19 February 2017 - 21:06
خبر کا کوڈ: 426411
فونت
جماعت اہلسنّت پاکستان کراچی کے تحت مزارات اولیاء کرام بالخصوص درگاہ حضرت عثمان مروندی سخی لعل شہباز قلندر پر دہشت گردی کے خلاف احتجاجی ریلی میں لوگوں نے پر جوش شرکت کی ۔
لعل شہباز قلندر

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جماعت اہلسنّت پاکستان کراچی کے تحت مزارات اولیاء کرام بالخصوص درگاہ حضرت عثمان مروندی سخی لعل شہباز قلندر پر دہشت گردی کے خلاف احتجاجی ریلی دفتر جماعت اہلسنّت نزد آرام باغ سے عالی جناب شاہ عبدالحق قادری کی قیادت میں وزیراعلٰی ہاؤس کیلئے روانہ ہوئی۔انتظامیہ نے ریلی کو سندھ اسمبلی چورنگی پر روک دیا، جس کے بعد شرکاء وہیں دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔

مذاکرات کے بعد وزیراعلٰی ہاؤس کے نمائندے کو احتجاجی مراسلہ پیش کیا گیا۔ ریلی سے جناب شاہ عبدالحق قادری، حاجی حنیف طیب، جناب کوکب نورانی اوکاڑوی، جناب مظفر حسین شاہ، مولانا ابرار احمد رحمانی، جناب اکرم سعیدی، سید محمد اشرف الجیلانی، مفتی احمد علی شاہ سیفی، حافظ حسان امینی و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

شرکاء ریلی سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اہلسنّت پاکستان کراچی کے امیر جناب شاہ عبدالحق قادری نے کہا کہ دہشت گردی کی ہر واردات تشویشناک سوالات جنم دے رہی ہے، مزارات پر بم دھماکے درندگی کی بدترین مثال ہیں، ایسا کرنے والے عذاب الٰہی سے نہیں بچ سکتے، فوجی عدالتوں میں توسیع نہ ہونے سے دہشت گردوں کے حوصلے بڑھے ہیں، منصوبہ بندی کے تحت مزارات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

حجت الاسلام شاہ عبدالحق قادری کا مزید کہنا تھا کہ حکومت دہشت گردوں کے آگے بے بس اور عوام کے جان و مال کے تحفظ میں مکمل ناکام ہوچکی ہے، سیہون درگاہ حضرت عثمان مروندی لعل شہباز قلندر پر دھماکہ المناک سانحہ ہے، حکومت صرف مذمتی بیانات پر چل رہی ہے۔

عالمی دہشت گرد تنظیم داعش دھماکوں کی ذمہ داری قبول کر رہی ہے، وفاقی وزیر داخلہ کی لاعلمی کا عالم یہ ہے کہ وہ ملک میں داعش کے وجود سے ہی انکاری ہیں، حکمران مزارات اور قوم کا تحفظ نہیں کر سکتے تو عزت کے ساتھ مستعفی ہو جائیں، سوِل حکومت قیام امن میں ناکام نظر آتی ہے، اب عوام کی امیدیں فوج سے وابستہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اہلسنّت شہداء و زخمیوں کے غم میں برابر شریک ہے، دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬