‫‫کیٹیگری‬ :
06 August 2017 - 15:20
خبر کا کوڈ: 429355
فونت
تنزانیہ کے طالب علموں نے امام رضا(ع) کے میلاد کو رضوی خادموں کے کاروان کے ساتھ مل کر جشن منایا ۔
محفل

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امام رضا(ع) کے خادموں نے ’’زیر سایہ خورشید‘‘ پروجیکٹ کے تحت تنزانیہ میں واقع جامعۃ المصطفیٰ (ص) کے سینٹر میں اس یونیورسٹی سینٹر کے شیعہ طالب علموں سے ملاقات کی اور امام ھشتم(ع) کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے جشن بھی برپا کیا۔

موصولہ رپورٹ کے مطابق ’’ زیر سایہ خورشید‘‘ کاروان کے سفر میں حرم امام رضا علیہ السلام کے خادموں نے تنزانیہ میں واقع جامعۃ المصطفیٰ(ص) کے یونیورسٹی سینٹر میں شیعہ طالب علموں سے ملاقات کی۔

اس ملاقات کے دوران حکمت و فلسفہ کے تحقیقی مؤسسہ کے سربراہ نے پیغمبر اکرم(ص) کی ایک حدیث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ایک شخص نے رسول اللہ (ص) سے دن میں چار بار مختلف جھات سے سوال کیا کہ دین کیا ہے؟ پیغمبر گرامی اسلام(ص) نے ہر بار یہ جواب دیا: ’’’ حسن الخلق‘‘

حجت الاسلام عبد الحسین خسروپناہ نے امام رضا(ع) کے اخلاقی پہلوؤں سے تمسک کرنے پر تاکید کرتے ہوئے کہا: کوریا جنوبی کے سفر میں ، میں نے اس حدیث کو بودای علما کے درمیان اس حدیث کو پڑھا ان میں سے ایک رونے لگ گیا۔

تنزانیہ اعزام ہونے والے اس قافلے کے مبلغ نے گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا: اجلاس ختم ہونے کے بعد میں نے اس سے رونے کی وجہ پوچھی ۔ بودائی عالم نے یہ جواب دیا : کیوں آپ کہ پیغمبر(ص) نے اس واقعہ میں عملی طور پر اخلاق کی تعلیم دی ہےاور بغیر کسی غصے کے چار بار مؤدبانہ انداز میں اس کو جواب دیا۔

دینی فلسفہ کے اس محقق اور اس کاروان کے مبلغ کا کہنا تھا: آج جب مغربی ممالک خدا کو بھلا چکے ہیں ،عقل اور وحی دونوں مہم اور حیاتی ہیں۔ /۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬