06 June 2012 - 18:43
خبر کا کوڈ: 4195
فونت
آيت ‌الله صافي گلپائگاني :
رسا نيوزايجنسي - آيت ‌الله صافي گلپائگاني نے علم کي اھميت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ايک گھنٹہ حاصل کرنا اور علم کي بزم ميں بيٹھنا ايک ھزار راتوں کي عبادت کہ ھر رات ھزار رکعت نمازيں پڑھي جائيں اور ھزار غزوه و جهاد في سبيل الله وہ بھي جو رسول کي رکاب ميں لڑے جائيں ونيز ختم قران سے زيادہ خدا کے نزديک پسنديدہ ہے ?
آيت الله صافي گلپايگاني

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، مرجع تقليد قم ميں سے حضرت آيت الله لطف الله صافي گلپائگاني نے اپنے درس خارج فقہ کے اغاز ميں حوزات علميہ ميں شروع ہونے والي چھٹيوں کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : جہالت کا خاتمہ فطرت بشري کا تقاضہ ہے اور جہالت کے خاتمہ پرپابندي فطرت انساني کے خلاف ہے ?

انہوں نے روايت «أطلُبوا العِلمَ مِنَ المَهدِ الي اللَّحدِ» کے ائينے ميں جہالت انسانوں کے لئے بدترين عيب بتاتے ہوئے کہا : جس قدر بھي جہالت کم ہوگي انسان کا عيب کم ہوگا ، اور اس جہالت کے خاتمے کے سلسلے کو روکا نہيں جاسکتا کيوں کہ جہالت کے خاتمہ پرپابندي انساني فطرت کے خلاف ہے لھذا ھميشہ علم حاصل کرنا چاھئے ? علم حاصل کرنا اگرچہ واجب کفائي ہے مگر حوزات علميہ ميں انے والوں پر واجب عيني ہے خصوصا وہ لوگ جو اپنے اندر ترقي کي صلاحيتيں محسوس کرتے ہيں ?

حضرت آيت الله صافي گلپائگاني نے يہ کہتے ہوئے کہ انسان ھميشہ اپنے علم ومعرفت ميں اضافہ کرتا رہے کہا : بسا اوقات ھميں کتابيں دي جاتے ہيں ، ميں تنگي وقت کي بنياد پر اگر چہ پوري کتاب نہيں پڑھ سکتا ہوں مگر پھر بھي اس اميد پراسے کونے ميں نہيں ڈالتا کہ ايک دن اسے پورا پڑھ سکوں گا اورمجھے کچھ نئي باتيں معلوم ہوں گي ?

انہوں نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ چھٹياں بے معني ہيں کيوں کہ اج علماء اور حوزات علميہ کے کاندھوں پر سخت ذمہ دارياں ہيں تاکيد کي : اپ ان تمام شبہوں اور مختلف فرقوں کو ملاحظہ کريں ، ان تمام کا جواب ديا جانا لازمي ہے ، ان تمام گمراہوں سے مقابلہ اورعوام کا تحفظ ضروري ہے ?

اس مرجع تقليد نےعلماء اخرالزمان کي فضليت کے سلسلے ميں وارد ہونے والي روايات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا : ايک روايت ميں ايا ہے کہ اگرعوام کے دين کي حفاظت کرنے والے يہ علماء نہ ہوتے اوران شبہات کا جواب دے سکيں تو عوام دين خدا سے خارج ہوجاتے ? ھم بھي اسي کے مانند حالات سے روبرو ہيں لھذا ھميشہ تعليم حاصل کريں اور جہالت بر طرف کرتے رہيں ?

انہوں نے رسول اسلام صلي الله عليه و آله و سلم کي جناب ابوذرسے فرمائشات «الْجُلُوسُ سَاعَةً عِنْدَ مُذَاکَرَةِ الْعِلْمِ‏ أَحَبُّ إِلَى اللهِ مِنْ قِيَامِ أَلْفِ لَيْلَةٍ يُصَلَّى فِي کُلِّ لَيْلَةٍ أَلْفُ رَکْعَةٍ وَ الْجُلُوسُ سَاعَةً عِنْدَ مُذَاکَرَةِ الْعِلْمِ‏ أَحَبُّ إِلَى الله مِنْ أَلْفِ غَزْوَةٍ وَ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ کُلِّه‏» کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : اس روايت ميں ايا ہے کہ ايک ساعت علم حاصل کرنا اور علم کي بزم ميں بيٹھنا ايک ھزار راتوں کي عبادت کہ ھر رات ھزار رکعت نمازيں پڑھي جائيں اور ھزار غزوه و جهاد في سبيل الله وہ بھي جو رسول کي رکاب ميں لڑے جائيں ونيز ختم قران سے زيادہ خدا کے نزديک پسنديدہ ہے ? جناب ابوذر نے يہاں پر انحضرت سے سوال کيا کہ اي رسول خدا تمام پورے قران سے ؟ پيغمبر صلي الله عليه و آله وسلم نے فرمايا : «مِنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ کُلِّهِ اثْنَا عَشَرَ أَلْفَ مَرَّة» ہاں اس کا ثواب 12ھزار پورا قران ختم کرنے سے بہترہے ?


تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬