آيت الله ممدوحي:

آيتالله حسن ممدوحي نے رسا نيوزايجنسي کے رپورٹر سے گفتگو ميں ميانمار کے مسلمانوں کے قتل عام کي مذمت کي اور کہا : ان حوادث اور جنايتوں نے عالمي معاشرے اور انسان دوست مراکز کے جھوٹھے داعووں کو ثابت کردکھايا ہے ?
انہوں نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ انسان حقوق کے مدعي ميانمار قتل عام کے مقابل خاموشي پہ جواب دہ ہوں گے تاکيد کي : ميانمار ميں مسلمان مرد وعورت ، بوڑھے بچوں کے قتل عام سے ھر ازاد انسان کا دل دکھي ہے مگر انساني حقوق کے مدعي خاموش تماشائي ہيں اور اس سلسلے ميں ھر قسم کا اقدام کرنے سے گريزاں ہيں ?
مجلس خبرگان رھبر کونسل کے ممبر نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ اس نسل کشي کے مقابل خاموشي بے معني اور بے دليل ہے کہا : اس سانحے اور قتل عام کے مقابل ، انساني حقوق کے دعويداروں کي خاموشي کے دومعني ہيں ؛ ايک يہ کہ وہ اس نسل کشي کے قائل ہيں اور دوسرے يہ کہ اس نسل کے سلسلے ميں بے حس ہيں ? اور دونوں حالتوں ميں يہ ثابت ہے کہ انساني حقوق کے سلسلے ميں ان کي دعويداري جھوٹي ہے ?
انہوں نے دنيا کے مسلمان کو اس قتل عام کے مقابل ھرگز خاموش نہ رہنے کي تاکيد کرتے ہوئے کہا : مسلمانوں کي ذمہ داري ہے کہ ميانمار کے مسلمانوں کي ھرقسم کي مدد کريں تاکہ وہ سامراجيت اور ظلم سے مقابلہ کرسکيں ?
آيت الله ممدوحي نے مزيد کہا : اس نسل کشي ميں عالمي سامراجيت کےکردار کو ھرگز فراموش نہيں کيا جاسکتا ، اور دنيا کے جس کونے ميں بھي کسي مسلمان کا خون بہتا ہے اس ميں امريکا ، انگلينڈ اور غاصب صھيونيت اسرائيل شامل ہوتے ہيں ?
انہوں نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ اس موقع پر اسلامي ممالک کے بھي دو گروہ ہيں کہا : بعض ممالک جيسے ايران ازاد ہيں اور بعض ممالک مغرب اور امريکا کے نقش قدم پر ہيں ، ازاد اسلامي ممالک کي ذمہ داري ہے کہ عدالت طلبي کے نارے لگائيں اور سامراجي سازشوں کو برملا کريں ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے