
رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اھل سنت کے ایک ہزار پیدل زائرین کے مخصوص پروگرام جو کہ حرم مطہر رضوی کے رواق شیخ حرعاملی میں منعقد ہوا اس میں نامدار مولوی نے تقریر کی اور کہا: رسول اکرم (ص) اور اھلبیت رسول اللہ(ص) کی زیارت ہم پر واجب ہے اور آئمہ اطہار (ع) کی قبور کی زیارت سے بہت زیادہ برکات حاصل ہوتی ہیں اور ہمارے بہت سارے بڑے علماء جیسے مولانا جامی اور تاپیادی حرم مطہر امام رضا کی پا بوسی کے لئے پیدل چل کر آتے تھے۔
انہوں نے کہا: تمام اھلبت(ع) اور آئمہ اطہار(ع) نے اسلام ناب محمدی(ص) کو زندہ رکھنے کے لئے بہت زیادہ مشکلات اٹھائی ہیں اور ان مشکلات اوران زحمات کی قدردانی کرتے ہوئے ان کے غم اور خوشیوں میں شریک ہونا چاہئے۔
نامدار نے کہا: افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ آج صہیونی اور استکبار دہشتگردوں کے گروپوں جیسے وھابیت اور داعش کی حمایت کر کے مظلوم مسلمانوں کو دنیا کے مختلف کونوں میں خون میں نہلا رہا ہے اور اسلام کا غلط چہرہ دنیا کو دکھا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اختلاف اور تفرقہ کی وجہ سے اسلام خطرے میں ہے مسلمانوں کو ہوشیار رہنا چاہئے اور اس چیز کو جاننا چاہئے کہ ہر قسم کا اختلاف اور تفرقہ اگرچہ کم ہی کیوں نہ ہو موجب بن سکتا ہے کہ اسلام کے دشمن اس سے فائدہ اٹھا کر اپنے پلید منافع کے حصول کے لئے استمعال کریں ۔
اس عالم اھلسنت نے اسلامی معاشرے کی امنیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: دنیا کے مسلمانوں کی عزت، حرمت اور سربلندی اھل سنت اور شیعہ کے اتحاد میں ہے۔
انہوں نے وضاحت دیتے ہوئے کہا: بہ حمد اللہ ایران کے شیعہ اور اھل سنت آپس میں متحد ہیں اور شجاع، بابصیرت و دلسوز رھبر معظم انقلاب کے فرمان کے تحت صلح اور سکون کے ساتھ اکھٹے زندگی گزار رہے ہیں۔
صفرکے آخری عشرے میں ایک ہزار اھل سنت صوبہ خراسان شمالی، جنوبی،رضوی،گلستان اور کردستان سے پیدل چل کر حرم مطہر امام رضا (ع) میں زیارت کے لئے شرفیاب ہوئے ۔ /۹۸۹/ف۹۴۰/