29 May 2012 - 18:57
خبر کا کوڈ: 4169
فونت
رسا نيوزايجنسي - قلم کاروان اسلام آباد کے تحت يوم تکبير کے عنوان سے سيمينار کا انعقاد کيا گيا ?
سيمينار

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، قلم کاروان کے زير اہتمام اسلام آباد ميں " يوم تکبير" کے عنوان سے ايک سيمينار انعقاد کياگيا? جس ميں اھل ذوق اور سماجي افراد نے شرکت کي ?

اس سيمينار کا آغازتلاوت قرآن مجيد سے کياگيا اور پھرجناب محمد طالب نے يوم تکبير کے حوالے سے اپنا مقالہ پيش کرتے ہوئے ہندوستان کے پہلے مسلمان سے يوم تکبير تک کي تاريخ کو بڑے ہي جامع انداز ميں بيان کيا اور بڑے مدلل انداز کہا : دفاعي قوت سے مسلمان اپنا وجود برقرا رکھتے رہيں ?

معروف دانشورجناب شفق ہاشمي نے اپنے موضوع کے متعدد نئے اور اچھوتے پہلؤں سے پردہ کشائي کرتے ہوئے تاکيد کي : تعليم اور دفاع کے درميان منطقي تعلق اور اس تعلق ميں اہل قلم کے کردار کواجاگرکرنا بہت ضروري ہے ?

انہوں نے مزيد کہا : قلم بھي ايک ہتھيارہے اور اہل قلم اپني ملت کے نظرياتي محافظ ہيں پس عسکري ادارے جہاں جغرافيائي سرحدوں کي حفاظت کرتے ہيں وہاں اہل قلم اپني فکرودانش سے نظرياتي سرحدوں کے دفاع کے ذمہ دار ہيں?

پروگرام کے آخر ميں قلم کاروان کے صدرنشين جناب ڈاکٹرساجد خاکواني نے صدارتي خطاب ميں دفاع کي اہميت اجاگرکرتے ہوئے کہا: ماضي بعيد ميں بغداد کي شرح خواندگي سوفيصد تھي ليکن اتنا بڑاتعليمي مرکزاس قوم کے ہاتھوں تباہ ہواجس کا تعليمي معيار نہ ہونے کے برابر تھا اورصحرائے گوبي سے اٹھنے والے طوفان کے سامنے دنيا کا سب سے بڑا تعليمي و علمي شہر نيست و نابود ہو گيا ?

انہوں نے مزيد کہا : ماضي قريب ميں متحدہ رياست ہائے روس کي شرح تعليم بھي سو فيصد کو چھو رہي تھي اور اتني بڑي تعليمي دنيا کو اس ملک ميں شکست فاش ہوئي جس کي تعليمي شرح دنيا ميں سب سے زيادہ پست تھي اورافغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں ميں دنيا کي سب سے بڑي تعليمي رياست شکست و ريخت کا شکار ہوکر اپنا وجود گم کر بيٹھي،چنانچہ قوموں کو خاک مذلت سے اٹھنے کے لئے اگرچہ تعليم ازحد ضروري ہے اوراس کي اہميت سے قطعاََانکار نہيں ليکن اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لئے خواہ پيٹ پر پتھرہي باندھنے پڑيں دفاع کي فوقيت امر ہے ?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬