07 July 2012 - 01:10
خبر کا کوڈ: 4308
فونت
آيت ‌الله سبحاني:
رسا نيوزايجنسي - حضرت آيت الله سبحاني نے کہا : سعوديہ کي جابر شہنشاہت نے بحرينيوں کے قتل عام کے لئے فوج بھيجيں تاکہ بحريني انقلاب سعوديہ تک نہ پہونچ سکے اوران کا تاج وتخت نہ چھن جائے ?
آيت ‌الله سبحاني

رسا نيوزايجنسي کے رپورٹر کي مشھد مقدس سے رپورٹ کے مطابق ، مرجع تقليد قم ميں سے حضرت آيت الله جعفر سبحاني نے عقائد وکلام اسلامي کي پانچويں نشست ميں جو کل صبح مدرسہ علميہ نواب مشھد مقدس ميں منعقد ہوا ، عصر معصومين ميں احکام مرتد کے اجراء نہ کئے جانے کے شبھہ کا جواب ديتے ہوئے کہا : فرض کريں زمانہ معصومين عليھم السلام ميں کسي حکم کے اجراء کيا موقع نہ آيا مگرحکم موجود تھا تو کيا اُن احکامات کو آج بھي اِن کے اِجراء ہونے کا موقع ہونے کي صورت ميں اجراء نہيں کيا جائے گا ؟

انہوں نے مزيد کہا : يہ شبھہ مِن جُملہ ان شبھات ميں سے ہے جسے وہابي بيان کرتے ہيں اور وہ اِس بات کے معتقد ہيں کہ جسے رسول اسلام اور صحابہ کرام نے انجام نہيں ديا اس کا آج بھي انجام دينا حرام ہے اور وہ اسي بنياد پر اس مسئلہ کو سب کے سامنے پيش کرتے ہيں ، اور يہ يہي وہ بنياد ہے جس کي بناء پر وہابيت سعودي حکومت کو نہيں پسند کرتي ، سعودي حکومت اور وہابي ملاوں کے درميان اختلاف کي ديواريں کھڑي ہوگئي ہيں ?

حضرت آيت الله سبحاني نے مزيد کہا : مثال کے طور پراُن کا کہنا ہے « ھم يوم ولادت پيغمبر اسلام پر محفليں نہ کريں کيوں کہ اگر يہ محفليں جائز ہوتيں تو اصحاب نے بھي محفليں کي ہوتيں » مگر شيعہ احکامات چار دليلوں ، ايت وروايت ، عقل واجماع پراستوار ہيں مگر وہابيت ترک عمل کو بھي اس ميں اضافہ کرتي ہے ? توجہ کريں کہ ترک عمل دلائل حرمت ميں سے نہيں ہے ، ممکن ہے رسول الله نے کسي فعل کو ترک کرديا ہو ، اسے انجام نہ ديا ہو اور اس بنياد پر کہ اُس زمانے ميں اُس کے انجام کا موقع نہ رہا ہو لھذا ھم اُسے ترک نہيں کرسکتے ?

انہوں نے اَيسے احکامات کو مثال کے ذريعہ روشن کرتے ہوئے کہا : کچھ لوگ رسول اسلام کے زمانے ميں مرتد ہوگئے مگر وہ پيغمبر اسلام کي دسترس سے دور تھے ، شهيد حنظلہ کے والد اسلام کے آتے ہيں مسلمان ہوگئے کيوں کہ وہ مرسل اعظم کے اعلان رسالت سے قبل ہي رسول خدا کے سلسلے ميں گفتگو کيا کرتے تھے مگر بعد ميں مرتد ہوگئے اور مکہ مکرمہ فرار کرگئے اور فتح مکہ کے بعد شام فرار کرگئے ، لھذا اگرھم ديکھتے ہيں کہ پيغمبر اسلام نے کسي حکم کو اجراء نہيں کيا تو وہ اس بنياد پر تھا کہ اس کے اِجراء کا موقع نہيں آيا تھا اور شهيد حنظلہ کے والد جيسے لوگ پيغمبراسلام کي دسترس سے دور تھے ?

اس مرجع تقليد نے قيامت کے موضوع ميں قيامت کو دين کي بنياد بتاتے ہوئے کہا : ھر وہ دين جو خدا کي طرف منصوب ہومگر اس ميں قيامت نہ ہو تو وہ دين ، الھي دين نہيں ہے بلکہ وہ ايک مَسلک ہے جيسے کہ بہاييت ، وہ دين جس ميں قيامت نہ ہو اَيسے گھر کے مانند ہے جِس کا ستون نہ ہو ?

حضرت آيت الله سبحاني نے مولائے کائنات علي ابن ابي طالب عليہ السلام کے بيانات کي روشني ميں يہ کہتے ہوئے کہ حضرت نے فرمايا « تمھارے لئے ميں دو چيزوں سے خائف ہوں ايک يہ کہ عقل کو ٹھکانے لگا دو اور نفس کي اطاعت کرنے لگو ، اور دوسرے يہ کہ اپني عمر سے بھي طولاني تمنائيں کرو کہا : ھواي نفس عقل کے مخالف ہے اورانسان قدم بہ قدم ، منزل بہ منزل عقل کا دامن تھامے رہے اور اس کي ھدايتوں پر عمل کرے ، ھر کام کے انجام سے پہلے اسے اچھي طرح عقل کے ائينے ميں پرکھ لے کہ اُسے انجام دينے کي توانائي رکھتا ہے يا نہيں ?

اس مرجع تقليد نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ بلند وبالا تمنائيں انسان سے حق کوناحق اور ناحق وحق ظاھر کرنے پر مجبورکرتي ہيں مثال پيش کرتے ہوئے کہا : آج سبھي ديکھ رہے ہيں کہ سعوديہ کے بادشاہ نے اپني عمر کے اخري لمحے ميں حکم ديا کہ بحرين ميں فوجيں غير انساني اعمال انجام ديں ، جب کہ مرسل اعظم صل اللہ عليہ والہ وسلم کے زمانے ہي سے بحرين ميں مسلمان زندگي بسر کرتے رہے ہيں اور آج وہ اپنے کمترين حقوق کے طلبگار ہيں مگر ھم ان کے کچلنے کے شاھد ہيں تاکہ بحرين کا انقلاب سعوديہ تک نہ آجائے اور کہيں اُن کا تاج وتخت تاراج نہ ہوجائے ، اسي فکر ميں بعض حکام کي بيہوشي کي خبريں موجود بھي ہيں ?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬