آيت الله سبحاني:

رسا نيوزايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق، مراجع تقليد قم ميں سے حضرت آيت الله جعفر سبحاني نے ماہ مبارک رمضان ميں اپني سلسلہ وار تفسير کي نشست ميں جو مدرسہ علميہ حجتيہ قم ميں طلاب وافاضل حوزہ کي شرکت ميں منعقد ہوئي سورہ تين کي ايات کي تفسير کرتے ہوئے «احسن تقويم» کي تفسير کي اورکہا : بعض مفسرين «احسن تقويم» سے مراد يہ ليتے ہيں کہ خدا نے انسانوں کو خلقت کا مکمل ائينہ قرار ديا ہے، اسے حسن وجلوہ گري عطا کي اور اس لحاظ سے خدا کا قسم کھانا بے مفھوم و بے سبب ہے ?
حضرت آيت الله سبحاني نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ «اسفل السافلين» کےسلسلے ميں دونظريہ موجود ہيں ياد دہاني کي : بعض مفسرين، اسفل السافلين سے مراد مسن افراد ليتے ہيں جن کے انکھ، کان، حافظہ، عقل ودماغ بے کار ہوچکا ہے اور اس سے مراد انسان کا اس فطرت سے ہٹ جانا ہے جس پر خدا نے انہيں پيدا کيا تھا اور اسے غير خدا کي پرستش پر منبطق جانتے ہيں ?
انہوں نے مزيد کہا : پہلا معني سنت الھي ہے جو ھر مومن اور کافر دونوں کو برابري سے صادق اتا ہے، مگرجو لوگ اسفل السافلين ميں پہونچ جاتے ہيں وہ لوگ ہيں جن کا عقيدہ کمزور اور اخلاقيات ميں اچھے نہيں، يہ انساني کرامتوں کو کچل کر برائيوں کا دامن تھام ليتے ہيں ?
حضرت آيت الله سبحاني نے مزيد کہا : اس صورت ميں ايت کو استثناء کيا جاسکتا ہے اور کہا جاسکتا ہے کہ؛ مگر وہ لوگ جنہوں نے عمل صالح انجام ديا يہ اجر کےحق دار اوردائمي انعام کے مستحق ہيں ?
قران کريم کے اس نامور مفسر نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ اس سورہ کي اخري ايتوں ميں دين سے مراد شريعت اور اطاعت نہيں ہے کہا : يہاں پر دين، جزاء کے معني ميں ہے، يعني ھم نے (خدا نے ) اتنے سارے کمالات اور ھدايت کے چراغ بندوں کو عطا کئے تاکہ وہ اسے حق کي شناخت ميں صرف کرسکيں مگر اس کے مقابل وہ اس کا انکار کرتے ہيں ?
انہوں نے ياد دہاني کي : قيامت ميں سبھي، چاھے مومن ہو چاھے اسفل السافلين کا مستحق، سبھي خدا کي بارگاہ ميں ايک نگاہ سے ديکھيں جائيں گے، خدا بہترين حساب کرنے والا ہے اور ھر کسي کا اس کے عمل کے بقدر حساب کرے گا ?
حضرت آيت الله سبحاني نے حضرت خديجہ (س) کے فضائل کا تذکرہ کرتے ہوئے اپ کو«ان الذين آمنوا و عملوا الصالحات» کا کھلا مصداق جانا اور کہا : حضرت خديجہ(س) نے اپنا مال واسباب سب کچھ راہ خدا اور اسلام کي ترقي ميں خرچ کرديا ?
اس مرجع تقليد نے حضرت خديجہ(س) کي فداکاريوں کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : سرزمين عربستان کي سب بڑي تاجرہ نے دين کي راہ ميں تين سال تک شعب ابي طالب ميں پيغمبر اسلام کے ساتھ سختياں پرداشت کيں اور کبھي اپ کے پاس ايک کھجور بھي کھانے کو نہ ہوتي ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے