نجف کےامام جمعہ:

رسا نيوزايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق ، نجف اشرف کے امام جمعہ ، حجت الاسلام سيد صدرالدين قبانچي نے کل نماز جمعہ کے خطبے ميں جو امام بارگاہ فاطميہ کبري ميں منعقد ہوا برما ميں مسلمانوں کے قتل عام کو اسلام کے خلاف عالمي جنگ بتاتے ہوئے کہا : برما ميں عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کا قتل اور انہيں جلا ديا جانا اور بہت سارے لوگوں کا اوارہ وطن ہونا يہ سب بيان کرتا ہے کہ بودائيوں نے اِسے امريکا کي ہري جھنڈي ديکھانے کے بعد انجام ديا ہے ?
انہوں نے مزيد کہا : افسوس مسلمانوں کے خلاف وحشتناک جنايتيں انجام پارہي ہے مگر دنيا خاموش تماشائي بني ہے اور جو باتيں ميڈيا ميں نشر ہورہي ہيں وہ بہت کم ہيں ?
حجت الاسلام قبانچي نے فرانس کے وزير خارجہ کے بيان کہ دين اسلام ميانہ رو اور حق پسند دين ہے کا استقبال کرتے ہوئے کہا : ھم فرانس کے وزير خارجہ کي باتوں کا استقبال کرتے ہيں مگر برما کے سلسلے ميں فرانس کا موقف کيا رہا ہے؟ کيا ان کي باتيں مسلمانوں کو دھوکھہ دينے اور برما کے سلسلے ميں مسلمانوں کو خاموش کرنے کي غرض سے نہيں ہيں ؟ عالمي معاشرہ مسلمانوں کے خلاف انجام پارہي جنايتوں کے سلسلے ميں جواب دہ ہے، انساني حقوق کي ادائيگي کے سلسلے ميں ھمارا ان سے مطالبہ ہے کہ اپني ذمہ داريوں کو بخوبي انجام ديں ?
نجف اشرف کے امام جمعہ نے بلوائيوں کے ہاتھوں سوريہ ميں مقيم عراقيوں کے قتل عام کي شديد مذمت کرتے ہوئے کہا : سوريہ ميں مقيم عراقيوں کا قتل عام مسلکي اختلافات کي اگ بھڑکانے کي غرض سےانجام ديا گيا ہے، بعض گروپ مسلسل اس کوشش ميں مصروف ہيں کہ سوريہ ميں مسلکي جنگ رونما کرديں اور وہ ھرگز بنيادي تبديليوں کے درپہ نہيں ہيں ?
انہوں نے بلوائيوں کو بني اميہ، معاويہ اور يزيد کا ماننے والا خطاب ديتے ہوئے کہا : حرم حضرت زينب وسکينہ سلام اللہ عليھما کو منھدم کرنے کي دھمکي، بلوائيوں کي بڑے پيمانے پر مالي امداد، اور سعوديہ ميں دھشت گردوں کي کاميابي کي دعائيں سوريہ ميں مسلکي جنگ بھڑکانے جانے پر روشن دليل ہے، يہ لوگ فلسطين اور ميانمار کے مسلمانوں کي نجات کے لئے ھرگز دعا نہيں کرتے مگر دھشت گردوں کي کاميابي کے لئے دعا گو ہيں ?
سيد صدرالدين قبانچي نے سوريہ کے مھاجرين کو عراقي حکومت کي جانب سے جگہ ديئے جانے پر خوشي کا اظھار کرتے ہوئے کہا : سوريہ ميں رہنے والے سورين اور عراقيوں کو عراقي حکومت کي جانب سے پناہ ديا جانا تحسين برانگيز اقدام تھا اور حکومت سے ھماري درخواست ہے کہ اپني امداد سے گريز نہ کريں، افسوس ان کے حق ميں عرب ليگ کا اقدام مناسب نہيں تھا وہ دھشت گردوں کي حمايت ميں مصروف ہيں?
حوزہ علميہ نجف اشرف کے استاد نے عراق کے حاليہ بم بلاسٹ ميں امريکا اور سعوديہ کا ہاتھ بتاتے ہوئے کہا : عراق ميں داخلي ومسلکي جنگ کے رونما کرنے اور عراقيوں کو تہہ تيغ کرنے کے سلسلے ميں منظم پروگرام بنائے گئے ہيں اور سعوديہ انٹليجنس کے سربراہ کے بقول عراق القاعدہ کے لئے مکان امن بننا چاھئے اس طرح کے حملات کا بيان گر ہے اور ان جنايتوں کے مقابل امريکا کي خاموشي اس کي شرکت کي بيان گر ہے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے