29 May 2012 - 17:08
خبر کا کوڈ: 4166
فونت
رسا نيوزايجنسي – مصرميں ہونے والے صدر جمھوريہ اليکشن ميں ہوئي والي دھاندھلي کے نتيجے ميں ڈيکٹيٹر حسني مبارک کے اخري وزير اعظم کو اکثريت ميں انے کے خلاف مصري عوام نے مختلف علاقوں ميں اعتراض اميز مظاھرے کئے اور اس کے جواب ميں حکمراں مليٹري کونسل نے اپنے بيانيہ ميں اعلان کيا ہے کہ دوسرے دور کے اليکشن کے نتيجے پرھر قسم کے اعتراض پر سخت موقف اپنايا جائے گا?
مصر

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، مليٹري کونسل کے رکن بريگيڈيئر جنرل محمد عصارنے ايک بيانيہ ميں تاکيد کي : اليکشن ميں ھر قسم کي روکاٹ پيدا کرنے والوں کے ساتھ مليٹري کونسل سختي کے ساتھ پيش ائے گي ?

مليٹري کونسل کے اس بيانيہ ميں ايا ہے : مخالف پارٹي کے اميدوارکي جيت کي صورت ميں مسلح قيام کي دھمکياں دينے والوں کے ساتھ مليٹري کونسل کا سخت رويہ ہوگا ?

عصار نے تاکيد کي : مسلح افواج کاملا موجودہ حالات کي بہ نسبت اگاہ ہيں اور مخالف احزاب سے مقابلہ کے لئے پورے طور سے تيارہيں ?

عصار نے مزيد کہا : صدر جمھوريہ اليکشن کے دوسرے دور ميں سيکورٹي سخت ہوگي اور ھم نے وزارت داخلہ کو بھيجے ہوئے خط ميں تاکيد کي ہے کہ بہ ھر صورت ممکن سرزمين کا دفاع کريں ?

انہوں نے ياد دہاني کي : مسلح افواج قدرت منتقل کرنے پر موظف ہے مگر کوئي بھي اس اليکشن ميں خلل ايجاد نہي کرسکتا ? مخالفين مسلح افواج کے غصے سے ڈريں کيوں کہ وہ سرزمين کے دفاع ميں کسي قسم کا مدارا نہي کريں گے ?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬