ السلام کواس لقب سے اس لئے ملقب کيا گيا تھا کہ آپ نے علوم ومعارف کونماياں فرمايا اورحقائق احکام وحکمت ولطائف کے وہ سربستہ خزانے ظاہرفرمادئيے جولوگوں پرظاہروہويدانہ تھے ? 4 علامہ سبط ابن جوزي اس وجہ تسميہ ميں بيان کرتے ہيں کہ کثرت سجودکي وجہ سے چونکہ آپ کي پيشاني وسيع تھي اس ليے آپ کوباقرکہاجاتاہے اورايک وجہ يہ بھي ہے کہ جامعيت علم کي وجہ سے آپ کويہ لقب دياگياہے ،شہيدثالث علامہ نوراللہ شوشتري کاکہناہے کہ آنحضرت نے ارشاد فرمايا ہے کہ محمد بن علي الباقرعلوم ومعارف کواس طرح شگافتہ کرديں گے جس طرح زراعت کے ليے زمين شگافتہ کي جاتي ہے ? 5
بادشاہان وقت :
آپ سن ?? ھ ميں معاويہ بن ابي سفيان کے عہدميں پيدا ہوئے سن ?? ھ ميں يزيد بن معاويہ کے زمان حکومت ميں رہے اورسن ?? ھ ميں معاويہ بن يزيد اورمروان بن حکم کي بادشاہت ميں رہے اور سن ?? ھ تک عبدالملک بن مروان خليفہ وقت رہا پھرسن ?? ھ سے سن ?? ھ تک وليدبن عبدالملک نے حکمراني کي ?
سن ?? ھ ميں وليدبن عبدالملک نے آپ کے والد ماجد امام چہارم علي بن الحسين کودرجہ شہادت پرفائزکرديا ، اسي کے بعد سن ?? ھ سے آپ کي امامت کا آغازہوا، اور ??? ھ تک آپ نے فرائض امامت ادا کئے ، اپ نے وليدبن عبدالملک کے بعد سليمان بن عبدالملک ،عمربن عبدالعزيز، يزيدبن عبدالملک اورہشام بن عبدالملک کي بادشاہت کا دور بھي ديکھا ? 6
کربلا ميں آپ کي عمرابھي ڈھائي سال کي بتائي جاتي ہے ، آپ نے اس کمسني ميں حضرت امام حسين عليہ السلام کے ہمراہ مدينہ منورہ چھوڑا ، مدينہ سے مکہ ، وہاں سے کربلا اور اس کے بعدواقعہ کربلاکے مصائب ديکھے، کوفہ وشام کے بازاروں اوردرباروں کاحال ديکھا ايک سال شام ميں قيدرہے پھر چھوٹ کر ?/ ربيع الاول سن ?? ھ کومدينہ منورہ واپس ائے?
سات سال کي عمراوراپ کا حج خانہ کعبہ
علامہ جامي تحريرفرماتے ہيں کہ راوي نے بيان کيا کہ ميں حج کے ليے جارہاتھا،راستہ پرخطراورانتہائي تاريک تھا جب ميں لق ودق صحراميں پہنچاتوايک طرف سے کچھ روشني کي کرن نظرآئي ميں اس کي طرف ديکھ ہي رہاتھا کہ ناگاہ ايک سات سال کا لڑکاميرے قريب آپہنچا ميں نے سلام کاجواب دينے کے بعد اس سے پوچھا کہ آپ کون ہيں؟ کہاں سے آرہے ہيں اورکہاں کا ارادہ ہے، اورآپ کے پاس زادراہ کيا ہے اس نے جواب ديا، سنوميں خدا کي طرف سے آرہاہوں اورخدا کے طرف سے جا رہاہوں ،ميرازادراہ ”تقوي“ ہے ميں عربي النسل،قريشي خاندان کاعلوي نزادہوں،ميرانام محمدبن علي بن الحسين بن علي بن ابي طالب ہے، يہ کہہ کروہ نظروں کے سامنے سے غائب ہوگئے اورمجھے پتہ نہ چل سکاکہ آسمان کي طرف پروازکرگئے يازمين ميں سماگئے ? 7
حضرت امام محمدباقر عليہ السلام اوراسلام ميں سکے کي ابتدا
مورخ شہيرذاکرحسين تاريخ اسلام ? 8 ميں لکھتے ہيں کہ عبدالملک بن مروان نے سن ?? ھ ميں امام محمد باقرعليہ السلام کي مشورے سے اسلامي سکہ جاري کيا اس سے پہلے روم وايران کاسکہ اسلامي ممالک ميں بھي چلتا تھا?
علامہ دميري کے تحرير کرتے ہيں کہ ايک دن علامہ کسائي سے خليفہ ہارون رشيدعباسي نے پوچھا کہ اسلام ميں درہم ودينارکے سکے، کب اورکيونکررائج ہوئے انہوں نے کہا کہ سکوں کا اجراء خليفہ عبدالملک بن مروان نے کياہے ليکن اس کي تفصيل سے ناواقف ہوں اورمجھے نہيں معلوم کہ ان کے اجراء اورايجاد کي ضرورت کيوں محسوس ہوئي، ہارون الرشيد نے کہاکہ بات يہ ہے کہ زمانہ سابق ميں جوکاغذ وغيرہ اسلامي ممالک ميں مستعمل ہوتے تھے وہ مصرميں تيارہواکرتے تھے جہاں اس وقت نصرانيوں کي حکومت تھي اوروہ تمام کے تمام بادشاہ روم کے مذہب برتھے وہاں کے کاغذ پرجوضرب يعني ٹريڈمارک ہوتا تھا،اس پر رومي زبان ميں " اب، ابن، روح القدس " لکھا ہوتا ( فلم يزل ذلک کذالک في صدرالاسلام کلہ بمعني علوما کان عليہ ،الخ)?
اوريہي چيزاسلام ميں جتنے دورگذرے تھے سب ميں رائج تھي يہاں تک کہ جب عبدالملک بن مروان کازمانہ آيا، توچونکہ وہ بڑاذہين اورہوشياربادشاہ تھا، لہذا اس نے ترجمہ کراکے گورنرمصرکولکھاکہ تم رومي ٹريڈمارک کوموقوف ومتروک کردو،يعني کاغذ کپڑے وغيرہ جواب تيارہوں ان ميں يہ نشانات نہ لگنے دوبلکہ ان پريہ لکھوادو ”شہداللہ انہ لاالہ الاہو“ چنانچہ اس حکم پرعمل درآمدکياگيا جب اس نئے مارک کے کاغذوں کاجن پرکلمہ توحيد ثبت تھا،رواج پايا توقيصرروم کوبے انتہا ناگوارگزرا اس نے تحفہ تحائف بھيج کرعبدالملک بن مروان خليفہ وقت کولکھا کہ کاغذ وغيرہ پرجو”مارک“ پہلے تھا وہي بدستورجاري کرو،عبدالملک نے ہدايا لينے سے انکارکرديا اورسفيرکو تحائف وہدايا سميت واپس بھيج ديا اوراس کے خط کاجواب تک نہ ديا قيصرروم نے تحائف کودوگنا کرکے پھربھيجا اورلکھا کہ تم نے ميرے تحائف کوکم سمجھ کرواپس کرديا اس ليے اب اضافہ کرکے بھيج رہاہوں اسے قبول کرلواورکاغذ سے نيا”مارک“ ہٹادو، عبدالملک نے پھرہدايا واپس کردئے اورمثل سابق کوئي جواب نہيں ديا اس کے بعد قيصرروم نے تيسري مرتبہ خط لکھا اورتحائف وہدايا بھيجے اورخط ميں لکھا کہ تم نے ميرے خطوط کے جوابات نہيں دئے ،اورنہ ميري بات قبول کي اب ميں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگرتم نے اب بھي رومي ٹريڈمارک کوازسرنورواج نہ ديا اورتوحيد کے جملے کاغذ سے نہ ہٹائے توميں درہم ودينار کے سکہ پرتمہارے رسول کوگالياں نقش کراکے تمام اسلامي ممالک ميں رائج کردوں گا اورتم کچھ نہ کرسکوگے ديکھواب جوميں نے تم کولکھاہے اسے پڑھ کرارفص جبينک عرقا،اپني پيشاني کا پسينہ پوچھ ڈالواورجوميں کہتا ہوں اس پرعمل کروتاکہ ہمارے اورتمہارے درميان جورشتہ محبت قائم ہے بدستورباقي رہے?
عبدالملک ابن مروان نے جس وقت اس خط کوپڑھا اس کے پاؤں تلے سے زمين نکل گئي ، ہاتھ کے طوطے اڑگئے اورنظروں ميں دنيا تاريک ہوگئي اس نے کمال اضطراب ميں علماء و افاضل ، اہل الرائے اورسياست دانوں کوفوراجمع کرکے ان سے مشورہ طلب کيا اورکہاکہ کوئي ايسي بات سوچوکہ سانپ بھي مرجائے اورلاٹھي بھي نہ ٹوٹے يا سراسراسلام کامياب ہوجائے، سب نے سرجوڑکربہت ديرتک غورکيا ليکن کوئي ايسي رائے نہ دے سکے جس پرعمل کياجاسکتا ”فلم يجد عنداحدمنہم رايايعمل بہ“ جب بادشاہ ان کي کسي رائے سے مطمئين نہ ہوسکا تواورزيادہ پريشان ہوا تو دل ميں کہنے لگا ميرے پالنے والے اب کيا کروں ابھي وہ اسي تردد ميں بيٹھاتھا کہ اس کا وزيراعظم”ابن زنباع“ بول اٹھا، بادشاہ تويقيناجانتا ہے کہ اس اہم موقع پراسلام کي مشکل کشائي کون کرسکتاہے ، ليکن عمدا اس کي طرف رخ نہيں کرتا، بادشاہ نے کہا ”ويحک من“ خداتجھ سے سمجھے، توبتاتوسہي وہ کون ہے؟ وزيراعظم نے عرض کي ”عليک بالباقرمن اہل بيت النبي (ص) “ ميں فرزند رسول امام محمدباقرعليہ السلام کي طرف اشارہ کررہاہوں اوروہي اس آڑے وقت ميں تيرے کام آسکتے ہيں ،عبدالملک بن مروان نے جونہي آپ کا نام سنا کہا " قال صدقت " کہنے لگا خداکي قسم تم نے سچ کہا اورصحيح رہبري کي ہے?
اس کے بعد اس نے وقت فورا مدينہ اپنے گورنر کو لکھا کہ اس وقت اسلام پرايک سخت مصيبت آگئي ہے اوراس کا دفع ہونا محمد بن علي الباقرکے بغيرناممکن ہے لہذا جس طرح ہوسکے انھيں راضي کرکے ميرے پاس بھيج دو، ديکھواس سلسلہ ميں جو مصارف ہوں گے وہ بذمہ حکومت ہوں گے ?
عبدالملک نے درخواست مدينہ ارسال کرنے کے بعد شاہ روم کے سفيرکونظر بندکرديا اورحکم دياکہ جب تک ميں اس مسئلہ کوحل نہ کرسکوں اسے پايہ تخت سے جانے نہ دياجائے?
حضرت امام محمدباقرعليہ السلام کي خدمت ميں عبدالملک بن مروان کاپيغام پہنچا اورآپ فوراعازم سفرہوگئے اوراہل مدينہ سے فرمايا کہ چونکہ اسلام کا کام ہے لہذا ميں تمام اپنے کاموں پراس سفرکوترجيح ديتا ہوں ? الغرض آپ وہاں سے روانہ ہوکرعبدالملک کے پاس جاپہنچے، بادشاہ چونکہ سخت پريشان تھا،اس ليے اس نے آپ کے استقبال کے فورابعدعرض مدعي کيا ،امام عليہ السلام نے مسکراتے ہوئے فرمايا”لايعظم ہذاعليک فانہ ليس بشئي“ اے بادشاہ سن، مجھے بعلم امامت معلوم ہے کہ خدائے قادروتوانا قيصرروم کواس فعل قبيح پرقدرت ہي نہ دے گا اورپھرايسي صورت ميں جب کہ اس نے تيرے ہاتھوں ميں اس سے عہدہ برآہونے کي طاقت دے رکھي ہے بادشاہ نے عرض کي يابن رسول اللہ وہ کونسي طاقت ہے جومجھے نصيب ہے اورجس کے ذريعہ سے ميں کاميابي حاصل کرسکتاہوں?
حضرت امام محمدباقرعليہ السلام نے فرماياکہ تم اسي وقت حکاک اور کاريگروں کوبلا اوران سے درہم ودينارکے سکے ڈھلوا اوراسلامي ممالک ميں رائج کردے ، اس نے پوچھا کہ ان کي کيا شکل وصورت ہوگي اوروہ کس طرح ڈھليں گے؟ امام عليہ السلام نے فرمايا کہ سکہ کے ايک طرف کلمہ توحيد دوسري طرف پيغمراسلام کا نام نامي اورضرب سکہ کا سن لکھاجائے اس کے بعد اس کے اوزان بتائے آپ نے کہا کہ درہم کے تين سکے اس وقت جاري ہيں ايک بغلي جودس مثقال کے دس ہوتے ہيں دوسرے سمري خفاف جوچھ مثقال کے دس ہوتے ہيں تيسرے پانچ مثقال کے دس ،يہ کل ??/ مثقال ہوئے اس کوتين پرتقسيم کرنے پرحاصل تقسيم ?/ مثقال ہوئے،اسي سات مثقال کے دس درہم بنوا،اوراسي سات مثقال کي قيمت سونے کے دينارتيارکرجس کاخوردہ دس درہم ہو،سکہ کانقش چونکہ فارسي ميں ہے اس ليے اسي فارسي ميں رہنے دياجائے ،اوردينارکاسکہ رومي حرفوں ميں ہے لہذا اسے رومي ہي حرفوں ميں کندہ کرايا جائے اورڈھالنے کي مشين (سانچہ) شيشے کا بنواياجائے تاکہ سب ہم وزن تيارہوسکيں?
عبدالملک نے آپ کے حکم کے مطابق تمام سکے ڈھلواليے اورسب کام درست کرليا اس کے بعدحضرت کي خدمت ميں حاضرہوکردريافت کيا کہ اب کياکروں؟ ”امرہ محمدبن علي“ آپ نے حکم ديا کہ ان سکوں کوتمام اسلامي ممالک ميں رائج کردے، اورساتھ ہي ايک سخت حکم نافذ کردے جس ميں يہ ہوکہ اسي سکہ کواستعمال کياجائے اوررومي سکے خلاف قانون قرارديئے گئے اب جوخلاف ورزي کرے گا اسے سخت سزادي جائے گي اوربوقت ضرورت اسے قتل بھي کياجاسکے گا?
عبدالملک بن مروان نے تعميل ارشاد کے بعد سفيرروم کورہا کرکے کہا کہ اپنے بادشاہ سے کہنا کہ ہم نے اپنے سکے ڈھلواکررائج کرديے اورتمہارے سکہ کوغيرقانوني قراردے ديا اب تم سے جوہوسکے کرلو?
سفيرروم يہاں سے رہا ہوکرجب اپنے قيصرکے پاس پہنچا اوراس سے ساري داستان بتائي تووہ حيران رہ گيا اورسرڈال کرديرتک خاموش بيٹھا سوچتارہا ، لوگوں نے کہا بادشاہ تونے جويہ کہا تھا کہ ميں مسلمانوں کے پيغمبرکوسکوں پرگالياں کنداکرادوں گا اب اس پرعمل کيوں نہيں کرتے اس نے کہاچکہ اب گالياں کندا کرکے کياکروں گا اب توان کے ممالک ميں ميراسکہ ہي نہيں چل رہا اورلين دين ہي نہيں ہورہا ہے ? 9
حوالجات :
??????????????????????????????????
1 : اعلام الوري ص ??? ،جلاء العيون ص ??? ،جنات الخلود ص ?? ?
2 : جلاء العيون ص ???)
3 : جلاء العيون ص ??? ، مطالب السؤل ص ??? ، شواہدالنبوت ص ???
4 : صواعق محرقہ،ص ??? ،مطالب السؤل ص ??? ،شواہدالنبوت صذ ??? ?
5 : مجالس المومنين ص ???
6 : اعلام الوري ص ???
7 : شواہدالنبوت ص ???
8 : جلد ? ص ??
9 : حيواة االحيوان دميري المتوفي ??? ھ جلد ? طبع مصر ???? ھ ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے