31 July 2012 - 15:19
خبر کا کوڈ: 4391
فونت
رسا نيوزايجنسي - اٹيوپي کے ايک سياسي تجزيہ نگار نے کہا : اٹيوپي کي مسلم اقليت کے خلاف اٹيوپي کے وزيراعظم ملس زناوي کي ظالمانہ سياستوں نے اسلامي بيداري کي لہريں پيدا کردي ہيں اور اٹيوپي ميں بھي انقلاب نشاء ونما پارہا ہے ?
ملس زناوي

رسا نيوزايجنسي کي ا?ن اسلام سے منقولہ رپورٹ کے مطابق ، سنٹ مري يونيورسٹي کے استاد اور انساني حقوق کے سرگرم رکن حسن حسين نے بيان کيا : اسلامي بيداري کي لہريں اٹيوپي تک پہونچ چکي ہيں، اٹيوپي کے وزيراعظم نے مسلمانوں کے ساتھ سختي اس مشکل کے حل کا تنہا راستہ جانا ہے ?

انہوں نے کہا: مظاھرين جانتے ہيں کہ شھري ا?زادي اور جمھوريت کے لانے ميں اکثريت کي پشتپناہي اور حمايت سے ھمکنار ہيں ?

حسين نے مزيد کہا: اٹيوپي وزيراعظم کي جانب سے مسلمانوں پر بڑھتا ہوا دباو انقلاب کي پيروزي کا سبب ہوگا ?

انساني حقوق کے سرگرم رکن نے کہا: عوامي مطالبات کي تکميل کيلئے حکومت کا بدلنا ضروري ہے، جيسا کہ عرب ممالک ميں ہوا اور ديکھ رہے ہيں ?

واضح رہے کہ گذشتہ ھفتے اٹيوپي ميں مسلمانوں کے مذھبي مسائل ميں گورمنٹ کي مداخلت کے سبب اٹيوپي گورمنٹ مسلمانوں کے اعتراضات سے روبرو ہے ?

اٹيوپي ميں تين کروڑ مسلمان ہيں جو اٹيوپي کي 9 کروڑ جمعيت کا 35 پرسنٹ حصہ ہيں?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬