01 August 2012 - 15:45
خبر کا کوڈ: 4393
فونت
آيت ‌الله مکارم شيرازي :
رسا نيوزايجنسي - حضرت آيت ‌الله مکارم شيرازي نے گنڈے تعويز کرنے والوں سے پرھيز کي تاکيد کرتے ہوئے خرافات کو انسان کي عقل ومنطق کو ناکارہ بنا دينے والا بتايا?
آيت ‌الله مکارم شيرازي

رسا نيوزايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق، مراجع تقليد قم ميں سے حضرت آيت ‌الله ناصر مکارم شيرازي نے تفسيرقران کي سلسلہ وار نشست ميں جو گذشتہ دنوں حرم مطھر حضرت معصومہ قم (س) کے شبستان امام خميني (رہ) ميں منعقد ہوئي مرسل اعظم (ص) سے منقولہ حديث کے ائينہ ميں حضرت خديجہ کے فضائل بيان کئے ?

انہوں نے يہ کہتے ہوئے کہ کچھ لوگ مرسل اعظم کي بيويوں کا مقايسہ کرنے ميں خطا کرگئے ہيں کہا : بلا شک وشبہہ حضرت خديجه(س) پيغبر اسلام کي بيويوں ميں سب سے برتر ہيں، اسلام کي يہ معزز خاتون بعض ايسے اوصاف کي مالک تھيں جو نبي (ص) کي بيويوں ميں سے کسي اور کے پاس نہيں تھا ?

قران کريم کے نامور مفسر نے بيان کيا : اپ پہلي وعورت ہيں جو اسلام لائيں، يہ فضليت کسي اور بيوي کو حاصل نہيں تھي، دوسرے يہ کہ اپ کے پاس جو کچھ بھي تھا سب کا سب اپ نے راہ خدا، اسلام اور پيغمبر اسلام (ص) ميں خرچ کرديا جبکہ کسي اور کے سلسلے ميں ھميں اس طرح فداکاريوں کي باتيں نہيں ملتي ?

حوزہ علميہ قم ميں درس خارج فقہ اس استاد نے مزيد کہا : حضرت خديجہ تنھا وہ عورت تھيں جو مرسل اعظم (ص) کے طوفاني حالات ميں اپ کے ساتھ رہيں، اپ نے 25 سال تک ( 15 سال اسلام سے پہلے اور 10 سال اسلام کے بعد ) حضرت محمد مصطفي(ص) کا ساتھ ديا، سخت مصيبتوں اور دشواريوں ميں پيغمبر اسلام (ص) کي مونس وياور رہيں؛ جبکہ اپ کے علاوہ مرسل اعظم(ص) کي کسي اور بيوي کے دامن ميں يہ فضائل نہيں ہيں، يہ فقط حضرت خديجہ ہي ہيں جنہوں نے ان مصيبتوں کو ديکھا اور اس پرثابت قدم رہيں ?

انہوں مزيد کہا : حضرت خديجه(س) کا ايک امتياز يہ بھي تھا کہ اپ تنہا وہ عورت ہيں جِسے پيغمبر اسلام(ص) انتقال کے بعد مسلسل ياد کرتے رہے، اس کے علاوہ اپ نسل پيغمبر(ص) کا تنہا وسيلہ ھيں، حضرت فاطمہ زھراء(س) پيغمبر اسلام (ص) کي تنہا اولاد ہيں اور وہ حضرت خديجہ کبري کي بيٹي ہيں، يہ فضيلت سب سے بڑي فضيلت ہے کہ حضرت زھراء سلام اللہ عليھا ان تمام فضائل وکمالات کي ملکہ اپ کے دامن ميں پروان چڑھيں اور مرسل اعظم(ص) کي پوري کي پوري نسل اپ کي ذات گرامي ہي سے ہے لھذا پيغمبر اسلام(ص) کي کسي اور بيوي کا اپ سے مقايسہ نہيں کيا جاسکتا ?

حضرت آيت‌ الله مکارم شيرازي نے سوره مبارکہ احزاب کي تفسيرميں اس بات کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ انبياء الھي کا ايک کام خرافات سے مقابلہ کرنا تھا کہا : انبياء امت ميں رائج غير منطقي اور غير عقلي کاموں کا مقابلہ اوراس کي مخالفت کرتے تھے جس ميں سے اھم ترين خرافات بت پرستي تھي ?

انہوں نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ خرافات انسان کي عقل ومنطق کو ناکارہ بنا ديتي ہے کہا : جب عقل اور منطق ناکارہ ہوجائے تومعاشرہ بہت بڑے خطرے سے روبرو ہوتا ہے، خرافات بہت سارے برے کام کو انسان کي نگاہوں ميں اچھا نماياں کرتا ہے، نتيجے ميں خرافات؛ شرک، بت پرستي اور شرک الودہ افکار کو پرورش ديتا ہے ?

انہوں نے مزيد کہا : ھمارے زمانے ميں کثرت سے رائج گنڈے تعويز بھي خرافات ميں سے ہيں، گنڈے کسي بندھے کو کھول نہيں سکتے اور کسي کھلے کو باندھ نہيں سکتے، رشتوں کے لئے تعويزيں لکھوانا، بيماريوں کے اسباب تعويزوں ميں ڈھونڈھنا موجودہ معاشرہ کي خرافات ہے ?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬