حجت الاسلام سيد ساجد علي نقوي :

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، قائد ملت جعفريہ پاکستان حجت الاسلام سيد ساجد علي نقوي نے ’’يوم نفاذ فقہ جعفريہ ‘‘ کے موقع پر ملتان اور مظفر گڑھ پاکستان ميں مختلف اجتماعات سے خطاب ميں تاکيد کي : پاکستان ميں اسلام کے عادلانہ نظام کے نفاذ اور عوام کے مذہبي و شہري حقوق کي جس جدوجہد کا آغاز ماضي ميں بزرگان نے کيا اور پھر جسے مرحوم قائدين سيد محمد دہلوي ، مفتي جعفر حسين اور قائد شہيد حجت الاسلام سيد عارف حسين الحسيني نے آگے بڑھايا ہم آج بھي انہيں کي فکر سے الہام ليتے ہوئے اس جدوجہد کو جاري رکھے ہوئے ہيں اور اس راستے ميں معصوم قيمتي جانوں کي قربانياں بھي جاري ہيں?
انہوں نے يہ کہتے ہوئے کہ 6 جولائي کا دن عوام کے ان جائز حقوق کے حصول کا دن ہے جو آئين نے تمام مکاتب فکر کو دئے ہيں کہا : يہ دن اتحاد و وحدت کي سنگ ميل تھا اور اس دن تمام مسالک اور مکاتب کے درميان ايک دوسرے کے عقائد ونظريات اور رسوم و عبادات کے احترام کا دائرہ کار واضح اور مشخص کيا گيا ? يہ دن قطعاً کسي ايک مسلک کي دوسرے مسلک کے خلاف محاذ آرائي نہيں تھي بلکہ اس وقت اسلا مائزيشن کے جاري عمل ميں وسعت نظري اختيار کرنے اور آئين کي پابندي کرنے کا مطالبہ کيا گيا تھا جبکہ تمام فقہوں کو مدنظر رکھ کر سب کے حقوق کي پاسداري کي طرف توجہ دلانا بھي مقصود تھا ليکن بدقسمتي سے ملک کي پاليسي سازي کے مراکز پر حاوي کوتاہ نظروں نے اس طرف توجہ نہ دي اور غلط رپورٹوں کا سہارا لے کر زور آوري اختيار کي-
ساجد نقوي نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ 6 جولائي 1980 کے کنونشن ميں عوام نے مطالبہ کيا کہ اسلامائزيشن کے عمل ميں تمام مکاتب فکر کے عقائد ونظريات کا احترام اور ان کے شہري و مذہبي حقوق کا لحاظ رکھتے ہوئے انہيں مذہبي و شہري آزادياں دي جائيں کہا : اس مقصد کے ليے عوام نے سيکرٹريٹ کا محاصرہ کيا اس پس منظر سے واضح ہے کہ يوم نفاذ فقہ جعفريہ فرقہ واريت کي نفي کا دن ہے اوراس تاريخي دن بہت سے حقائق منظرعام پر آئے اور عوام کو ان کے ہمہ نوع حقوق کے حصول کا شعورملا کيونکہ اسلامائزيشن کے طريقہ کار پر اعتراض کرتے ہوئے عوام نے مطالبہ کيا تھا کہ انہيں آئين کے تقاضوں کے مطابق شہري، مذہبي اور آئيني حقوق فراہم کئے جائيں اور قرآن وسنت اورآئين کو کسي ايک تشريح کا پابند نہ کيا جائے تاکہ اسلام کي مختلف تعبيروں سے استفادہ کرتے ہوئے جديد دور کے تقاضوں کے مطابق پاکستان کو ايک جديد اسلامي فلاحي رياست بنايا جاسکے?
انہوں اس بات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہ عوامي حقوق کے حصول کي جس جدوجہد کا آغاز 32 سال قبل کيا گيا تھا وہ اب بھي جاري ہے ليکن اب تک اس جدوجہد کے حقائق اور اصل مقاصدکا ادراک نہيں کيا گيا بلکہ فرقہ پرست قوتوں کو پہلے مرحلے ميں شہہ دي گئي کہا : پہلے پاکستان کو بدترين فرقہ واريت کي آماجگاہ بنا گيا اور پھر دوسرے مرحلے ميں اس فرقہ واريت کو تشدد اور دہشت گردي ميں بدل ديا گيا تاکہ شيعہ عوام کے حقوق غصب کئے جا سکيں اور انہيں گوليوں کا نشانہ بنايا جا سکے چنانچہ ملک کي داخلي سلامتي کو خطرات سے دوچار کرنے کے اس منصوبے پر تسلسل سے عملدرآمد کے ذريعہ دہشت گردي ، ٹارگٹ کلنگ اور قتل و غارتگري کا خوني کھيل جاري ہے ?
قائد ملت جعفريہ نے يہ کہتے ہوئے کہ اس تمام صورت حال کے باوجود ہم نے اتحاد بين المسلمين اور وحدت امت کے لئے کوششيں جاري رکھيں اورعملي طور پر اتحاد کے ليے بننے والے تمام فورموں اور پليٹ فارموں ميں شريک رہے کہا : اج بھي حالات اور اتحاد کا تقاضا ہے کہ آئين پاکستان ميں تمام مکاتب فکر کو دئيے گئے ايک دوسرے کے حقوق کا احترام کيا جائے اور ايک دوسرے کے نظريات اور رسوم و عبادات پر اعتراض يا پابندي لگانے کي سوچ کا خاتمہ کيا جائے تاکہ پاکستان ميں اسلام کے عادلانہ نظام کي راہ ہموار ہوسکے اور لوگوں کي مشکلات دور ہوسکيں?
انہوں نے يہ کہتے ہوئے کہ 6 جولائي کا دن عوام کے ان جائز حقوق کے حصول کا دن ہے جو آئين نے تمام مکاتب فکر کو دئے ہيں کہا : يہ دن اتحاد و وحدت کي سنگ ميل تھا اور اس دن تمام مسالک اور مکاتب کے درميان ايک دوسرے کے عقائد ونظريات اور رسوم و عبادات کے احترام کا دائرہ کار واضح اور مشخص کيا گيا ? يہ دن قطعاً کسي ايک مسلک کي دوسرے مسلک کے خلاف محاذ آرائي نہيں تھي بلکہ اس وقت اسلا مائزيشن کے جاري عمل ميں وسعت نظري اختيار کرنے اور آئين کي پابندي کرنے کا مطالبہ کيا گيا تھا جبکہ تمام فقہوں کو مدنظر رکھ کر سب کے حقوق کي پاسداري کي طرف توجہ دلانا بھي مقصود تھا ليکن بدقسمتي سے ملک کي پاليسي سازي کے مراکز پر حاوي کوتاہ نظروں نے اس طرف توجہ نہ دي اور غلط رپورٹوں کا سہارا لے کر زور آوري اختيار کي-
ساجد نقوي نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ 6 جولائي 1980 کے کنونشن ميں عوام نے مطالبہ کيا کہ اسلامائزيشن کے عمل ميں تمام مکاتب فکر کے عقائد ونظريات کا احترام اور ان کے شہري و مذہبي حقوق کا لحاظ رکھتے ہوئے انہيں مذہبي و شہري آزادياں دي جائيں کہا : اس مقصد کے ليے عوام نے سيکرٹريٹ کا محاصرہ کيا اس پس منظر سے واضح ہے کہ يوم نفاذ فقہ جعفريہ فرقہ واريت کي نفي کا دن ہے اوراس تاريخي دن بہت سے حقائق منظرعام پر آئے اور عوام کو ان کے ہمہ نوع حقوق کے حصول کا شعورملا کيونکہ اسلامائزيشن کے طريقہ کار پر اعتراض کرتے ہوئے عوام نے مطالبہ کيا تھا کہ انہيں آئين کے تقاضوں کے مطابق شہري، مذہبي اور آئيني حقوق فراہم کئے جائيں اور قرآن وسنت اورآئين کو کسي ايک تشريح کا پابند نہ کيا جائے تاکہ اسلام کي مختلف تعبيروں سے استفادہ کرتے ہوئے جديد دور کے تقاضوں کے مطابق پاکستان کو ايک جديد اسلامي فلاحي رياست بنايا جاسکے?
انہوں اس بات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہ عوامي حقوق کے حصول کي جس جدوجہد کا آغاز 32 سال قبل کيا گيا تھا وہ اب بھي جاري ہے ليکن اب تک اس جدوجہد کے حقائق اور اصل مقاصدکا ادراک نہيں کيا گيا بلکہ فرقہ پرست قوتوں کو پہلے مرحلے ميں شہہ دي گئي کہا : پہلے پاکستان کو بدترين فرقہ واريت کي آماجگاہ بنا گيا اور پھر دوسرے مرحلے ميں اس فرقہ واريت کو تشدد اور دہشت گردي ميں بدل ديا گيا تاکہ شيعہ عوام کے حقوق غصب کئے جا سکيں اور انہيں گوليوں کا نشانہ بنايا جا سکے چنانچہ ملک کي داخلي سلامتي کو خطرات سے دوچار کرنے کے اس منصوبے پر تسلسل سے عملدرآمد کے ذريعہ دہشت گردي ، ٹارگٹ کلنگ اور قتل و غارتگري کا خوني کھيل جاري ہے ?
قائد ملت جعفريہ نے يہ کہتے ہوئے کہ اس تمام صورت حال کے باوجود ہم نے اتحاد بين المسلمين اور وحدت امت کے لئے کوششيں جاري رکھيں اورعملي طور پر اتحاد کے ليے بننے والے تمام فورموں اور پليٹ فارموں ميں شريک رہے کہا : اج بھي حالات اور اتحاد کا تقاضا ہے کہ آئين پاکستان ميں تمام مکاتب فکر کو دئيے گئے ايک دوسرے کے حقوق کا احترام کيا جائے اور ايک دوسرے کے نظريات اور رسوم و عبادات پر اعتراض يا پابندي لگانے کي سوچ کا خاتمہ کيا جائے تاکہ پاکستان ميں اسلام کے عادلانہ نظام کي راہ ہموار ہوسکے اور لوگوں کي مشکلات دور ہوسکيں?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے