
رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امام رضا علیہ السلام کے روضہ مبارک کے متولی حجت الاسلام والمسلمین سید ابراھیم رئیسی ، نے نجف سے کربلا کے راستے میں موکب امام رضا عمود ۲۸۵ پر راھپیمایان حسینی(ع) کے درمیان اس راھپیمائی کو بے مثال جانتے ہوئے کہا: اس خاکی زمین پر اربعین حسینی کی راھپیمائی کی کوئی مثال نہیں ہے؛ کیفیت اور مقدار دونوں لحاظ سے اس دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
انہوں نے دہشت گردوں کی سازش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وضاحت کی : دہشتگرد نہیں چاہتے تھے کہ اربعین حسینی اس شکوہ وجلال کے ساتھ برگزار ہو لیکن اس سال امام حسین (ع) کا چہلم پہلے سالوں کی نسبت کہیں زیادہ شان وشوکت سے برگزار ہوا۔
اربعین حسینی کی راھپیمائی میں ۲۰میلین سے بھی زیادہ لوگوں نے شرکت کی تاکید کرتے ہوئے بیان کیا : آج جو لوگ اس راھپیمائی میں شریک ہوئے ہیں وہ اربعین تفکر اور الھیٰ انگیزہ رکھتے ہیں، اربعینی تفکر استکباری، تکفیری اور انحرافی تفکر کے مدّ مقابل ہے۔ اور آج ہم ان دونوں اندیشوں کا تقابل بخوبی دیکھ سکھتے ہیں۔
امام رضا علیہ السلام کے روضہ مبارک کے متولی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا : اربعینی تفکر کی حمایت کرنے والے فقط دین کو معاشرہ کی اصلاح کا راستہ جانتے ہیں اور اس چیز پر اعتقاد رکھتے ہیں کہ امام حسین (ع) کی آواز فقط ۶۱ ہجری تک محدود نہیں تھی بلکہ آج بھی وہ آواز حق اور باطل کو ایک دوسرے سے جدا کر رہی ہے اور حق و حقیقت کا دفاع کرنے والوں کو آج بھی استکبار اور تکفیریت سے مبارزہ کی دعوت دے رہی ہے ۔
حجت الاسلام والمسلمین رئیسی نے اپنی گفت و گو میں بیان کیا : اربعین امام حسین(ع) فقط شیعوں کے ساتھ مختص نہ تھی اور نہ ہی ہے بہت زیادہ اھل سنت بھائی امام حسین علیہ السلام کے عاشق و محبّ ہیں اور راھپیمائی اربعین میں بہت ہی جوش و خروش سے شرکت کرتے ہیں۔ لیکن انگریز اسلام میں جدائی ڈالنے کے لئے اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی وھابیت کو تقویت دیتے ہیں اور شیعوں کے لئے بھائیت کو بنایا ہے لیکن شیعوں اور اھل سنت نے آپس میں اتحاد کا مظاہرہ کر کے ان دونوں کو ایک طرف رکھ دیا اور اسلام کے دفاع کے لئے متحد ہو گئے۔
انہوں نے کہا : دہشتگر نہیں چاہتے تھے کہ اربعین اس باعظمت کے ساتھ برگزار ہو انہوں نے سامرہ میں دہشتگردی کا مظاہرہ کیا تا کہ مسلمانوں کو ڈرا سکے لیکن اس سال اربعین کی راھپیمائی پچھلے سالوں کی نسبت بہت ہی شان و شوکت کے ساتھ برگزار ہوئی۔
ابراہیم رئیسی نے بیان کیا : اس راھپیمائی کا سب سے مھم پیغام یہ تھا کہ مسلمانوں کو انگریزوں کے بنائے ہوئے فرقوں کا مقابلہ کرنا چاہئے اور اسلام کے دفاع کے لئے ہرگز میدان کو نہ چھوڑیں۔
حجت الاسلام والمسلمین سید ابراھیم رئیسی نے یورپین میڈیا کا اربعین حسینی کی راھپیمائی کو بائیکاٹ کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : یورپین میڈیا اور چند دوسرے ظالم حکمرانوں کے میڈیا نے عراق میں ہونے والے بشریت کے اس عظیم اجتماع کی طرف کوئی اشارہ بھی نہیں کیا لیکن دنیا والے یہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ وہ لوگ جنہوں نے اربعین حسینی کی راھپیمائی میں شرکت کی ہے ان کا پیغام دشمنان اسلام کے مدّ مقابل مقاومت کرنا ہے۔/۹۸۹/ف۹۳۰/ک۶۰۴/