16 June 2012 - 15:54
خبر کا کوڈ: 4221
فونت
رسا نيوزايجنسي - رہبرمعظم انقلاب اسلامي حضرت آيت اللہ العظمي خامنہ اي نے مرحوم حاج عبداللہ والي کے اہلخانہ سے ملاقات ميں تاکيد کي عمارت ميں مخلصانہ اور بغير شور و غل کے انجام پانے والے کام اس عمارت کو مضبوط اور مستحکم بنانے ميں بہت ہي مؤثر وا قع ہوتے ہيں ?
رہبرمعظم انقلاب اسلامي

رسا نيوزايجنسي کي رھبرمعظم انقلاب اسلامي کي خبر رساں سائٹ سے منقولہ رپورٹ کے مطابق ، رہبرمعظم انقلاب اسلامي حضرت آيت اللہ العظمي خامنہ اي نے مرحوم حاج عبداللہ والي (1) کے ايام سالگرہ کي مناسبت سے ان کے اہلخانہ کے ساتھ ملاقات ميں عمل اور کام ميں استقامت کے برکات اوراخلاص کي طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمايا: اسلامي جمہوريہ کے پورے نظام کي عمارت ميں مخلصانہ اور بغير شور و غل کے انجام پانے والےکام اس عمارت کو مضبوط اور مستحکم بنانے ميں بہت ہي مؤثر وا قع ہوتے ہيں?

مرحوم والي کے اہلخانہ کے ساتھ حاليہ ملاقات ميں رہبر معظم انقلاب اسلامي کے بيانات کا منتخب حصہ مندرجہ ذيل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحيم

مرحوم حاج عبداللہ والي ايک ايسے انسان ہيں جن کا نام ملک کي تاريخ اور انقلاب کي تاريخ ميں ہميشہ زندہ رہےگا، ان کا نام نيکي کے ساتھ ليا جائےگااللہ تعالي ان کے درجات کو بلند و بالا فرمائے?

اس کے باوجود کہ ميں نے ان کو قريب سے نہيں ديکھا اور مجھے ياد نہيں ہے کہ ميں نے کبھي ان کے ساتھ ملاقات بھي کي ہو، ليکن دور دور سے ان کو پہچانتا ہوں ، مجھے معلوم تھا کہ وہ بشاگرد ميں گرانقدر خدمات ميں مشغول ہيں ، اس علاقہ کو بھي ميں جانتا تھا، خود ان کے بقول ، پيش گرد، جب ہم ايرانشہرميں تھے اور ايرانشہر سے ميناب کي طرف جاتے تھے تو بعض آشنا افراد دلکان اور بشاگرد ميں ہم سے ملنے آتے تھے چونکہ دلکان اور بشاگرد دونوں ميناب کے راستے ميں واقع ہيں?بعض دوست و احباب زحمت اٹھا کر ہمارے پاس آتے تھے کبھي بشاگرد سے بھي لوگ آتے تھے? ايک دن ايک بزرگ آدمي آيا جو علاقہ کے ايک مولوي کي حيثيت سے تھا البتہ مولوي نہيں تھا صاحب علم بھي نہيں تھا،ايک سفيد کپڑا سر پر لپيٹا ہوا تھا، اس کا نام کيا تھا مجھے ياد نہيں ہے، اس نے اس علاقہ کي پسماندگي اور فقر کے بارے ميں شکايت کي تھي? اس نے ايک جملہ کہا اور وہ جملہ اتنا اچھا اور خوبصورت تھا جو تيس سال سے زائد عرصہ کے بعد بھي مجھے ياد ہے، اس نے کہا" هاي هايِ آب است و واي وايِ نان " يعني دلکان کے اس طرف پاني کي کثرت اور بہتات ہے ليکن زمين نہيں ہے جس کے نتيجے ميں روٹي نہيں ہے انقلاب سے قبل اس علاقہ ميں کلي طور پر خارجي وجود نہيں تھا يعني حکومتي اداروں کي اس علاقہ پر کوئي توجہ نہيں تھي?

پھر انقلاب کے بعد، ايک انقلابي ، مؤمن جوان کھڑا ہوجاتا ہے اور اس علاقہ ميں پہنچ جاتا ہے اور اپنے تمام متعلقہ امور کو، گھر ، زندگي اور شہر سے اپني ماموريت کے مرکز ميں منتقل کرتا ہے، اپنے بھائيوں کو بھي اپنے ہمراہ لے جاتا ہے اور آپ لوگوں نے بھي انصاف کے ساتھ اس کا ساتھ ديا ??? آپ نے بھي اپني زندگي کے امور، اہلخانہ ، بچوں، ماں باپ اور ديگر تمام آسائشوں کو ترک کرديا اور اس کے ساتھ جاکر خاموشي کے ساتھ خدمت ميں مشغول ہوگئے? نہ ہي کسي جگہ نام لکھوايا اور نہ ہي کوئي بورڈ لگايا?

بعض لوگ ايسے ہيں جو کام کرنے سے پہلے ہي اپنا بورڈ لگا ديتے ہيں! اور يہ بورڈ نصب ہونے کے باوجود کوئي کام انجام پذير نہيں ہوتا، ليکن بعض لوگ ايسے ہيں جو بغير بورڈ نصب کئے کام کرتے ہيں جو کسي نام و نمود کے بغير کام کرتے ہيں جناب حاج عبداللہ والي اور آپ حضرات کا کام بغير بورڈ والے کاموں کے ہے جس ميں نام و نمود بالکل نہيں? آپ بورڈ لگانے کے بغير گئے اور آپ نے حقيقت ميں اللہ تعالي کے لئے کام انجام ديا اور يہ گرانقدر کام ہے آپ يقين جان ليں کہ مخلصانہ ،نام و نمود ، شور و غل اور بورڈ کے بغير اس قسم کے کام اللہ تعالي کے نزديک آپ کا درجہ اور مرتبہ بناتے ہيں? اور اس کے ساتھ اسلامي جمہوري نظام کي عمارت کو مضبوط بناتے ہيں يہ کام اس سيمنٹ کے مانند ہيں جو عمارت کو مضبوط بنانے کے لئے لگائي جاتي ہے اور اس قسم کے کاموں سے اسلامي جمہوريہ ايران کي عمارت مضبوط اور مستحکم ہوتي ہے کسي کو معلوم نہ ہو يعني ملک کے اکناف و اطراف ميں ايسے لوگ بھي جو اللہ تعالي کے لئے کام کرتے ہيں ، مخلصانہ طور پر کام کرتے ہيں، شور و غل اور نام و نمود کے پيچھے نہيں ہيں? تعريف ، تحسين اور تمجيد کے پيچھے بھي نہيں ہيں اور ان کي ايک خصوصيت يہ ہے کہ وہ ذاتي طور پر اس عمارت کو مضبوط بناتے ہيں جيسے ايک روح کسي جسم و بدن ميں ڈال دي جائے بہر حال آپ کے اس قسم کے امور گرانقدر ہيں?

اس اخلاص اور کام کا جاري رکھنا بہت ہي گرانقدر اور قابل تعريف ہے اس قسم کے معنوي کاموں ، توسلات، دعاؤں اور اذکار کے جاري و ساري رکھنے کے بارے ميں روايات موجود ہيں روايت ميں ہے کہ جو کام آپ انجام ديں اس کي کم سے کم مدت ايک سال ہو مثال کے طور پر آپ ايک مستحب نماز کو ہر شب يا ہفتہ ميں ايک دفعہ پڑھنا چاہيں تو اس مستحب عمل کو کم سے کم ايک سال تک جاري رکھيں اگر چہ بہتر ہے کہ اس مستحب عمل کو اپني آخري عمر تک جاري رکھيں?يعني اصل کام کے علاوہ کام کو جاري رکھنا ايک دوسرا عنصر ہے ."فلذلک فادع و استقم کما امرت" (2). استقامت يعني کام کو اسي طرح اور درست سمت ميں جاري رکھنا، الحمد للہ آپ نے استقامت کا مظاہرہ کيا??

ايک بات ميں خواتين بالخصوص شوہردار خواتين سے کہنا چاہتا ہوں؛ کہ اس کام کو انجام دينے کے ثواب ميں آّپ کا بہت بڑا حصہ ہےکيونکہ اگر آپ اس کام ميں اپنے شوہروں کا ساتھ نہ ديتيں ان پر اعتراض کرتيں ان سے جھگڑا کرتيں ، کہتيں يہ کيسي حالت ہے؟ يہ کيسي زندگي ہے؟ يہاں پر تو روٹي بھي نہيں ملتي ، تو آپ کے شوہروں کي ہمت ختم ہوجاتي، بہر حال انسان کے اندر کتنا بلند حوصلہ کيوں نہ ہو پھر بھي اسطرح کام نہيں کرسکتا، يہ آپ کے تعاون اور ہمراہي کي بدولت ہمت کے ساتھ جرائت کے ساتھ وہاں گئے اور خواتين کي يہ ہمراہي بہت ہي اہم بات ہے?

??????????????????????????????????


1: حاج عبد اللہ والي عمل اور جہاد کا ايک درخشاں اسوہ اور نمونہ ہے جس نے امام خميني (رہ) کي اس آواز ( بشاگرد کو آباد کرو) پر لبيک کہي اور بشا گرد کو آـاد کرنے کے لئے اپنے دوستوں اور بھائيوں کے ساتھ روانہ ہوگئے، بشاگرد ايک محروم اور پسماندہ علاقہ ہے، حاج عبد اللہ نے کئي سال تک بشاگرد کے رہنے والوں کے ساتھ گزارے اور 23 سال تک اس محروم علاقہ کي ترقي و پيشرفت کے لئے مخلصانہ طور پر تلاش و کوشش کي اور اس محروم علاقہ کو پسماندگي کي سطح سے نکالنے ميں کامياب ہوگئے انھيں جہاد و تلاش کا بہترين نمونہ اور مظہر کہا جاسکتا ہے انھوں نے بشاگرد ميں اس جہاد کا آغاز 1361 ہجري شمسي ميں کيا اور آٹھ ارديبشہت 1384 ہجري شمسي ميں ان کي وفات ہوگئي ? ان کي روح شاد رہے?

تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬