العمل اسلامي تحريک بحرين :

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، العمل اسلامي تحريک بحرين نے ايک پيغام ميں سعودي پوليس کي العواميہ سعوديہ کے امام جمعہ پر فائرنگ اور ان کي گرفتاري پر شديد مذمت کرتے ہوئے امريکا کو اس اقدام کا ذمہ دار ٹہرايا ?
اس پيغام ميں ايا ہے : کل شام آيت الله شيخ نمر پر انجام پانے والي بدترين جنايت اور فائرنگ ظالم ا?ل سعود کي وحشي گري اور ان کے سامراجي جزبات کا بيان گر ہے ، آيت الله شيخ نمرعرب دنيا کے بزرگ علماء ميں سے ہيں اور اپ کا سعودي کے ان اپوزيشن ليڈرس ميں شمار ہوتا ہے جو اپنے نظريات کو روشن طريقے سے بيان کرنے کے عادي ہيں ، وہ نماز جمعہ کے خطبوں ميں بحرينيوں کے خلاف سعودي کي جنايتوں کو برملا کرتے رہے ہيں ?
العمل اسلامي تحريک بحرين نے مزيد کہا : ھم اس جنايت کي مذمت کرتے ہيں اور امريکا کو اس حادثہ کا ذمہ دار ٹہراتے ہيں ، شيخ نمر ايک فرد نہيں ہيں بلکہ ايک مذھبي اور قومي نشاني اور عوامي اپوزيشن ليڈر ہيں جو موجودہ حکومت کي سياستوں کے مخالف ہيں ان کي گرفتاري موجودہ ڈيکٹيٹر نظام کے مخالفين کي تعداد ميں بڑھنے کا سبب ہوگا ?
اس تحريک نے بحرينيوں سے اس گرفتاري کے اعتراض ميں اعلي پيمانے پر مظاھرے کرنے کي دعوت دي اور کہا : ھم تمام بحرينيوں کو اس جنايت کي محکوميت ميں قيام کي دعوت ديتے ہيں کہ وہ مظاھرے ميں شيخ باقر نمر کي تصويريں ہاتھوں ميں اٹھا کر ان کے ساتھ اظھار ھمدردي کريں ?
اس پيغام کے اخر ميں ايا ہے : ھم خداوند متعال سے شيخ باقر نمر اور ظالم وجابر ال سعود کي جيلوں ميں موجود تمام مجاہدين کي ازادي کي دعا کرتے ہيں و نيز ملت بحرين کي پيروزي کے طلبگار ہيں ?
قابل ذکرہے کہ العواميہ کے امام جمعہ ، شيخ باقر نمر کل شام کے وقت گھر کي واپسي ميں سعودي پوليس کے ہاتھوں گرفتار کرلئے گئے ، پوليس نے پہلے ان کي گاڑي پر فائرنگ کي ، فائرنگ سے ان کي گاڑي ايک گھر سے ٹکرا گئي اور پھرپوليس نے انہيں گرفتار کر ليا ?
علامه نمر کو گولي لگنےکے سبب تيزي سے خون بہ رہا تھا مگر سعودي پوليس نے بے رحمي کے ساتھ انہيں ان کي گاڑي سے کھينچ کر نکالا اور نامعلوم مکان تک منتقل کرديا ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے