آيت الله جوادي آملي :

رسا نيوزايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مفسر عصر حضرت آيت الله عبدالله جوادي آملي نے علماء وافاضل حوزہ علميہ قم کے مجمع ميں مسجد اعظم قم ميں تفسير سوره مبارکه نمل کي اخري نشست ميں تاکيد کي : انبياء الھي ايت شريفہ «وَقُل لَّهُمْ فِي أَنفُسِهِمْ قَوْلاً بَلِيغًا» کي بناء پر الھي معارف کو نہ فقط اپني عوام بلکہ پوري دنيا کے کانوں تک پہنچانے کے ذمہ دار ہيں ?
حوزہ علميہ قم ميں تفسير قران کريم کے اس استاد نے ايت شريفہ «مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ» اور «وَمَن جَاء بِالسَّيِّئَةِ» کي تفسير کرتے ہوئے کہا : قران کي يہ تاکيد « جو نيکياں يا برائياں لے کر ائے » بيانگر ہے کہ ھر انسان کا عمل کا اس کے ساتھ ہے ، قيامت ميں ھر انسان کا نامہ اعمال اس کے ساتھ ہوگا ايسا نہيں ہے کہ نامہ عمل دوسروں کے ہاتھ ميں ہو اور وہ عمل ميں کمي يا زيادتي کي ياد دہاني کرائے ، جب ھر انسان کا نامہ عمل اس کي شخصيت ميں ہو تو اس ميں تبديلي بھي نہيں کي جاسکتي اور اسي بنياد پر انسان ھرگز انکار نہيں کرسکتا ?
حوزہ علميہ قم کے اس نامور مفسر نے ايت شريفہ «إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ رَبَّ هَذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِي حَرَّمَهَا وَ لَهُ کُلُّ شَيْءٍ وَأُمِرْتُ أَنْ أَکُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ» کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : قران کريم کي دوسري ايتوں ميں «رب السماوات و الارض» اور اس کے مانند بيان کيا گيا ہے مگر اس ايت ميں چونکہ مکہ کے لوگوں کو توحيد ربوبيت کي ترغيب دي جارہي ہے اسي بناء پر مکہ کي عظم و جلالت کا تذکرہ کيا گيا ہے اور يوں کہا گيا کہ زمين پر يہ شھر خاص اھميت کا مالک ہے جو کسي اور کو حاصل نہيں ہے ، اس کے پاس خود کچھ بھي نہيں ہے مگر پورے سال اس شھر ميں نعمتوں کي فراواني ہے ، حضرت ابراهيم عليه السلام نے بھي اس سرزمين کو بنجر سرزمين سے تعبير کيا تھا اور خداوند متعال کو خطاب کرکے کہا کہ خدايا ھم نے اس بنجر سرزمين پر اپنے اھل وعيال کو چھوڑا ہے مگر تو انہيں سير کرسکتا ہے اور ديکھ رہے ہيں چشمہ زمزم چاليس سال سے اس سرزمين پر موجود ہے جو خدا کے اعجاز سے ابھي تک خشک نہيں ہوا ?
اس نامور مفسر نے نے مزيد کہا : خداوند متعال نے سرزمين مکہ کو مکان حرام اور لائق احترام شمار کيا اور اس سرزمين پر ظلم وزياديتوں کو حرام جانا جو پوري کائنات ميں کسي اور سرزمين کے لئے نہيں ، جب بھي اس سرزمين پر کوئي ائے حتي رشتہ داروں کي ملاقات کے لئے تو بھي احرام باندھنے پر مجبور ہو ، پہلے احرام کے اعمال انجام دے اور پھر اپنے تمام کام انجام دے اور اسي بنياد پر غير مسلم کا اس سرزمين پر ا?نا جائز نہيں ہے کيوں کہ وہ احرام نہيں باندھ سکتا اور بغير احرام کے مکہ کي سرزمين پر وارد نہيں ہو سکتا ?
حضرت آيت الله جوادي آملي نے ياد دہاني کي : خداوند متعال نے سوره مبارکہ فيل ميں کہا : « فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هذَا الْبَيْتِ الَّذي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَ آمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ » يعني اس سرزمين ميں کچھ بھي نہ ہونے کے باوجود خداوند متعال نے اس سرزمين کے اقصادي اور امنيتي معاملات پورے کررکھے ہيں ، ايک جانب سے پوري دنيا کو اس سرزمين پربلاکراور دوسري جانب اسے مقام امن قرار دے کر اس کي حفاظت کي ، اسي بناء پر حضرت نے فرمايا کہ وہ خدا جس نے اس سرزمين کو اپنے اعجاز سے اسے طرح بنايا وہ لائق عبادت ہے ?
انہوں يہ کہتے ہوئے کہ اگر ال سعود نے عقل کے ناخن نہيں لئے تو قذافي اور مبارک کي طرح ان کا حشر ہو گا تاکيد کي : اگر کوئي اس سرزمين کے حق ميں نا انصافي کرنا چاھئے تو آيه شريفه «إِنَّ الَّذِينَ کَفَرُوا وَ يَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمَسْجدِ الْحَرَامِ الَّذِي جَعَلْنَاهُ لِلنَّاسِ سَوَاءً الْعَاکِفُ فِيهِ وَالْبَادِ وَمَن يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ» کي بناء پر يہ سرزمين مقام ظلم وزيادتي وغيرہ نہيں ہے ، يہ وہابي حجاج و زائرين کو کيوں ايزاء وازيت پہونچاتے ہيں يہ خدا کا وعدہ ہے اور يہ گرفتار ہونے سے پہلے بيدار ہوجائيں ?
حضرت آيتالله جوادي آملي با اشاره به آيه شريفه «وَأَنْ أَتْلُوَ الْقُرْآنَ فَمَنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَ مَنْ ضَلَّ فَقُلْ إِنَّمَا أَنَا مِنَ الْمُنْذِرِينَ» کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : انسان وعلم وارادہ کے درميان کسي قسم کا فاصلہ نہيں ہے يعني اگر کسي نے علمي مطلب بيان کيا تو اسے انسان سمجھے گا اور ھرگز نہيں کہے گا کہ ھم اسے سمجھنا نہيں چاھتے ، مگر جب سمجھتا ہے تو نفس ويقين اور ارادے کے درميان فاصلہ ہوتا ہے ، وہ سچے مطالب جو اس کے لئے دن کے مانند ہيں اسے ماننے کو تيار نہيں ہوتا ، سارا جہاں پابنديوں کے باوجود واقف ہيکہ 1+5 ميں حق ايران کے ساتھ ہے ، وہ جانتے ہيں کہ ايران ايٹمي اسلحہ بنانے کا ارادہ نہيں رکھتا ، ايران کي جوھري سرگرمياں مسالمت اميز ہيں مگر وہ يقين کرنے کو تيار نہيں جيسے کہ حضرت موسي کليم اللہ نے فرعون کو خطاب کرکے کہا کہ تو جانتا ہے کہ حق ھمارے ساتھ ہے مگر ماننے کو تيار نہيں ہے ?
انہوں نے مزيد کہا : يہ خطرہ سبھي کے لئے ہے کہ انسان کسي بات سے بخوبي اگاہ ہو مگر اس کے خلاف عمل کرے ، جيسے پردہ اور نامحرم کو ديکھنا ، ممکن ہے لوگ اس سے بخوبي واقف ہوں مگر پھر بھي نامحرم کو ديکھيں ، يہ اس لئے ہے کہ علم وارادہ کے درميان بہت فاصلہ ہے ، اگر نفس انسان کسي بات کو جاننا چاھتا ہو تو نفس فاصلہ نہيں بنتا اور کوئي سمجھنے سے انکار نہيں کرسکتا مگر جب سمجھ ليا تو عمل کي دنيا ميں اسے مکمل ازاداي اور اختيار ہے ، نفس اور ايمان کے درميان فاصلہ ہے ، عزم کا شعبہ جزم و ايمان اور علم کے شعبے سے الگ ہے ، خداوند متعال نے اس ايت شريفہ ميں فرمايا کہ کہدو کہ ھم نے حق بيان کرديا اور اگر کوئي ھدايت پانا نہ چاھے اور گمراہ ہوجائے تو ميري ذمہ داري فقط ڈرانے کي تھي ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے