25 July 2012 - 20:14
خبر کا کوڈ: 4372
فونت
رسا نيوزايجنسي - ¬ حضرت آيت‌ الله مکارم شيرازي نے عراق کے حاليہ دھشت گردانہ حملہ کو جو 300 ادميوں کے جاں بحق اورزخمي ہونے کا سبب بنا نيزاس حملہ ميں عالمي مراکز کي خاموشي پر شديد مذمت کي اور شدت پسند وہابيوں کو اس حملہ کا ذمہ دار ٹھہرايا ?
آيت ‌الله مکارم شيرازي

رسا نيوزايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق ، مراجع تقليد قم ميں سے حضرت آيت ‌الله ناصر مکارم شيرازي نے چوتھي ماہ مبارک رمضان کو اپني سلسلہ وار تفسير کي نشست ميں جو شبستان امام خميني (رہ) ، حرم کريمہ اھلبيت (ع) حضرت معصومہ قم (س) ميں زائرين ومجاورين کي شرکت ميں انجام پائي عراق کے حاليہ دھشت گرادنہ حملہ کي شديد مذمت کي ?

انہوں نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ پچھلے دنوں عراق ميں عظيم سانحہ رونما ہوا ذکر کيا : اس 26 بم بلاسٹ ميں سيکڑوں جاں بحق اور 200 ادمي زخمي ہوگئے، يہ دھشت گردانہ حملہ ماہ مبارک رمضان ميں انجام پايا جس نے سيکڑوں انسانوں کو ان کے خون ميں نہلا ديا ?

حضرت آيت الله مکارم شيرازي نے کہا : يہ کون لوگ ہيں جو ماہ مبارک رمضان، ماه ضيافت ‌الله ميں روزہ دار مسلمانوں اس طرح خون ميں غلطاں کررہے ہيں ؟ ان ميں کچھ متعصب اور شدت پسند وہابي ہيں جن کے يہاں ذرہ برابر بھي اسلام نہيں ہے اور انہيں امريکا و اسرائيل کي حمايت وپشت پناہي حاصل ہے، امريکا جو انساني حقوق کا علمبردارہے خود اس طرح کي جنايتوں ميں پيش پيش ہے ?

انہوں نے بيان کيا : اس جنايت کو کيا نام ديں گے ؟ کيا اس ہے بھي بڑي کوئي وحشي گري ہے، تاريخ ميں کون لوگ اس طرح کي جنايتيں انجام ديتے ہيں ؟ ھم شديدا اس جنايت اور ان جنايتوں کے مقابل خاموشي اپنانے والوں کي مذمت کرتے ہيں ?

اس مرجع تقليد نے اس سانحہ کے ستم ديدہ گھرانوں سے اظھار ھمدردي کرتے ہوئے ياد دہاني کي : مرنے والوں سے زيادہ ھميں اسلام کي فکر لاحق ہے، افسوس يہ لوگ غير عقلي اور منطقي اقدامات کے ذريعہ اسلام کي ترقي ميں روڑے اٹکا رہے ہيں اور دنيا ميں اسلام کي بدنامي کا سبب ہيں ?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬