17 July 2012 - 20:51
خبر کا کوڈ: 4338
فونت
پاکستاني سني عالم :
رسا نيوزايجنسي - پاکستاني سني عالم حافظ حسين احمد نے تاکيد کي : پاکستان ميں شيعہ اورسني دونوں پرايک ہي گروہ حملہ آور ہے ?
حافظ حسين احمد

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، جميعت علمائے اسلام کے رہنما ، حافظ حسين احمد ميڈيا اھلکار سے گفتگو ميں پاکستان کي موجود دھشت گردي پر شديد تنقيد کيا ?

ملي يکجہتي کونسل کے جنرل سکريٹري نے يہ کہتے ہوئے کہ پاکستان ميں شيعہ اور سني دونوں پرايک ہي گروہ حملہ آور ہے اضافہ کيا : اس وقت پاکستان ميں طالبان اور طالبان کے حليہ ميں عالمي سامراجيت کے خاص افراد مسلکي فتنے کي ا?گ کو بھڑکانے کے درپہ ہيں جن کا وجود ھم پراور عدليہ پر بھي واضح ہے ?

انہوں نے پاکستان کے چيف جسٹس کي باتوں کا حوالہ ديتے ہوئے کہ بلوچستان ميں کالعدم تنظيموں کو غير ملکي فنڈنگ ہو رہي ہے اور يہي موجودہ قتل و غارت کي سب سے بڑي وجہ ہے کہا : امريکہ پاکستان کو توڑنے کي غرض سے فنڈنگ کر رہا ہے?

سارے حملے ايک ہي جانب سے ہو رہے ہيں

حافظ حسين احمد نے کراچي کے علاقے شاہ فيصل ميں جامعہ فاروقيہ اور اس کے ساتھ ہي امام بارگاہ ميں ہوئے حادثہ کي تفصيل بتاتے ہوئے کہا : جامعہ فاروقيہ کي جانب ايک ٹيکسي آئي اور اس ميں سوار افراد نے جامعہ فاروقيہ پر فائرنگ کي جس ميں کچھ آدمي زخمي ہوگئے ، وہاں پر کھڑے افراد نے اس گاڑي کا نمبر نوٹ کيا? ٹھيک دس منٹ بعد امام بارگاہ پر فائرنگ ہوئي اور کچھ افراد زخمي ہوگئے اور انہوں نے بھي ٹيکسي کا نمبر نوٹ کرليا ، دونوں طرف کے لوگ رپورٹ درج کرانے تھانہ پہونچے تو دونوں نے ايک ہي ٹيکسي کا نمبر پيش کيا ?

يعني ايک ہي ٹيکسي سے سني مدرسہ پر فائرنگ ہوئي اور ٹھيک دس منٹ بعد اسي ٹيکسي سے امام بارگاہ پر فائرنگ ہوئي ، تاکہ امام بارگاہ والے سمجھيں کہ سنيوں نے حملہ کيا ہے اور مدرسہ والے سمجھيں کہ شيعوں نے حملہ کيا ہے مگر جب دونوں حادثہ کي ٹيکسي کا نمبر ايک ہي نکالا تو معلوم ہوا کہ پس پردہ کوئي اور کہاني ہے ?

انہوں نے مزيد کہا : اسلام آباد ميں امريکي سفارتخانہ کيلئے دي گئي 56 ايکٹر زمين اور وقت بليک واٹر کي موجود گي ايک ہي نشانے اور ايک ہي سلسلہ کي کڑي ہے ?

جميعت علمائے اسلام کے رہنما نے اسلام آباد ميں پوش سيکٹر کے بڑے بڑے بنگلے ، وہاں کي بند سڑکوں اور تعمير کردہ ڈبل ديواروں کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : کراچي اور ملک کے ديگر علاقوں ميں کئي سال کے ايڈوانس کرايہ وصول کر کے ہزاروں کي تعداد ميں ديئے گئے بنگلہ ميں کون لوگ مقيم ہيں اور کس کے کہنے پر يہ يہاں قيام پذير ہيں اور ان کا مقصد کيا ہے، کيا يہ لوگ آپ کے پابند ہيں ، کيا سفارتکاري کے يہي آداب ہيں?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬