کوئٹہ ميں ؛

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، مجلس وحدت مسلمين بلوچستان کے زير اہتمام کوئٹہ اور مستونگ سميت ملک کے ديگر حصوں ميں جاري شيعہ نسل کشي کے خلاف احتجاجي ريلي کا انعقاد کيا گيا جس ميں حجت الاسلام مقصود ڈومکي اور سردار سعادت نے خطاب کيا ?
اس احتجاجي مظاھرے کي قيادت دہشت گردي کا سب سے زيادہ نشانہ بننے والے کوئٹہ کے قبيلے ہزارہ کے سردار سعادت علي ہزارہ، ايم ڈبليو ايم بلوچستان کے جنرل سکريٹري حجت الاسلام مقصود علي ڈومکي ، حاجي قيوم چنگيزي اورسيد داود آقا نے کي ?
ريلي کے شرکاء نے بينرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر دہشت گردي اور شيعہ نسل کشي کے خلاف نعرے درج تھے? اس احتجاجي ريلي کے شرکاء نے ميزان چوک کوئٹہ کے قريب دھرنا بھي ديا?
مجلس وحدت مسلمين بلوچستان کے جنرل سکريٹري حجت الاسلام مقصود علي ڈومکي نے مظاہرين سے خطاب کرتے ہوئے کہا : پندرہ سال سے کوئٹہ ملت جعفريہ کے لئے کربلا بنا ہوا ہے جہاں آئے روز عصر کے يزيدي حسينيوں کو موت کے گھاٹ اتار ديتے ہيں ?
انہوں نے يہ کہتے ہوئے کہ يہ سلسلہ اب پھيل کر مستونگ تک جا پہنچا ہے جو کہ وزير اعلي? کا شہر ہے کہا : تعجب کي بات ہے کہ مستونگ ميں حکومت کي ناک کے نيچے دہشت گردوں کے ٹريننگ کيمپ موجود ہيں جہاں وہ محب وطن پاکستانيوں کا قتل عام کر کے آرام سے چلے جاتے ہيں?
ہزارہ قبيلے کے سردار سعادت علي ہزارہ نے يہ کہتے ہوئے کہ ہم پر امن قوم ہيں جو امت مسلمہ کي وحدت اور پاکستانيت پر يقين رکھتي ہے کہا : ہم جس طرح اپني قوم پر ہونے والے مظالم کي مذمت کرتے ہيں اسي طرح علمائے اہل سنت کے قتل عام کي بھي بھرپور مذمت کرتے ہوئے اسے تکفيري گروہوں کي سازش قرار ديتے ہيں?
انہوں نے يہ کہتے ہوئے کہ بلوچستان حکومت عوام کو تحفظ فراہم کرنے ميں بري طرح ناکام ہو چکي ہے يا پھر اسے شہريوں کے جان و مال کي حفاظت سے کوئي سروکار ہي نہيں ہے حکومت سے مطالبہ کيا : وہ تمام مکاتب فکر کے پرامن شہريوں کے جان و مال کي حفاظت کي ذمہ داريوں سے عہدہ برآ ہو اور جتنے بھي شرپسند عناصر ہيں ان کے خلاف بلاتفريق کاروائي عمل ميں لائے تاکہ وطن عزيز امن کا گہوارہ قرار پائے?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے