12 June 2012 - 18:09
خبر کا کوڈ: 4213
فونت
آيت ‌الله صافي گلپائگاني :
رسا نيوزايجنسي - حضرت آيت ‌الله صافي گلپائگاني نے مکہ اورمدينہ ميں اسلامي اثارقديمہ کي تخريب پرشديد تنقيد کرتے ہوئے کہا : سعوديہ ميں اگر اسي طرح اسلامي اثار قديمہ منھدم ہوتے رہے تو مستقبل قريب ميں عبدالمطلب، ابوطالب، عبدالله اور ديگر بزرگوں کا اثبات مشکل ہوگا اوراہستہ اہستہ تاريخ ابن اثير وتاريخ طبري کا بھي انکار کرديا جائے گا ?
حضرت آيت‌الله صافي گلپائگاني

رسا نيوزايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق ، مرجع تقليد قم ميں سے حضرت آيت ‌الله لطف الله صافي گلپائگاني نے اج صبح حج و زيارت کے چئرمين حجت‌ الاسلام سيد احمد موسوي سے ملاقات ميں خدمت خلق ، شعائر الھي کي تعظيم اور وظائف کي صحيح انجام دہي کي تاکيد کي ?

انہوں نے اس ادارہ کي اھميت کا تذکرہ کرتے ہوئے مکہ اور مدينہ ميں ايرانيوں کے ساتھ پيش انے والے برے برتاو کے حوالے سے پوچھے گئے ايک سوال ميں کہ ان حالات ميں کس طرح عمرہ کرنے جائيں تاکيد کي : ھم نے اس سوال کے جواب ميں تحرير کيا کہ مکہ اور مدينہ ميں ھمارا حضور لازمي ہے ?

انہوں نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ مکہ اور مدينہ ميں ھمارا نہ رہنا کہيں زيادہ نقصان دہ ہے کہا : ھم نے ھميشہ حج کميٹي کے افراد سے تاکيد کي ہے کہ ھم حج کو ھرگز نہيں روک سکتے حتي اگر وہ کہيں کہ تم نہ او تو بھي ھم نہيں روکيں گے اور حج کرنے جائيں گے ?

حضرت آيت‌ الله صافي گلپائگاني نے مزيد کہا : اگرھم مکہ اور مدينہ نہ جائيں ، وہاں ھم نہ رہيں تو اس سے رونما ہونے والے مشکلات زيادہ ہيں ، ھم وہاں اپنے وجود کا اظھار کرتے ہيں کہ ھم ہيں اور اھلبيت عليھم السلام کي ولايت وہاں ہے لھذا ھميشہ وہاں رہيں اور اپني موجودگي قائم رکھيں ?

ونيز انہوں نے مصر ميں موجود مقدس مقامات کو فراموشي کے حوالے کئے جانے کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : مصرکے مقدس مقامات ميں زينبيه ، مشهد رأس الحسين اور مسجد امام حسين‌ (ع) ہے کہ وہاں بڑے سے بڑے پروگرام کئے جاسکتے ہيں اور مصلحت اسي ميں ہے کہ ھم وہاں موجود رہيں ?

شھر قم کي اس عظيم شخصيت نے حرمين شريفين کي حفاظت کي تاکيد کرتے ہوئے مکہ اور مدينہ ميں پندرہ سو ملين مسلمانوں کي موجودگي کے سياسي اور معنوي اثار کي جانب اشارہ کيا اور اسلامي ميراث کے انھدام کي بہ نسبت متنبہ کرتے ہوئے کہا : سعوديہ ميں رونما ہونے والے يہ حالات شيعہ سني مسائل سے بالاتر ہيں ?

انہوں نے مزيد کہا : مقدس مقامات اور مسلمانوں کے تاريخي مکانات کا انھدام اور حرمين شريفين کي موجودہ صورت حال سے اسلام کو عظيم نقصان پہنچے گا کہ اگر دنيا ميں شيعہ بھي نہ ہوتے تو بھي مقدس مقامات کا انھدام مسلمانوں کا تاريخي پشتوانہ ختم کردے گا ?

حضرت آيت‌الله صافي گلپائگاني نے کہا : اسلام قيام قيامت تک باقي ہے ليکن اگر دس سال بعد ثابت کرنا چاھيں کہ عبدالمطلب، ابوطالب، عبدالله اور ديگر بزرگ بھي تھے تو مشکل ہوگا اوراہستہ اہستہ تاريخ ابن اثير وتاريخ طبري کا بھي انکار کرديا جائے گا ?

انہوں نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ عربستان ميں انجام پانے والے تعميري کام سے تمام اسلامي اثار قديمہ مٹ جائيں گے کہا : بعض مورخين دشمني کي بنيادوں پر حضرت موسي‌ (ع) کا انکار کرتے ہيں يا ان کے سلسلے ميں شک کرتے ہيں ، اب کف افسوس مليں کہ انہوں نے اسلام کي بنياديں گراديں اور اس سے دين کو بھي خطرہ لاحق ہے ?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬