26 July 2012 - 19:24
خبر کا کوڈ: 4374
فونت
روزه‌ داري کے احکام (2)؛
رسا نيوزايجنسي - مرحوم حضرت آيت الله شيخ جواد تبريزي کے دفتر ميں استفائات کے ذمہ دار نے کہا : روزہ رکھنے کي توانائي رکھنے والے بچے کو روزہ رکھنے سے روکنے کا گناہ ماں باپ کي گردن پر ہے اور اس کا کفارہ خود بچے کي گردن پر ہے ?
احکام روزہ داري

فقہي مسائل کے ماھر حجت الاسلام حسين وحيد پور نے رسا نيوزايجنسي کے رپورٹر سے گفتگو ميں يہ بيان کرتے ہوئے کہ اگر ماں باپ مطمئن ہوں کہ روزہ ان کے بچے کے لئے نقصان دہ نہيں ہے بلکہ محبت وشفقت کي بنياد پر روزہ رکھنے سے منع کرتے ہيں تو اگاہ رہيں کہ گناہ کا سبب ہے ?

انہوں نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ لڑکے، لڑکيوں کي بنسبت ديرميں بالغ ہوتے ہيں لھذا تھوڑے سے مقدمات کے ساتھ وہ روزہ رکھ سکتے ہيں کہا : 15 سال کي عمر ميں معمولا لڑکوں کو روزہ رکھنے کي توانائي حاصل ہوجاتي ہے?

فقہي مسائل کے اس ماھر نے مزيد کہا : مگر لڑکياں جن کا 9 سال پورا ہوچکا ہے اوروہ بالغ ہوچکي ہيں اگرمردد ہوں کہ روزہ رکھنے کي توانائي رکھتي ہيں يا نہيں اس حالت ميں اگر ماں باپ مطمئن ہوں کہ روزہ رکھنے کي توانائي نہيں رکھتي ہے تو کوئي بات نہيں کہ محبت وشفت کي بنياد پر اسے روزہ رکھنے سے روک ديں ?

مرحوم حضرت آيت الله شيخ جواد تبريزي کے دفتر ميں استفائات کے ذمہ دار نے اس بات پر زور ديتے ہوئے کہ اگر ماں باپ مطمئن ہوں کہ بچہ روزہ نہيں رکھ سکتا تو اسے روزہ رکھنے سے روک ديں اور ہاں اگر مطمئن نہ ہوں تو خود کو جھنمي نہ بنائيں کہا : جو بچہ روزہ رکھنے کي توانائي رکھتا ہو اس کے روزہ رکھنے سے روکنے کا گناہ ماں باپ کي گردن پر ہے اور کفارہ بچہ کي گردن پر ہے ?

انہوں نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ روزہ رکھنے کے لئے روزہ رکھنے کي طاقت وتوانائي شرط ہے لھذا جو بچے روزہ رکھنے کي طاقت رکھتے ہيں وہ روزہ رکھيں اور اگر طاقت نہيں ہے تو روزہ نہ رکھيں کہا : ماں باپ بچے کےحق ميں محبت وشفقت سے کام نہ ليں اگر بچہ حقيقتا روزہ رکھ سکتا ہے تو روزہ رکھے اور اسے روزہ رکھنے سے نہ روکيں ?

حجت‌ الاسلام وحيد پورنے مزيد بيان کيا : جو بچے روزہ رکھنے کي توانائي نہيں رکھتے وہ اِسے پورے مہينہ روزہ نہ رکھنے کا بہانہ نہ بنائيں اگر ہوسکے تو ايک دن بيچ کرکے روزہ رکھيں اور بعد ميں چھوٹے ہوئے روزہ کي قضا کرديں ?

تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬