
قرا?ن کريم کي پہلي ا?يت کے نزول کے سلسلہ ميں احاديث مختلف ہيں ? اور متعدد اعتراض کے ساتھ وارد ہوئي ہيں ، اس سلسلہ ميں جو احاديث شيعوں کي کتابوں ميں ذکر ہوئي ہيں وہ سند کے اعتبار سے مستحکم اور بہتر ہے ?
حضرت امام حسن عسکري عليہ السلام نے روايت کے ضمن ميں پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و ا?لہ وسلم کے صفات کو اس طرح بيان کرتے ہيں ? وہ فرماتے ہيں : جب پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و ا?لہ وسلم چاليس سال کے ہو ئے اور خداوند عالم نے ان کے قلب کو بہت ہي بہتر ، بلند ، خاشع اور مطيع قلبوں ميں سے پايا تو ا?سمان کے دروازے کو کھولنے کي اجازت دے دي اور فرشتے کو اجازت دي کہ وہ نازل ہوں ، اس وقت محمد مصطفي صلي اللہ عليہ و ا?لہ وسلم ان سب کو ديکھ رہے تھے پھر عرش سے ان کي طرف رحمت نازل ہو ئي اور وہ روح الامين فرشتہ يعني جبرئيل جو فرشتہ کے سرار ھيں ان کو ديکھ رہے تھے ? جبرئيل ان کے قريب اترے ان کے ہاتھ کو پکڑ کر ہلايا اور کہا : اے محمد ! پڑھو ، محمد مصطفي صلي اللہ عليہ و ا?لہ وسلم نے فرمايا : کس چيز کو پڑھوں ، جبرئيل نے کہا : اے محمد! « اقرأ باسم ربک الذي خلق.خلق الانسان من علق . اقرأ و ربک الاکرم . الذي علم بالقلم . علم الانسان ما لم بعلم » ? اس کے بعد وہ چيز جو ان پر نازل کرني تھي کي اور خدا کي طرف واپس چلے گئے ?
محمد مصطفي صلي اللہ عليہ و ا?لہ وسلم پہاڑ پر سے اس حالت ميں نيچے ا?ئے کہ خدا کي عظمت اور اس کي جلالت اور شان و شوکت ابھي ان کو اپنا مدھوہش کر رکھا تھا اور جسم ميں لرزش اور بخار کا سامانا کر نا پڑا تھا ان کي بے چيني اور پريشاني کو جو چيز زيادہ کر رہي تھي ، وہ يہ تھي کہ وہ ڈرتے تھے قريش ان کا تکذيب کريں گے ، اور ان کي طرف ديوانگي کي نسبت ديں گے ?
حالانکہ وہ ان لوگوں ميں عاقل ترين ، معزز اورمحترم ترين شخص تھے ، اور ان کا غصہ اور سب سے زيادہ ناراض ہو نے والي چيز شيطان اور پاگلوں کا پاگل پن تھا ? اس لئے خدا وند عالم نے ان کے قلب کو شجاعت سے پر کرنے کا ارادہ کيا اور ان کے دل کو وسعت عنايت کي ، اسي وجہ سے وہ جب بھي کسي پتھر اور درخت کے کنارے سے گزرتےتھے ، تو سنتے تھے وہ سب کہتے ہيں : السلام عليک يا رسول اللہ ( صلي اللہ عليہ و ا?لہ وسلم ) (?)
پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و ا?لہ وسلم کي بعثت کو مخلتف زاويہ سے تحقيق کرنے کي ضرورت ہے ? اس کي ضرورت اور اہميت بہت ہي زيادہ ہے ? تا کہ سب لوگ رسول اللہ صلي اللہ عليہ و ا?لہ وسلم کي طرف رجوع کريں ? اور خود ان کے اندر جو خدا نے انکو ذمداري دي جسکا انحصارخدا کے حکم اور ان کے بھيجے ہو ئے پيغمبر اسلام اکرم صلي اللہ عليہ و ا?لہ وسلم اور ان کي اولاد کي اطاعت کے حکم کي ذمہ داري کا احساس کر سکيں ?
معاشرہ کے خاص ، چنے ہو ئے ، با خبر لوگ کي اہم خصوصيت يہ ہے کہ اپنے دوش پر ذمہ داري کا احساس کرتے ہيں ? ان کي ذمہ داري جو ان کے ضمير کو ہميشہ اس چيز کا احساس دلاتي ہے ? وہ لوگون کو جہالت کے اندھيرے سے نکال کر علم اور عمل کي روشنائي کي طرف لے جاتے ہيں ?
وہ لوگ اپنے ا?پ کو غير معصوم رسول سمجھتے ہيں ? خدا کے پيغمبر کے رتبے ميں نہيں ا?تے ہيں ليکن رسولوں اور اماموں کے قدم کي جگہ اپنا پاؤ رکھتے ہيں ، يہي بات بہت ہي فکر کرنے کا مقام ہے ?
قرا?ن مجيد پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ و ا?لہ وسلم کو تمام بشريت کے لئے پيروي کا بہترين اسوہ اور نمونہ بيان کرتا ہے : « لکم في رسول الله اسوه حسنه » (?)
تم لوگوں کے لئے رسول اکرم صلي اللہ عليہ و ا?لہ وسلم کا وجود ايک بہترين اور نيک نمونہ? عمل ہے ? پھر قرا?ن ان کو اخلاق کا نمونہ پہچنوارہا ہے : « انک لعلي خلقٍ عظيم » (?)
بے شک ا?پ اخلاق کے بالاترين مقام پر فائز ہيں ? وہ لوگ جو اپنے ا?پ کو معاشرہ کے خاص اور باخبر لوگوں ميں سمجھتے ہيں ، ان کو چاہئے کہ رسول گرامي صلي اللہ عليہ و ا?لہ وسلم کي سيرت پر عمل کريں ? تا کہ انفرادي اخلاق اور اجتماعي اخلاق کے ساتھ معاشرہ کو ديني اخلاق کي طرف دعوت ديں ، تا کہ اپنے اور معاشرہ کي خوشحالي کا راستہ فراہم کر سکيں ?
پيغمبر اسلام صلي ا
للہ عليہ و ا?لہ وسلم کے بعثت کا بہت ہي اہم اور بڑا پيغام يہ ہے کہ ا?دمي کو چاہئے کہ دوسري مرتبہ اپنے اور معاشرے کي زندگي اور حيات کے لئے اٹھے اور خدا کي اطاعت اور رسولوں کي تعليمات کي پيروي کرے ، اور خاص کر پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و ا?لہ وسلم اور ان کي اولاد کي پيروي کرے ? بعثت ميں ايک بعثت ا?مادہ کرے ، خود اور معاشرہ کو بلند مرتبے پر پہچنانے کي مدد کرے ?
???????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????
حوالے :
1. مجلسي، بحارالانوار، ج18، ص206
2. حشر/21
3. قلم/4
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے