27 May 2012 - 15:18
خبر کا کوڈ: 4157
فونت
رسا نيوزايجنسي - ايران کي پارليمنٹ مجلس شورائے اسلامي کا نواں دور آج اتوار 27 مئي سنہ 2012 کي صبح کو رہبر معظم انقلاب آيت اللہ العظمي خامنہ اي دام ظلہ کے اہم پيغام سے شروع ہوا?
قائد انقلاب اسلامي

رسا نيوزايجنسي کي رھبر معظم انقلاب اسلامي کي خبر رساں سائٹ سے مقنولہ رپورٹ کے مطابق ، رہبر معظم انقلاب کے اہم پيغام سے ايراني پارليمنٹ کے نويں دورکے اغاز ہوا ، اس پيغام کو نويں پارليمنٹ کي افتتاحي تقريب ميں رہبر انقلاب اسلامي کے دفتري امور کے نگران اعلي حجت الاسلام و المسلمين جناب محمدي گلپائگاني نے پڑھ کر سنايا?

اس کا تفصيلي متن يہ مندرجہ ذيل ہے :

بسم اللہ الرحمن الرحيم

اسلامي جمہوريہ ميں قانون سازي کے نويں دور کا آغاز، خداوند حکيم و قدير کے منشا و ارادے کے تحت، قوت و اقتدار سے معمور وہ پيغام ہے جس ميں ملت ايران نے معاصر دنيا کو مخاطب قرار ديا ہے اور مختلف قوموں کي رائے عامہ کے ذہنوں ميں کبھي مٹائے نہ جانے والے حقائق ثبت کر دئے ہيں? دشمنيوں کے ہجوم ميں قومي عزم و ارادے کي کامراني، اسلامي انقلاب پر استوار انتظامي ڈھانچے کي پختگي اور نظام کا استحکام، ايک قوم کي سرنوشت اور زندگي کي راہوں کے تعين ميں ايمان و بصيرت کا منفرد و بے مثال کردار اور پھر ايک ايسي ملت کي سچي تصوير کہ جس نے پہلي مرتبہ اسلامي جمہوريت کي بالادستي نہ صرف زبان سے بلکہ اپني سخت و دشوار مجاہدت کے ذريعے دنيا کے سامنے پيش کرکے معاشرتي زندگي سے دين کي جدائي کے دعوے کو باطل کر ديا ہے انہي موثر حقائق اور دائمي نقوش کا ايک حصہ ہے?

عالمي رائے عامہ تک اس بصيرت افروز و پرمغز پيغام کے پہنچانے ميں ملت ايران کي کاميابي ايک اور لطف و عنايت ہے جو اس دشوار راہ سے گزرنے ميں خدائے قوي و مہربان کي جانب سے ہميشہ نصرت و رہنمائي کي صورت ميں شامل حال رہي ہے اور اس نے اس مومن و مجاہد ملت کو کبھي بھي اکيلا نہيں چھوڑا ہے? ہم اپنے پورے وجود کے ساتھ خدائے عزوجل کے شکر گزار ہيں اور اس کي با عظمت بارگاہ ميں ہماري پيشاني سجدہ ريز ہے?

اسي طرح ميں واجب سمجھتا ہوں کہ قلب کي گہرائيوں کے ساتھ ايران کي اس تاريخ ساز عظيم ملت کي تکريم اور قدرشناسي کے لئے درود بھيجوں کہ انہوں نے ہميشہ کي طرح اس امتحاني ميدان ميں بھي اپني بروقت حاضري اور موجودگي کے ذريعے اپني بصيرت، خود اعتمادي اور زمانہ کي صحيح شناخت کا ثبوت پيش کيا ہے?

نيز ميں اپنا فريضہ سمجھتا ہوں کہ ملک کے حکام، وزارت داخلہ ميں انتخابات کے انعقاد کے نگراں ادارے، فقہا اور قانون دانوں کي سپريم کونسل "شورائے نگہبان" اور اس ميدان ميں سرگرم پوري معاون مشينري خصوصا قومي ذرائع ابلاغ، انتظامي اراکين سيکورٹي فورسز، مذہبي و سياسي گروہ اور شخصيتيں کہ جنہوں نے اپني اپني جگہ کسي بھي سطح پر اس "عوامي کارنامہ" کے انعقاد ميں کوئي کردار ادا کيا ہے ان سب کي قدرداني اور شکريہ ادا کروں? اسي طرح لازم ہے کہ آٹھويں پارليمنٹ کے تمام اراکين او راس کے اسپيکر کا، ان خدمتوں کے سلسلے ميں جن کي انہوں نے اپني بھاري ذمہ داريوں کے دوران انجام دہي کي توفيق حاصل کي ہے صميم دل سے شکريہ ادا کروں?

اب نويں پارليمنٹ کے طلوع و آغاز کے موقعے پر محترم نمائندوں کي خدمت ميں ميري جانب سے بنيادي ترين نصيحت يہ ہے کہ انہوں نے جو پرخطر مقام عوام کي رائے سے حاصل کيا ہے وہاں صرف الہي ذمہ داري کے ساتھ قومي نمائندگي کے بھاري فرائض کي ادائگي کے لئے بيٹھيں اور شخصي، گروہي، جماعتي اور علاقائي جذبوں اور دوستي و دشمني کو قانون سازي ميں جو "مجلس شورائے اسلامي" کا اہم ترين فريضہ ہے نيز قانون پر عمل درآمد کي نگراني کے مرحلے ميں اور يقيني طور پر ملکي فضاء کو متاثر کرنے والے موقفوں ميں بھي، ہرگز دخيل نہ ہونے ديں? ان سب ميں سر فہرست قانون ہے? قانون کو مفيد و کارآمد، عصري تقاضوں سے ہماہنگ، شفاف، عمومي ضرورتوں پر مرکوز، قومي مفادات کي تکميل کا حامل ہونا چاہئے? ترقي و انصاف کي دہائي ميں تمام قوانين وہ ہونے چاہئے جو ان دونوں عوامي پہچان کو عملي جامہ پہنانے ميں مدد کريں اور طويل المدت نقطہ نگاہ سے جس قدر بھي طويل و عريض ہونا ممکن ہے اس کا دامن زيادہ سے زيادہ وسيع ہونا چاہئے? تا کہ قانون ملک کي اولويتوں پر حاوي و محيط ہو اور قانون سازي کے اہتمام ميں مناسب مقام پيدا کر سکے?

ايراني پارليمنٹ "مجلس شورائے اسلامي" ملک اور اسلامي نظام کا ايک بنيادي رکن ہے? وہ تمام چيزيں جو اسلامي نظام ميں ايک امتياز اور پہچان کي حيثيت رکھتي ہيں، انہيں "مجلس" ميں متجلي و منعکس ہونا چاہئے? ايمان، شجاعت، تقدم، نظام کي بنيادوں پر استقامت، دشمنوں کے مقابلے ميں ثبات و اولوالعزمي، عصري تقاضوں سے ہم آہنگي، جدت و خلاقيت، اتحاد اور قومي يکجہتي، جذبہ قرباني کے ساتھ کار و کوشش، تمام انفرادي اور اجتماعي قوتوں اور صلاحيتوں کو بروئے کار لانا وہ نشانياں ہيں جو ايک کامياب "مجلس" کي شناسائي کر سکتي ہيں?

(ملک کي) دوسري قوتوں کے ساتھ حقيقي اور مخلصانہ تعاون اور بلا وجہ کي دشوارياں ايجاد کرنے سے پرہيز بھي ايک اور اہم علامتي نشان ہے جو قومي يکجہتي ميں فيصلہ کن کردار کا حامل ہے اور ملک سے ہمدردي رکھنے والوں نے ہميشہ اس پر زور ديا ہے اور دنيا کي نگاہ ميں عوامي مفادات اور ملت ايران کي وجاہت اسي سے وابستہ سمجھي جاتي ہے? يہ نصيحت ہميشہ ملک کي دوسري قوتوں نيز تمام ذمہ دار افراد اور ڈھانچوں سے بھي تعلق رکھتي ہے اور سبھي کو قانون اور آئين کو "فصل الخطاب" يعني آخري مرحلہ سمجھنا چاہئے?

ميں نے "مجلس" کے پچھلے دوروں ميں بھي اپنے محترم نمائندوں کي خدمت ميں بعض نصيحتيں عرض کي ہيں اور انہيں فريضے کي ادائگي کي طرف، جو اس چند روزہ دنيا اور ميدان آخرت ميں خداوند عالم کي عدل پرور نگاہوں سے اوجھل نہ ہو سکنے والي ذمہ داري ہے، پہلے بھي متوجہ کيا ہے اور آج بھي ميں تمام محترم نمائندوں کو مخلصانہ طور پر ان گزارشوں کي طرف متوجہ کر رہا ہوں?

آخر ميں پيغمبر اعظم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم، ديگر انبيائے کرام، ائمہ معصومين عليہم السلام اور حضرت ولي اللہ الاعظم روحي فداہ کي خدمت ميں تحي? و سلام پيش کرتا ہوں اور شہيدوں کي ارواح طيبہ اور ان شہيدوں کے امام (امام خميني رحمت اللہ عليہ) پر درود کے ساتھ اپني بات ختم کر رہا ہوں? آپ سب کے لئے اللہ تعالي کي نصرت و ہدايت اور توفيقات کا طالب ہوں?

و السلام عليکم و رحم? اللہ و برکاتہ

تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬