17 October 2009 - 12:12
خبر کا کوڈ: 418
فونت
ايک خط ميں درخواست کي گئي :
حجت الاسلام محمد حسين فلاح / علماء ومراجع معظم تقليد متعدد روايات کي روشني ميں ، زمانہ غيبت امام زمانہ عليه السلام ميں اپ کے نائب ہيں ، ھم ان کا نهايت احترام اور انکےاحکام کولازم الاطاعة جانتے ہوئے اس پر عمل کرنے پرموظف ہيں اور اس بات کے معتقد ہيں لازمه اجتهاد ،جو ھمارے مذهب کے افتخارات ميں سے ہے مسائل فقهي ميں اختلاف ،کہ ان ميں سے طريقہ اثبات رويت ھلال اورعيد فطرميں ہے.
عيد فطر


يہ اختلاف جب تخصص کے دائرے سے عوام کے حدود ميں داخل ہوجاتا ہے تو اس کي نوعيت بدل جاتي ہے ، ھم طلاب علوم دين ايام تبليغ خصوصا ماه مبارک رمضان وعيد سعيد فطرميں حوزه علميه سے دورمختلف سليقہ کي عوام کے درميان کہ جن ميں کچھ کسي مرجع اورکچھ کسي اور کے مقلد ہوتے ہيں روبرو ہوتے ہيں اس وجہ خواه و ناخواه عيد ميں جب اختلاف وجود ميں اتا ہے تو ھزاروں اعتراضات اور شبهات سے روبرو ہوتے ہيں کہ اس بيچ دشمن ، فريب خوردہ افراد اورجهال سوء استفاده کرتے ہيں اور اسے ايک اجتماعي مشکل ميں تبديل کرديتے ہيں جو کبھي بعض افراد کي سستي ايمان اوربد بيني کا سبب ہوتي ہے .
 

اس لحاظ سے اگرمصلحت جانيں تو اس مشکل کے دور کرنے کےلئے بزرگان سے التجاء ہے ايک عيد کے اعلان کئے جانے کے سلسلے ميں غور کريں جو سبھي کي خصوصا رهبر معظم انقلاب کي ارزو ہے اي کاش بجاي اس کے کہ امت اسلامي کے کچھ لوگ هنگام قنوت نماز عيد اپنے ھاتوں کو اسمان کي جانب اٹھا کرخلوص دل کے ساتھ « اللهم اهل الکبرياء والعظمه واهل الجود والرحمة...أسئلک بحق هذا اليوم الذي جعلته للمسلمين عيدا)) پڑھتے ہيں سب ايک ساتھ ، ايک وقت پورے ملک ميں ايک ماه روزه داري (1) کے بعد عيد کي خوشي ميں عشق و محبت اور يکدلي کے ساتھ دعاي قنوت عيد فطر کو امام المسلمين کے ساتھ زمزمه کرتے ، جيسا کہ بعض روايات (2) ميںوارد ہوا کہ عيد فطر تجلي گاہ اتحاد اورجلوہ گاہ محبت ہے جيسےھم مبارک رمضان کي  هر روز ماه کي دعاء ميں اور دعاء افتتاح (3) ميں آن مبارک شبوں ميں خداوند متعال سے طلب کيا کرتے تھے.

 
مگر ھم ان اواخر زمان عيد فطر کے اعلام ميں اختلافات کے شاھد ہيں جس نے اس اتحاد کو خدشه دار کرديا ہے اورمؤمنين کے درميان تفرقه کا سبب بن گيا ہے نہ وحدت مرجعيت کي گفتگوہے اور نه ايک مرجع  کي  دوسرے مرجع سے تقليد کي .

اس طالب علم کا سوال يہ کہ کيا بزرگان اهل فتواء ايک بار پھراپنے فقهي مباني اورادله اثبات عيد فطروکيفيت رؤيت هلال غورنہي کرسکتے اور ادلہ کے درميان قوي ترين دليل اورنظريه کو اجتهادا مورد قبول قرار ديتے ہوئے سب اسے اثبات عيد کے لئے مبناء قرار ديں خدا کي قسم ھماري سمجھ ميں نہي اتا کہ لوگوں کو کيا جواب ديں ، وہ معلوم کرتےہيں کہ افق ميں چاند ہے يا نہي؟ چشم مسلح سے قابل اثبات ہے يا نہي ؟ عوام کے سوالات کو بے جواب نہي رکھا جاسکتا اور انہيں سوال کرنے سے بھي نہي روکا جاسکتا ، خداکا شکر ھمارا معاشرہ بافھم معاشرہ ہے اس کے با وجود ذھنوں ميں شبھات اور سوالات اٹھ رھے ہيں اس لحاظ سے اس مشکل کو حل ہونا چاھئے تاکہ بيگانہ اورجاهل افراد مزيد عوام کے عقائد سے کھلواڑ نہ کرسکيں .

 
اگر عوام کو اس حيراني و پريشاني سے باہر نکالنا چاھتےہيں توحادثہ کي چارہ جوئي حادثہ سے پہلے کرنا چاھئے الحمد ل لله انقلاب اور خون شهدا کي بر کت سے وسائل ھمارے ھاتھ ميں ہيں ، ائيے اس کے پہلے کہ لوگوں کي عيد ، سوگ ميں تبديل ہوجائے اورايک گروپ اپنے انتيس روز ،روزہ رکھنے پر ماتم کرے کہ اج ھم نےافطار کرليا جب کہ ھمارے مرجع نے عيد نہي منائي ہے ، اب کيا کروں ؟ اسکي قضا ہے يا نہي ؟ ايا فقط قضاہے يا کفارہ بھي ہے  ؟ لھذا ايئے ھم ھر چيز سے پہلے ماحول سازي کريں اگر ھم طلاب کي بھي کچھ ذمہ دارياں بنتي ہے تو فرمائيں تاکہ ھم اپنے وظائف کو انجام دے سکيں.
                 
 
سب سے پہلے حکم اور فتواء کے فرق کو بيان کرنا چاھئے کہ ايا مجتهد کے حکم کي مخالفت  حتي مجتهد ديگر کے لئے جائز ہے  يا نہي ؟ اگر جائز ہے تو کہاں ؟ اگر مصلحت ہے تو خود بزرگان اپنے فقہي مباني کو مقلدين کے لئے بيان کريں ، مثال کے طور پر فرمائيں کہ اثبات عيد ميں ھمارا فتواء چشم غير مسلح سےچاند ديکھے جانے کي صورت ميں ہے يا يہ کہ اگرچشم مسلح بھي چاند ديکھا گياتو اثبات عيدکے لئے کافي ہے ، اور جواب ديں کہ کيا يہ ان مسائل ميں سے جس ميں تقليد واجب ہے اور مقلد موظف ہے کہ اپنے مرجع کے نظريہ کے تحت عمل کرے ؟ کہ اگر حکم ولي فقيه کے تحت عيد منايا اور بعد ميں اسکے مرجع کے خلاف معلوم ہو تو کيا روزہ رکھے گا يا نہي ؟ کيا فقط قضاء ہے يا کفارہ بھي ہے ؟ کيا ديگر مراجع کےمقلدين ، مقام عظمي ولايت کي جانب سے عيد اعلان ہونے کے باوجود اپنے مرجع کي نظر کے منتظر رہيں ؟ اور انتظار کي صورت ميں وہ کس طرح مطلع ہوں گے ؟ ٹليويزن کے ذريعہ يا کسي اور ذريعہ سے ؟ اگر بزرگان مصلحت نہي سمجھتے تو ميڈيا کو اس پر مامور کريں ،وہ طلاب جو تبليغ کے لئے جاتے ہيں انہيں تاکيد کريں تاکہ ان مسائل کو عوام کے درميان مکررا بيان کريں تاکہ اک بيک عوام پر شاٹ وارد نہ ہو ،خداکاشکر اس سال دو نماز عيد نہي ہوئي مگر چند سال قبل کچھ لوگ نماز عيد پڑھنے جارھےتھے اور کچھ لوگ ماه رمضان کي اخري نماز جماعت ميں شرکت کرنے .

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1. لصائم فرحتان فرحة عند افطاره و فرحة عند لقاء الله عزوجل
2. فَإِذَا کَانَتْ غَدَاةُ يَوْمِ الْفِطْرِ بَعَثَ اللَّهُ الْمَلَائِکَةَ فِي کُلِّ الْبِلَادِ فَيَهْبِطُونَ إِلَى الْأَرْضِ وَ يَقِفُونَ عَلَى أَفْوَاهِ السِّکَکِ فَيَقُولُونَ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ اخْرُجُوا إِلَى رَبٍّ کَرِيمٍ يُعْطِي الْجَزِيلَ وَ يَغْفِرُ الْعَظِيم
3. اللَّهُمَّ الْمُمْ بِهِ شَعْثَنَا وَ اشْعَبْ بِهِ صَدْعَنَا وَ ارْتُقْ بِهِ فَتْقَنَا وَ کَثِّرْ بِهِ قِلَّتَنَا و . . .

تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬