
رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بحیرن کے شیعہ علماء کرام نے اپنے ایک پیغام میں بحرین کے انقلابی قیدی محمد سهوان کی شہادت جو کہ تشدد کی وجہ سے ہوئی اور اسی طرح تشدد کے علاوہ سیکورٹی فورس کی طرف سے شارٹ گن کی متعدد گولیوں نے ان کو موت کی آغوش میں سلا دیا جسی کی وجہ علماء نے شدید رد عمل پیش کیا ۔
اس پیغام میں بیان ہوا : صابر و مقاوم اور ظلم مخالف بحرینی قوم کی خدمت میں محمد سہوان کی شہادت کی مناسبت سے مبارک باد و تعزیت پیش کرتا ہوں اور شہید کے اہل خانوادہ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ آپ دین کی راہ میں شہادت اور مظلوم کی مدد میں الہی میڈیل حاصل کی ہے ۔
بحرین کے علماء نے وضاحت کی : اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ شہید محمد سہوان تشدد کی وجہ سے شہید ہوئے ہیں یہ ایک غیر قانونی قتل ہے اس طرح کہ اس سال ۸۰ سے بھی زیادہ شارٹ گن کی گولی ان کے بدن میں تھی کہ سیکورٹی فورس نے نزدیک سے ان کو قتل کرنے کی غرض سے فائر کیا تھا ۔
انہوں نے وضاحت کی : بحرینی حکومت انسانیت سے دور ہیں اور کئی بار ان کے علاج اور تشدد کو ختم کرنے کے درخواست کو نا منظور کر دیا گیا ہے یہاں تک کہ جیل میں عزت و صبر کے ساتھ شہادت کے عظیم منزل پر فائز ہو گئے ، ان کی شہادت ایک طرح کی تدریجی قتل ہے کیونکہ ان کو علاج کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔
پیغام کے اختمامی مرحلہ میں بیان ہوا ہے : اس مومن و شجاع شہید کی تشییع جنازہ میں جمع غفیر نے حکومت کے جرائم کی مذمت کی اور انصاف کے فقدان اور انسانی و اخلاقی بنیاد کے اقدار کی کھلی ہوئی خلاف ورزی کی صادقانہ شہادت دی ۔
قابل ذکر ہے کہ محمد سهوان بحرین کے انقلابی قیدی میں سے تھے کہ جو مرکزی جیل میں قید تھے ، زخم کی وجہ سے اور اسی طرح جیل میں تشدد کی بنا پر شہید ہو گئے ۔
وہ سن ۲۰۱۱ میں آل خلیفہ حکومت کی سیکورٹی فورس کی طرف سے شارٹ گن کی گولی سے زخمی ہو گئے تھے اور ان کو بغیر علاج کے قید میں رکھا گیا ۔/۹۸۹/ف۹۳۰/ک۴۲۱/