
رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مصر کے صوبے شمالی سینا میں ایک مسجد پر دہشت گردانہ حملے میں کم سے کم ڈیرھ سو افراد جاں بحق اوردسیوں دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔
مصر میں سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مصر کے صوبے شمالی سینا کے شہر العریش کے مضافات میں واقع علاقے الروضہ کی مسجد میں نماز جمعہ میں شریک نمازیوں پر دہشت گردوں نے بم سے حملہ کرنے کے ساتھ ساتھ اندھا دھند فائرنگ بھی کردی جس میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 155 نمازی جاں بحق اور تقریبا 100 زخمی ہوگئے۔
بعض خبروں نے اس حادثہ میں مرنے والوں کی تعداد 200 بھی بتائی گئی ہے۔
تاحال کسی گروہ نے اس دہشت گردانہ حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم اس علاقے میں انصاربیت المقدس نامی دہشت گرد گروہ سرگرم ہے جس نے دوہزار چودہ میں داعش کی بیعت کی تھی۔
اس گروہ نے اب اپنا نام تبدیل کر کے ولایت سینا رکھ لیا ہے اور یہ دہشت گرد گروہ شمالی سینا میں اب تک بہت سے دہشت گردانہ حملے کرچکا ہے۔
مصرکے صدر عبدالفتاح السیسی نے صوبہ شمالی سینا میں ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے پورے ملک میں تین روز کے عام سوگ کا اعلان کیا ہے۔
واضح رہے کہ العریش کے اسپتالوں میں بھی ہنگامی حالت نافذ کردی گئی ہے۔/۹۸۹/ف۹۴۰/