
رسا نيوزايجنسي کے رپورٹر کي مشھد مقدس سے رپورٹ کے مطابق ، مرجع تقليد قم ميں سے حضرت آيت الله جعفر سبحاني نے کلام وعقائد اسلامي کي دوسري نشست ميں جو کل صبح مدرسہ علميہ نواب ميں منعقد ہوئي کہا : مولا?ئے متقيان حضرت علي عليہ السلام نے فرمايا کہ « زاد سفر ہلکا رکھو تاکہ مقصد تک پہونچ سکو » ، اگر تمام انسان اکٹھا ہوکر بھي کوشش کريں تو بھي اس مختصر سے جملے ميں مفاھيم کے سمندر نہيں سمو سکتے ? اپني حيات کا زاد سفر ہلکا رکھو ، اگر ھماري زندگي کا زاد راہ ہلکا ہو تو جلد مقصد تک پہونچ جائيں گے ، مگر وزني زاد سفر رکھنے والے منزل تک دير ميں پہونچتے ہيں ?
انہوں نے پيغمبر اسلام صل اللہ عليہ والہ وسلم سے منقول روايت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا : بہت سارے افراد اس يقين پر ہيں کہ قران کتاب داستان يا افسانہ ہے جبکہ قران کريم ايک کتاب ھدايت ہے ، قران کريم کوئي افسانہ يا پيغمبر اسلام صل اللہ عليہ الہ وسلم کے زمانے ميں پيش انے والے واقعات کي کتاب داستان نہيں ہے ، جو کچھ بھي پيغمبراسلام کے زمانے ميں رونما ہوا يا قران نے ھمارے لئے بيان کيا سب کا سب ھمارے لئے حجت ہے ?
حضرت آيت الله سبحاني نے مزيد کہا : قران ايک ايسي کتاب ہے جس کي دنيا ميں کوئي مثال نہيں ہے ، خدا وند متعال نے اسے تمام زمانہ کے لئے بھيجا ہے لھذا ھم نہيں کہسکتے کہ خدا نے اسے زمانہ پيغمبر اسلام يا زمانہ حضرت موسي (ع) کے لئے بھيجا تھا جبکہ ھمارے نبي توريت کے مصدِّق بھي ہيں ?
انہوں نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ اج وہابي مدّعي ہيں کہ « قبروں پر مسجد کي تعمير حرام ہے اور قبر پيغمبر اسلام صل اللہ عليہ والہ وسلم کے جوار ميں مسجد کي تعمير حرام ہے »، شيعہ اس شبھہ کے جواب ميں کہتے ہيں : 14 صديوں سے قبر پيغمبراسلام صل اللہ عليہ والہ وسلم کے جوار ميں مسجد موجود تھي اور مسلمان اس ميں نمازيں ادا کرتے ائے ، دوسرے يہ کہ قرا?ن کي ايتوں پر غور کريں « اصحاب کهف 300 سال کے بعد زندہ ہوئے اور لوگ اصحاب کہف کے سلسلے ميں دو گروہ ميں بٹ گئے ، ايک گروہ بت پرست ہوا جن کي تعداد کم تھي انکا کہنا تھا کہ غار ميں ايک ديوار اٹھا دو ، مگر سچے عيسائيوں کا کہنا تھا کہ کيوں ديوار اٹھائيں بلکہ يہاں پر مسجد تعمير کي جائے اور عبادت خدا کي جائے اور ان خاصان خدا سے متوسل ہوں » اگر يہ شرک ہے تو قران نے اسے بيان کيوں کيا ؟ قبر پيغمبر اسلام (ص) اور ائمہ طاھرين کےجوار ميں مسجد کي تعمير پر يہ بہترين دليل ہے ، اور اگر کہا جائے کہ قران نے اسے داستان کے طور پر بيان کيا ہے تو يہ سوال ضروري ہوگا کہ کيا قران کوئي مثنوي ہے ؟
اس مرجع تقليد نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ اگر انسان مرتد ہوجائے تو اس کے اعمال ختم ہوجائيں گے کيوں کہ ارتداد باعث بنے کا اس کے اعمال کے ذخيرہ ميں اگ لگ جائے کہا : قتل مرتد موجودہ روايتوں سے ثابت ہے ، ہاں اگر عورت مرتد ہوجائے تو اسے قتل نہيں کيا جائے گا ، چاھے وہ مرتد ملي ہو يا مرتد فطري ، اور وہ يہ اس بناء پر ہے کہ عورت فکري حوالے سے مرد کي بہ نبست کمزور ہے اور اس کے برخلاف مرد عطوفت کي دنيا ميں عورت سے کمزور ہے اسي بنياد پر عورت چاھے مرتد فطري ہو يا ملي قتل نہيں کي جائے گي ?
انہوں نے مزيد کہا : علماء اھل سنت مرتد فطري اور ملي ، مرد وعورت کے درميان کسي فرق کے قائل نہيں ہيں ان کي نگاہ ميں چاروں قسموں کا ايک ہي حکم ہے کہ مرتد کوتوبہ کرنے کے لئے تين دن کي مہلت دي جائے گي ، توبہ نہ کرنے کي صورت ميں اسے قتل کرديا جائے گا ?
انہوں نے اس بات کي ياد دہاني کرتے ہوئے کہ شيعہ کے نزديک مرتد فطري عورت کو مہلت دي جائے گي مگر مرتد فطري مرد کو ھرگز مہلت نہيں دي جائے گي کہا : قتل مرتد کے سلسلے ميں کيا علماء اھل سنت کے پاس روايتيں موجود ہيں ؟ جواب يہ ہے کہ جي ہاں روايتيں موجود ہيں ، اھل سنت کي روايتوں ميں ايا ہے کہ تين افراد واجب القتل ہيں ، ايمان کے بعد کافر ہونے والا ، شوھر دار عورت سے بد فعلي کرنے والا اور محترم انسان کا خون بہانے والا ، اس لحاظ سے قتل مرتد کوئي ايسي بات نہيں ہے جو فقط شيعہ کتابوں ميں ہي ہو اور فتوے بھي ايک جيسے ہيں ہاں شيعہ کتابيں سنيوں سے کہيں زيادہ قوي ہيں ، پس معلوم ہوا کہ مرتد کے سلسلے ميں شيعہ وسني کے نظريات ميں اتفاق ہے اختلاف نہيں ہے ?
حضرت آيت الله سبحاني نے اخر ميں ياد دہاني کي : اس گفتگو کے چھيڑنے کي وجہ يہ تھي کہ کچھ لوگ يہ کہتے ہيں کہ «لا اکراه في الدين » دين ميں کوئي جبر نہيں ہے اور مرتد بھي يہي کہتا ہے کہ ميں دين سے پلٹ گيا ، «لا اکراه في الدين » اس ايت کے ائينہ ميں ميري مرضي چاھے ميں مسلمان رہوں چاھے کافر ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے