10 July 2012 - 02:04
خبر کا کوڈ: 4323
فونت
حوزہ علميہ ميں عالمي شعبہ کے ذمہ دار:
رسا نيوزايجنسي - حوزہ علميہ قم ميں عالمي شعبہ کے ذمہ دار نے دشمنوں کي مومنين پر سختياں ان کو راہ ايمان و استقلال پرگامزن رہنے کي بنياد پرجانا اور کہا : ايرانيوں کو ھرگز پسند نہيں کہ اپني اسائش کے لئے اپنا استقلال کھو ديں اور سامراجيت کي غلامي کريں ?
حجت‌الاسلام زماني

حوزہ علميہ ميں عالمي شعبہ کے ذمہ دار ، حجت الاسلام محمد حسن زماني نے رسا نيوزايجنسي کے رپورٹر سے گفتگو ميں يورپ کي جانب سے ائيل پر لگائي گئي پابنديوں کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : يورپ اور اور امريکا کي جانب سے ايران پر اقتصادي پابندياں کوئي نئي چيز نہيں ہے ?

حوزہ علميہ قم ميں عالمي شعبہ کے ذمہ دار نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ ان پابنديوں کي جڑيں سامراجيت مزاجي اور ا?مريت طلبي ہے اور تاريخ ميں ھميشہ باطل نے حق کي راہ ميں روڑے اٹکانے کي کوششيں کي ہيں کہا : يہ سختياں مرسل اعظم صل اللہ عليہ والہ وسلم کے زمانے ميں بھي موجود تھيں ، استکبار اپ کے زمانے ميں بھي اپ پر دباو ڈالتا رہا تھا ?
حجت‌ الاسلام زماني نے ياد دہاني کي : پيغمبر اسلام (ص) کے زمانے ميں بھي شِعب ابي طالب ميں پابندياں موجود تھيں اور ائمہ اطھار (ع) کے دشمن بھي سياسي اور اقتصادي محاصرہ کرکے عوام کومشکلات سے روبرو کرتے رہے ہيں ?

انہوں نے پابنديوں اور دباو کو ستمگروں کي پُراني بُري سنت بتاتے ہوئے کہا کہ اِسے معصومين کو دباو ميں رکھنے کي غرض سے قائم کيا گيا تھا اورتاکيد کي : کبھي محاصرے سخت کردئے جاتے تھے اور ائمہ عليھم السلام کو ايک علاقہ ميں نظر بند کرديا کرتے تھے ، امامين عسکريين(ع) سے عوامي رابطہ توڑنے کي غرض سے انہيں فوجي چھاوني ميں رکھا گيا اور ان سختيوں کا سب سے برا زمانہ ساتويں امام موسي ‌بن جعفر الکاظم (ع) کا دور تھا ?

حوزہ علميہ ميں عالمي شعبہ کے ذمہ دارنے کہا : پوري تاريخ ميں حق تحريکوں نے اقتصادي پابندياں ديکھي ہيں اور يہ ايران کے لئے کوئي نئي چيز نہيں ہے ، اگر دشمنوں نے ھم پر پابندياں لگائي ہيں اور ھم اقتصادي محاصرے ميں ہيں تو تعجب نہ کريں ?

انہوں نے امام خميني (رہ) کي فرمائشات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہ اگرکسي دن ھمارا دشمنوں اور امريکا ھم سے راضي ہو تو ھميں اس سلسلے ميں شک کرنا چاھئے تاکيد کي : ايراني قوم ھميشہ دشمنوں کي سازشوں سے مقابلہ کے لئے تيار رہے ، جب تک ھم دشمنوں کو ٹيکس نہيں ديں گے اور ديگر مظلوم قوموں کي حمايت کرتے رہيں گے دشمنوں کے دباو اور اقتصادي پابنديوں کا شکار رہيں گے ?

جب تک باطل موجود ہے ھم پابنديوں اور دباو کے توقع رکھيں

حجت‌الاسلام زماني نے مزيد کہا : جب تک دنيا ميں باطل موجود ہےھم پابنديوں اور دباو کے توقع رکھيں ، يہ سختياں ظهور امام زمانہ (عج ) تک چلتي رہيں گي اور وہي ظلم وستم کي ديواريں گرائيں گے ?

انہوں نے مزيد يہ بيان کرتے ہوئے کہ دين اسلام نے اسے حالات ہي کے لئے روزہ اور بھوک کي تمرين کرائي ہے کہا : روزہ کا ايک فلسفہ رياضت اور بھوک کا برداشت کرنا ہے کہ اگر ايک دن ايسا وقت ا?گيا تو ھميں اس کي عادت رہے ?

حوزہ علميہ ميں قم عالمي شعبہ کے ذمہ دار نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ دشمن کا ايک حربہ اقتصادي ، سياسي محاصرہ اور پابندياں ہيں کہا : اگر اس کا ھميں يقين ہوجائے تو ھرگز جلد بازي سے کام نہيں ليں گے ، سلامتي کونسل کے فيصلوں سے عوام اور حکام مضطرِب و پريشان نہيں ہوں گے اورا?ساني سے ان مشکلات کو حل کر ليں گے ?

انہوں نے مزيد کہا : سماجي ميڈيا ، ريڈيو ، ٹي وي اور نيوز ايجنسياں اس يقين کو قوم کے ذھنوں تک پہونچانے کي کوشش کريں تاکہ وہ دن جب اسلامي جمھوريہ ايران مستقل ہوکر دشمنوں کے زير سايہ نہ رہے ، دنيا کے مظلوموں کے دفاع اور اپنے حق کے مطالبہ تک دشمنوں کي پابنديوں اوردباو کي منتظر رہے ?

ھميں حق پر چلنے کي قيمت چکاني پڑے گي

حجت‌الاسلام زماني نے يہ بيان کرتے ہوئے پابنديوں کا سلسلہ باقي رہے گا اور ان کے بڑھنےکي اميديں بھي کي جاسکتي ہيں تاکيد کي : يقينا اس کے سخت نتائج بھي ہيں ، مہنگائي اور سامان فروخت کرنے کے لئے عالمي مارکيٹ کا فقدان ملک کے اقتصادي نظام کو تزلزل کا شکار کرسکتا ہے مگر حق کي اطاعت اور دشمنوں سے مقابلہ ميں ان نتائج کا سہنا ضروري ہے ?

انہوں نے ايات قران کريم کے ائينے ميں يہ کہتے ہوئے کہ مومنين پر دشمنوں کي سختياں ان کے ايمان اوراستقلال کي نشاني ہے کہا : مومنين اس جرم پر فخر کرتے ہيں اور اس کي قيمت بھي دينے کو تيار ہيں ?

حوزہ علميہ ميں عالمي شعبہ کے ذمہ دار نے مزيد کہا : عوام ان مشکلات کو خدا کي رضايت اور استقلال کي حفاظت ميں تحمل کرتے ہيں اور ايرانيوں کو ھرگز پسند نہيں کہ اپني اسائش کے لئے اپنا استقلال کھو ديں اور سامراجيت کي غلامي کريں ?

انہوں نے اقتصادي پابنديوں کے حوالے سے رھبر معظم انقلاب اسلامي کي فرمائشات کا حوالہ ديتے ہوئے کہ پابنديوں کا بظاھر بڑھتا ہوا دباو اقتصادي رفتار ميں کمي کا سبب ہے مگر درحقيقت پابندياں ھماري قوم کے لئے نعمت شمار کي جاتي ہے اضافہ کيا : ايراني قوم خلاقيت کے ذريعہ اپنے پيروں پر کھڑي ہو اور علم کے ميدان ميں ترقي کرکے ملک کے اقتصاديات کو ٹھيک کرے ?

حجت‌الاسلام زماني نے ياد ہاني کي : اگرھمارے پاس تين دہاييوں کا تجربہ نہ ہوتا تو اس بات کا يقين مشکل تھا کہ پابندياں ھمارے حق ميں مفيد ثابت ہوئي ہيں ، مگر ايرانيوں نے اس تيس سال کےعرصے ميں يہ ثابت کرديکھايا کہ ايران کو ترقي نصيب ہوئي ہے ?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬