06 June 2012 - 15:40
خبر کا کوڈ: 4194
فونت
ھندوستان ميں ايراني سفير :
رسا نيوزايجنسي - ھندوستان ميں ايران کے سفير سيد مھدي نبي زادہ نے امام خميني ( رہ ) کي برسي کي مناسبت سے " امام خميني اسلامي سياست کا نمونہ عمل " کے عنوان سے منعقدہ سمينار ميں تاکيد کي کہ مظلوم اقوام کي حمايت ايراني خارجہ پاليسي کا اہم حصہ ہے ?
امام خميني


رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، امام خميني ( رہ ) کي برسي کي مناسبت سے " امام خميني اسلامي سياست کا نمونہ عمل " کے عنوان سے جہانگير ہوٹل سرينگر کشميرھندوستان ميں ايک سمينارکا انعقاد کيا گيا جس ميں مير واعظ عمر فاروق ، لبريس فرنٹ کے چئرمين محمد ياسين ملک زادہ ، ايران کلچر ہاوس کے ذمہ دار احمد عالمي ، انجمد شرعي شيعان کشمير کے سربراہ اقا سيد حسن مصطفي الموسوي الصفوي ، مفتي اعظم مولوي بشير الدين ، اتحاد المسلمين کے سرپرست مولانا محمد عباس انصاري ، جماعت اسلامي کے نمائندے معين الدين غازي ، وادي کے معروف ديني اور حريت پسند تنظيموں کے قائدين ، نمائندے اور سرگرم افراد اور مختلف طبقے کي عوام نے شرکت کي ?

اس سمينار ميں ايراني سفير سيد مھدي نبي زادہ نے مظلوم اقوام کي حمايت ايراني خارجہ پاليسي کا اہم حصہ بتاتے ہوئے کہا : تہران جنوبي اشياء ميں اپني ذمہ داريوں سے غافل نہي ہے ?

انہوں نے يہ کہتے ہوئے کہ ايراني قوم اور قيادت کو اپنے موقف اور اپني کاميابي پر ايمان کي حد تک يقين تھا کہا : جس قوم کو اپني قيادت اور اپني تحريک کي کاميابي پر يقين ہو وہ قوم يقينا ولازما منزل مقصود تک پہونچتي ہے ?

جناب نبي زادہ نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ دنيا کي مظلوم اورمحکوم قوموں کي تائيد اور حمايت اسلامي جمھوريہ ايران کي خارجہ پاليسي کا صرف اھم پہلو ہي نہيں بلکہ قران وسنت کا تقاضہ بھي ہے کہا : ايران خطہ جنوبي ايشا ميں دير پا امن واستحکام کے قيام کيلئے اپني ذمہ داريوں سے غافل نہيں ہے ، ايران اس حقيقت کا قائل ہے کہ جبر تشدد اور طاقت کے بل بوتہ پر مظلوم قوموں کي برحق تحريکوں کو دبايا نہيں جاسکتا ?

اس کانفرنس کے ايک دوسرے مقرر مير واعظ فاروق نے امام خميني کو خراج عقيدت پيش کرتے ہوئے کہا : امام خميني نے کردار وعمل سے ملت اسلامي کو يہ درس ديا کہ قران اور سنت کو بنياد بناکر، استقامت اور ثابت قدمي کا مظاھرہ کرکے ہي مسلمان اپني تقدير بدل سکتا ہے ?

انہوں نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ اسلامي جمھوريہ ايران کا کردار عالم اسلام ميں انتہائي اہميت کا حامل ہے اور يہ ملک کشمير کے حوالے سے موثر کردار ادا کرسکتا ہے تاکيد کي : ايراني اور کشميري قوم کے رشتے بھي ديرينہ ہيں جن کي بنياد دين اور اسلام ہے ?
انہوں نے مزيد کہا : کشمير کي گھاٹي کو نور اسلام سے منور کرنے والے اولين داعيان دين کا تعلق بھي ايران سے ہي تھا لھذا کشميري عوام کي ايران سے کافي اميديں وابستہ ہيں ?



تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬