آغا مرتضي پويا:

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، يوم ولادت امام حسن عليہ السلام کے موقع پر پرل کانٹي نينٹل ہوٹل راولپنڈي ميں حضرت امام حسن (ع) کانفرنس کا انعقاد کيا گيا? جس ميں اہل تشيع کے ساتھ اہل سنت برادران نے بھي کثير تعداد ميں شرکت کي?
آغا مرتضي پويا نے کانفرنس سے خطاب ميں يہ کہتے ہوئے کہ صلح حسن (ع) صلح حديبيہ کا درجہ حاصل ہے جس نے مسلمانوں کے درميان وحدت کو فروغ ديا بيان کيا : امام حسن (ع) کي خلافت سے عليحدگي کے 1400 سال بعد امام راحل امام خميني (رہ) نے قيام کيا اور اپ قيام نے آل محمد (ع) کا چھينا ہوا حق لوٹا ديا ہے?
انہوں نے يہ کہتے ہوئے کہ رھبر معظم انقلاب اسلامي حضرت ايت اللہ امام خامنہ اي اور سيد حسن نصر اللہ نے طاغوت دانت کھٹے کر رہے ہيں کہا: صلح حسن (ع) کے مشن کو امام خميني (رہ) نے آگے بڑھايا اور تقوي کي قدرت کو ثابت کر دکھايا?
مرتضي پويا کاکہنا تھا کہ حجاز ميں براجمان طاغوت بھي جلد سرنگوں ہونے جا رہے ہيں? جس دن حجاز ميں بيٹھے طاغوت زوال پذير ہوں گے اس دن انسانيت آزاد ہوگي اور طاغوتي چنگل سے فلسطين و کشمير آزاد ہوں گے?
اس کانفرنس کے دوسرے خطيب، سابق ايراني سفير ابو شريف نے يہ کہتے ہوئے کہ شہادت حسين (ع) اور صلح حسن (ع) نے امت کو وحدت کي لڑي ميں پرويا کہا: شيطان بزرگ امريکہ اس وقت افغانستان سے شکست خوردہ واپس جا رہا ہے اور يہ وقت امت مسلمہ کے لئے انتہائي اہم وقت ہے انہيں آپسي جھگڑوں کو بھلا کر طاغوت کے مدمقابل ڈٹ جانا چاہئے?
انہوں نے يہ کہتے ہوئے کہ ہر دور کا طاغوت آخرکار زوال پذير ہوتا ہے، کسي زمانے ميں سوويت يونين کا ڈنکا بجتا تھا ليکن زوال آيا تو ايسا کہ سوويت يونين پاش پاش ہوکرکے پندرہ ٹکڑيوں ميں تقسيم ہوگيا کہا : طاغوت وقت امريکہ بھي افغانستان ميں شکست کھا چکا ہے?
ابو شريف نے يہ کہتے ہوئے کہ امريکي نيو ورلڈ آرڈر کا اصل مقصد دنيا پر امريکي تسلط کو قائم کرنا ہے، دس سال تک امريکہ نے افغانستان ميں اپنا تسلط قائم کرنے کي ناکام کوشش کي اور اب امريکہ اپنے حواريوں نيٹو وغيرہ کے ساتھ واپس جارہا ہے کہا : عالم اسلام کيلئے يہ وقت موزوں ترين وقت ہے، اس وقت وحدت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے?
انہوں نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ امريکي تسلط اور امريکي قيادت کا مطلب ويراني اور تباہي ہے، دشمن اس وقت امت اسلامي کے درميان تفرقہ ايجاد کرنا چاہتا ہے اورشام کے حالات بھي اسي سلسلے کي ايک کڑي ہے کہا : شام کے حالات کو خراب کرکے دشمن اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے ميں مصروف ہے ، يورپ مسلمانوں کواپس ميں لڑا کر اپنے پرانے اسلحے تيل کے بدلے فروخت کررہے ہيں?
جمعيت علماء پاکستان نيازي گروپ کے سربراہ اياز ظہير ہاشمي نے يہ کہتے ہوئے کہ موجودہ حکومت جس مفاہمت کي بات کر رہي ہے اس کي بنياد امام حسن عليہ السلام نے ہي رکھي تھي کہا : اموي خاندان پوري آب و تاب سے ظلم و بربريت کا بازار گرم کئے ہوئے تھي ليکن امام حسن (ع) نے شاندار انداز ميں صلح کا باب رقم کيا? جو آج بھي سنہري حروف سے ياد کيا جا رہا ہے? انہوں نے صحابہ کو در والا اور اہل بيت (ع) کو گھر والا بتاتے ہوئے کہا : آج امت مسلمہ کے درميان اتحاد و اتفاق کي اشد ضرورت ہے ، مدينہ کي رياست کا چارٹر بھي اتحاد امت سے مزين تھا، ليکن صد افسوس کہ آج شناختي کارڈ چيک کرکے بے گناہ مسلمانوں کو شہيد کيا جاتا ہے جو انتہائي شرمناک امر ہے?
روزنامہ جناح کے چيف ايڈيٹر خوشنود علي خان نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا : جو اہل بيت عليہ السلام سے اپني نسبت قائم کرليتا ہے اس پرعنايات کي بارش ہوتي ہے?
انہوں نے يہ کہتے ہوئے کہ پاني بند ہونے کا تذکرہ کربلا کے حوالے سے مشہور ہے ليکن پاني اس سے قبل بھي بند کيا گيا تھا اور انہيں لوگوں نے بند کيا تھا جنہوں نے کربلا ميں پاني بند کيا کہا : حضرت علي عليہ السلام کے بعد امام حسن عليہ السلام خليفہ بنے تھے?
خوشنود علي خان نے مزيد کہا : صلح حسن کو معرکہ کربلا کي تمہيد تھي ?
امام حسين کونسل کے مدير ڈاکٹر سيد غضنفر مہدي نے يہ کہتے ہوئے کہ اسلام ابوطالب (ع) اورخديجہ (ع) کا احسان مند ہے جنہوں اسلام پر اپنا سب کچھ قربان کر ديا کہا : حضرت ابوطالب (ع) نے دنيا ميں پہلا يتيم خانہ اور حضرت خديجہ سلام اللہ عليہا نے پہلا دارالامان قائم کيا ?
واضح رہے کہ کانفرنس ميں مندرجہ ذيل مختلف قرارداديں بھي اتفاق رائے سے منظور کي گئيں:
1: يہ اجتماع پاکستان ميں جاري شيعہ نسل کشي کي بھرپور مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ کوئٹہ تفتان شاہراہ کو زائرين کے لئے محفوظ بنايا جائے?
2: زائرين کيلئے عراق کے ويزے اور بغداد ميں موجود پاکستان ہائوس کو زائرين کے لئے کھولا جائے?
3: گلگت بلتستان کا اسلامي نظرياتي کونسل ميں نمائندگي دي جائے?
4: ہادي ٹي وي چينل کو پاکستان ميں لينڈنگ رائٹس ديئے جائيں اور بري امام سرکار کے مزار سے قبضہ گروپ کا خاتمہ کيا جائے?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے