
رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی نژاد نامور فرانسیسی سیاسی امور کے تجزیہ کار سیانس پور یونیورسٹی کے پولیٹیکل سائنس شعبے کے پروفیسر برتران بدیع نے اپنے ایک گفت و گو میں بیان کیا : ایران اور مغرب کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے سے بین الاقوامی سطح پر اختلافات اور متنازعہ مسائل کو پُرامن مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا : سرد جنگ کے دوران دو بڑی طاتیں دنیا پر راج کررہی تھی اور ان کی زبان صرف طاقت کی زبان تھی جس سے پورے دنیا کے ممالک ان دو بڑی طاقتوں کی چھتری میں اپنے آپکو محفوظ سمجھ رہی تھیں۔
برتران بدیع نے دنیا میں امن کے قیام کی طرف اشارہ کرتے وہئے بیان کیا : اس دوران سفارت کاری کے ذریعہ اختلافات کو ختم کرنے کا نام ہی نہیں تھا جس سے دنیا کے امن اور امان کی صورت حال میں ایک غیر یقینی کیفیت پیدا ہوئی تھی۔
انہوں نے تاکید کرتے ہوئے کہا : ایران نے مغربی طاقتوں کے ساتھ سیاسی اور سفارتی ذریعے سے اپنے جوہری معاملات کو حل کر کے اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ سفارت کاری اور گفتگو سے ہی دنیا امن کا گھوارہ بن سکتی ہے۔
فرانسیسی پروفیسر نے اپنے بیان میں وضاحت کی : جوہری معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے اور جب تک ایران اس پر پابند ہے تو کوئی بھی فریق اس کو ختم نہیں کرسکتا یا اس کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا۔
برتران بدیع نے ڈونلڈ ٹرامپ کی ایران مخالف پالیسیوں کو سالم سیاست کے خلاف اقدام جانا ہے اور بیان کیا : امریکا کے نئے صدر نے ایران فوبیا کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے جس سے سرد جنگ کی طرح دنیا پھرغیر محفوظ ہوسکتی ہے۔
پروفیسر برتران بدیع نے ڈونلڈ ٹرامپ کے ایران مخالف پالیسی کو غیر عاقلانہ جانا ہے اور بیان کیا : ایرانی حکومت اور انتظامیہ کا دہشتگردی اور دہشت گرد گروہوں سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ ایران خود داعش جیسی خطرناک دہشت گرد تنظیم سے لڑرہا ہے۔/۹۸۹/ف۹۳۰/ک۳۸۲/