30 June 2012 - 17:09
خبر کا کوڈ: 4289
فونت
آيت الله مکارم شيرازي:
رسا نيوزايجنسي - حضرت آيت الله مکارم شيرازي نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ افسوس اج بہت سارے لوگوں نے پردے کو ہلکا سمجھ رکھا ہے کہا : يوروپ ميں ہر پانچ بچے ميں سے ايک بچہ نامشروع اور غير قانوني پيدا ہوتا ہے اور اس کي بنياد بے پردگي ہے ، پردہ معاشرے کو سلامتي فراھم کرتا ہے اور خاندانوں کي چہار ديواري گرنے سے محفوظ رکھتا ہے ?
آيت الله مکارم شيرازي

رسا نيوزايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق ، مرجع تقليد قم ميں سے حضرت آيت الله ناصر مکارم شيرازي نے گذشتہ شب صحن جامع رضوي ميں ھزاروں زائرين امام علي موسي الرضا عليہ السلام کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا : نماز انساني تربيت کيلئے ايک مکمل مکتب ہے ، يعني انسان کو دنيا اور اخرت دونوں ميں نجات عطا کرتي ہے ?

انہوں نے يہ بيان کرتے ہوئے نماز کے لئے کم سے کم پانچ اثار ذکر کئے گئے ہيں ان کي تشريح کي اور کہا : قرآن کريم ميں خداوند متعال کا ارشاد ہے کہ « نماز انسانوں کو برائيوں سے دورکرتي ہے " ان الصلا? تنھي عن الفحشاء والمنکر" » اس کے يہ معني ہيں کہ نماز انسانوں گناہوں کے مقابل محفوظ رکھتي ہے اور ھرگز انسانوں کو گناہوں کي جانب نہيں جانے ديتي ?

اس مرجع تقليد نے اس بات پر زور ديتے ہوئے کہ سچي نماز انسانوں کو گناہوں کے روبرو محفوظ رکھتي ہے ھر نماز نہيں ، تاکيد کي : اس کا سبب يہ ہے کہ انسان سچي نماز کے وقت خود کو خداوند متعال کے روبرو حاضر و ناظر جانتا ہے ? اور اسي بنياد پر خود کو گناہوں سے دور رکھتا ہے ?

انہوں نے نماز کے دوسرے اثر کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا : انسان کے لئے نماز کا دوسرا اثر ، ياد خدا ہے ، انسان خدا کو بھول جانے کي صور ميں مشکلات ميں گھرجاتا ہے ، اور يہي فراموشي تمام گناہوں کي بنياد بن جاتي ہے جو انسانوں کے سکون چھين ليتي ہيں ? خدا کي ياد انسانوں کو سکون فراھم کرتي ہے اور موقع نہيں ديتي کہ انسان منقلب يا غمگين ہو يا اخلاقيات کے برخلاف کوئي کام انجام دے ?

حضرت آيت الله مکارم شيرازي نے « نماز کے سايہ ميں روح کي پرواز » کو نماز کا تيسرا اثر بيان کرتے ہوئے روايت «الصلاة معراج المؤمن» کي جانب اشارہ کيا اور کہا : پيغمبر اسلام صل اللہ عليہ والہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر انسان نماز کي حالت ميں نماز کي حقيقت کو جان لے تو اسمان ميں پرواز کرنے لگے ? لھذا وہ انسان جس کي روح دن ميں پانچ بار معراج پر جائے اس کي حيات کي بہاريں قابل توصيف نہيں ?

انہوں نے نماز کي چوتھي خصوصيت کے تذکرے ميں اسے روح و جسم کي تقويت کا سبب جانا اور کہا : مولائے متقيان حضرت علي(ع) نے جب بھي کسي اھم کام کا اغاز کيا تو اسے نماز سے شروع کيا ، کيوں کہ قران کريم کا فرمان ہے « نماز سے مدد مانگو اور نماز کے زير سايہ اپني مشکلات حل کرو» لھذا نماز انسان کے ارادے کو مضبوط کرتي ہے ، اور مشکلات ميں انسان کو تنہائي سے باہر نکالنے کا سبب بنتي ہے ، لھذا اپ نماز کو اپنا مددگار اور مونس جانيں ?

اپ نے نماز کے پانچويں اثر کا تذکرہ کرتے ہوئے بيان کيا : نماز انسانوں کے دلوں سے گناہوں کے ميلے پن کو دھو ديتي ہے جيسا کہ رسول اسلام ، خاتم النبيين ، حضرت محمدبن عبدالله(ص) اس سلسلے ميں فرماتے ہيں « يہ نمازيں جسے تم ادا کرتے ہو پھوٹے ہوئے چشمے کے صاف وشفاف پاني کے مانند ہے جس سے تم خود کو ھر روز پانچوں بار دھوتے ہو» لھذا جب انسان نمازيں پڑھتا ہے تو گناہوں کے اثار اس کے تن و بدن سے دور ہوجاتے ہيں ?

انہوں نے اس شبہ کے جواب ميں کہ مزيد اخلاص پيدا کرنے کي غرض سے ھم کيوں نمازيں اپني مادري زبان ميں نہ پڑھيں تاکيد کي : نماز کو اپني مادري زبان ميں پڑھنا بہت بڑي بھول ہے کيوں کہ نماز سيکھنے ميں کوئي زيادہ وقت نہيں لگتا ، دوسري جانب نماز کو عربي ميں پڑھنا اسلامي اتحاد کي دليل ہے ، زيارت بيت الله الحرام کو جانے والے مسلمان ديکھتے ہيں کہ پچاسوں اسلامي ممالک کے مسلمان ، اطراف خانہ خدا کے ارد گرد کھڑے ہوتے ہيں اور سب يک لب ولہجہ ميں نماز ادا کرتے ہيں ?

انہوں نے مزيد کہا : اسلام نے مسلمانوں کو اتحاد کي دعوت دي ہے اگر ھم نمازيں اپني مادري زبانوں ميں پڑھنے لگيں تو امت اسلامي کي ريسمان اتحاد ٹوٹ جائے گي ?

حضرت آيت الله مکارم شيرازي نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ افسوس اج بہت سارے لوگوں نے پردے کو ہلکا سمجھ رکھا ہے کہا : يوروپ ميں ہر پانچ بچے ميں سے ايک بچہ نامشروع پيدا ہوتا ہے اور اس کي بنياد بے پردگي ہے ، پردہ معاشرے کو سلامتي فراھم کرتا ہے اور خاندانوں کي چہار ديواري گرنے سے محفوظ رکھتا ہے ?




تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬