ڈاکٹراحمد ملي:

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، حزب اللہ لبنان ميں پوليٹيکل شعبے کے ذمہ دار ڈاکٹر احمد ملي نے راستہ کي تعيّن ميں صحيح راستہ کا انتخاب ضروري جانا اور کہا: اگر سمت غلط ہو تو صدام جيسے لوگوں کا خميازہ امت مسلم کو بھگتنا پڑتا ہے?
انہوں نے يہ کہتے ہوئے کہ ايران و پاکستان دنيا ميں دو تنہا ملک ہيں جنہوں نے ہماري حمايت کي، جس سے ہمارے حوصلوں کو تقويت ملي کہا : ہم ان ايام ميں اپني کاميابي کا چھٹا جشن منا رہے ہيں، حزب اللہ لبنان نے جولائي 2006ء ميں اسرائيل کو شکست فاش سے دوچار کرکے اسلام کو بڑي کاميابي سے ہمکنار کيا تھا ?
ڈاکٹر احمد ملي نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ صيہوني رياست کے سابق سربراہ بن گورين نے اس اميد کا اظہار کيا تھا کہ چھوٹا سا ملک لبنان ہمارے وجود کو سب سے پہلے تسليم کرے گا ليکن اس باحميت اور خودار قوم نے صيہوني رياست کے ناپاک وجود کو تسليم نہ کيا کہا : ہمارے دشمن کو اميد تھي کہ سني، شيعہ اور مسيحي کا ملک لبنان متضاد نظريات ہونے کي وجہ سے انتشار کا شکار رہے گا اور يہ ہمارے خلاف کچھ بھي نہ کر پائيں گے ليکن ہم نے اتفاق و اتحاد سے اسرائيل کي اميدوں پر پاني پھير ديا?
انہوں نے يہ کہتے ہوئے کہ حزب اللہ کے با ايمان و با صلاحيت افراد نے صيہونيت کو ہر محاذ پر شکست سے دوچار کيا، جس کي بنيادي وجہ صحيح راستے کا انتخاب اور قدس کو اپنا مطمع نظر قرار دينا ہے کہا : صيہونيت نے پہ در پہ ناکاميوں کے بعد ارسيليہ کے مقام پر دانشور کانفرنس کا انعقاد کيا جسميں ميں سفارشات مرتب کي گئيں کہ اسلامي تحريکوں کے خلاف جنگ سے ہم عاجز و ناتواں ہيں لہذا مسلمانوں کے درميان موجود اختلافات پر کام کيا جائے اور ان اختلافات کو ہوا دي جائے?
حزب اللہ لبنان ميں پوليٹيکل شعبے کے ذمہ دارنے يہ کہتے ہوئے کہ ہماري جہت اور سمت قدس ہوني چاہئے سوريہ کے حالات کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : سوريہ ميں مزاحمت عوامي نہيں بلکہ استعماري ہے اوران کي حمايت ميں امريکي لابي کا ہدف فقط اسرائيل کا تحفظ ہے، ہم شام کے عوام کو کسي صورت تنہا نہيں چھوڑيں گے اور اسرائيل کو ہر محاذ ہر شکست سے دوچار کريں گے?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے