ميانمار کے مسلمانوں کے قتل عام ميں شدت کے سبب :

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، علماء الازھر مصر نے ايک بيانيہ ميں ميانمار کے مسلمانوں کے قتل عام ، ان پر زيادتي اور انہيںجلائے جانے کي شديد مذمت کرتے ہوئے دنيا کے مختلف گوشے ميں موجودہ ميانمار کے سفارت خانوں کے گھراو کا مطالبہ کيا ?
اس بيانيہ ميں ايا ہے : اج اس ملک ميں بچے جلائے جارہے ہيں ، مسلمان حکومت کي زير سايہ قتل عام کيا جارہا ہے ، افسوس اسلامي ممالک اور دنيا اس شرمناک جنايتوں کے مقابل خاموش تماشائي ہے ?
علماء الازهر نے تحرير کيا : جلد از اس انسان سوز اقدامات پر روک لگائي جائے اور عالمي مراکز و انساني حقوق کي تنظيميں مسلمانوں کے مسائل کيا في الفور رسيدگي کريں ?
قابل ذکر ہے کہ ميانمار کے صدر جمھوريہ نے علي الاعلان يہ کہا ہے کہ مسلمانوں کي نجات کا تنہا راستہ انہيں کيمپوں ميں پناہ گزيں ہونا ہے ?
اخري موصولہ رپورٹ کے مطابق، ميانمار کے مختلف علاقے ميں تقريبا ايک ھزار لوگ مارے گئے ہيں اور لاکھوں افراد اوارہ وطن ہوگئے ہيں ، جبکہ عالمي مراکز اور انساني حقوق کے دعويداروں نے اس نسل کشي کے مقابل کوئي عکس العمل ظاھر نہيں کيا ہے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے