
رسا نيوزايجنسي کي ا?ن اسلام سے منقولہ رپورٹ کے مطابق ، سنٹ مري يونيورسٹي کے استاد اور انساني حقوق کے سرگرم رکن حسن حسين نے بيان کيا : اسلامي بيداري کي لہريں اٹيوپي تک پہونچ چکي ہيں، اٹيوپي کے وزيراعظم نے مسلمانوں کے ساتھ سختي اس مشکل کے حل کا تنہا راستہ جانا ہے ?
انہوں نے کہا: مظاھرين جانتے ہيں کہ شھري ا?زادي اور جمھوريت کے لانے ميں اکثريت کي پشتپناہي اور حمايت سے ھمکنار ہيں ?
حسين نے مزيد کہا: اٹيوپي وزيراعظم کي جانب سے مسلمانوں پر بڑھتا ہوا دباو انقلاب کي پيروزي کا سبب ہوگا ?
انساني حقوق کے سرگرم رکن نے کہا: عوامي مطالبات کي تکميل کيلئے حکومت کا بدلنا ضروري ہے، جيسا کہ عرب ممالک ميں ہوا اور ديکھ رہے ہيں ?
واضح رہے کہ گذشتہ ھفتے اٹيوپي ميں مسلمانوں کے مذھبي مسائل ميں گورمنٹ کي مداخلت کے سبب اٹيوپي گورمنٹ مسلمانوں کے اعتراضات سے روبرو ہے ?
اٹيوپي ميں تين کروڑ مسلمان ہيں جو اٹيوپي کي 9 کروڑ جمعيت کا 35 پرسنٹ حصہ ہيں?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے