آيت الله مکارم شيرازي:

رسا نيوزايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق، مراجع تقليد قم ميں سے حضرت آيت الله ناصر مکارم شيرازي نے سترھويں ماہ مبارک رمضان کو اپني سلسلہ وار تفسير قران کريم کي نشست ميں جو حرم مطھر حضرت معصومہ قم ميں منعقد ہوئي آيات وَإِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا وَإِذْ قَالَت طَّائِفَةٌ مِّنْهُمْ يَا أَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَکُمْ فَارْجِعُوا وَيَسْتَأْذِنُ فَرِيقٌ مِّنْهُمُ النَّبِيَّ يَقُولُونَ إِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٌ وَمَا هِيَ بِعَوْرَةٍ إِن يُرِيدُونَ إِلَّا فِرَارًا وَلَوْ دُخِلَتْ عَلَيْهِم مِّنْ أَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَةَ لَآتَوْهَا وَمَا تَلَبَّثُوا بِهَا إِلَّا يَسِيرًا کي تفسير ميں منافقين کو دل کا مريض بتاتے ہوئے مذکورہ ايت کريمہ کے شان نزول کي جانب اشارہ کيا ?
حوزہ علميہ قم ميں درس خارج فقہ واصول کے استاد نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ منافقين کے وسوسہ ھرمعاشرے ميں اثرانداز ہوتے ہيں کہا : منافقين لوگوں کو بدگمان کرنے ميں مصروف رہے اور انہوں جنگ احزاب ميں بھي يہي کام کيا ، اج بھي کچھ لوگ لوگوں کو بد گمان کرنے ميں مصروف ہيں اور کہتے پھرتے ہيں کہ ممکن ہے کل امريکا اور اسرائيل ھم پرحملہ ورہوں لھذا موجود حالات ميں سمجھوتہ کرليں ، ان حالات ميں مومنين کاملا ہوشيار ہيں ?
حضرت آيت الله مکارم شيرازي نے کہا : تيسرا گروہ پيغمبر اسلام(ص) کي عدم ھمراہي اور ميدان جنگ ميں شرکت نہ کرنے کي بناء پر اس ايت کريمہ ميں اشارہ کيا گيا ہے، يہ لوگ بہانہ باز اور جھوٹھے تھے ، پيغمبر اسلام(ص) سے بہانہ کرتے کہ ھم گھر کے لحاظ سے کمزور ہيں ھميں اجازت ديں کہ اپني بيوي اور بچوں کا خيال رکھيں اور اسي بہانے ميدان جنگ سے بھاگ نکلتے، يہ باتيں ان کے ضعيف الايمان ہونے کي بيان گر ہيں ?
انہوں نے بيان کيا: افسوس بعض لوگ اپنے ضروريات زندگي کو فراھم کرنے کے بہانے حرام کام، من جملہ سود خوري، کم فروشي اور ذخيرہ سازي سے کام ليتے ہيں اور جب ان سے اعتراض کيا جاتا ہے تو کہتے ہيں کہ اپنے گھرانے کي زندگي چلانے کيلئے ان کاموں کے انجام دينے پر مجبور ہيں?
اس مرجع تقليد نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ يہ منافقين ھر زمانہ ميں ہيں اور ايسا نہيں کہ ھم کہہ سکيں کہ ھمار زمانے ميں نہيں ہيں بيان کيا : انسان کا ظاھر اور باطن ايک رہے کہ اگر ايک نہ ہو تو روشن ہے کہ يہ اچھا انسان نہيں ہے ?
انہوں نے اسلام اورمسلمانوں کو منافقين سے بہت بڑا خطرہ بتاتے ہوئے اشارہ کيا: اسلام کو منافقين سے جو نقصان ہوا کسي اوردشمن سے نہيں ہوا?
حضرت آيت الله مکارم شيرازي نے اپنے بيان ميں يہ کہتے ہوئے کہ بہت سارے سني علماء عدالت صحابہ يعني تمام صحابہ کے عادل ہونے کا نظريہ رکھتے ہيں، اس نظريہ کے جواب ميں کہا : ھمارا انہيں يہ جواب ہے کہ بعض منافقين بھي اصحاب پيغمبراسلام (ص) ميں سے تھے اور ان حديثيں بھي منقول ہيں کيا وہ عادل ہيں؟
اس مرجع تقليد نےمزيد کہا : ھم يہ کہتے ہيں کہ صحابہ پيغمبر(ص) مختلف تھے اور ان کے بيچ مختلف طريقے کےلوگ موجود تھے لھذا تمام کے تمام کو عادل نہيں کہا جاسکتا؛ توقع ہے کہ علماء اھل سنت اپنے بعض علمي مسائل پر تجديد نظر کريں، اگر چہ بعض علماء اھلسنت نے عدالت صحابہ کے روشن نہ ہونے کے سلسلے ميں کتابيں بھي لکھيں ہيں، اميد ہے کہ يہي سب کا عقيدہ ہو?
حوزہ علميہ قم ميں درس خارج فقہ واصول کے استاد نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ منافقين کے وسوسہ ھرمعاشرے ميں اثرانداز ہوتے ہيں کہا : منافقين لوگوں کو بدگمان کرنے ميں مصروف رہے اور انہوں جنگ احزاب ميں بھي يہي کام کيا ، اج بھي کچھ لوگ لوگوں کو بد گمان کرنے ميں مصروف ہيں اور کہتے پھرتے ہيں کہ ممکن ہے کل امريکا اور اسرائيل ھم پرحملہ ورہوں لھذا موجود حالات ميں سمجھوتہ کرليں ، ان حالات ميں مومنين کاملا ہوشيار ہيں ?
حضرت آيت الله مکارم شيرازي نے کہا : تيسرا گروہ پيغمبر اسلام(ص) کي عدم ھمراہي اور ميدان جنگ ميں شرکت نہ کرنے کي بناء پر اس ايت کريمہ ميں اشارہ کيا گيا ہے، يہ لوگ بہانہ باز اور جھوٹھے تھے ، پيغمبر اسلام(ص) سے بہانہ کرتے کہ ھم گھر کے لحاظ سے کمزور ہيں ھميں اجازت ديں کہ اپني بيوي اور بچوں کا خيال رکھيں اور اسي بہانے ميدان جنگ سے بھاگ نکلتے، يہ باتيں ان کے ضعيف الايمان ہونے کي بيان گر ہيں ?
انہوں نے بيان کيا: افسوس بعض لوگ اپنے ضروريات زندگي کو فراھم کرنے کے بہانے حرام کام، من جملہ سود خوري، کم فروشي اور ذخيرہ سازي سے کام ليتے ہيں اور جب ان سے اعتراض کيا جاتا ہے تو کہتے ہيں کہ اپنے گھرانے کي زندگي چلانے کيلئے ان کاموں کے انجام دينے پر مجبور ہيں?
اس مرجع تقليد نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ يہ منافقين ھر زمانہ ميں ہيں اور ايسا نہيں کہ ھم کہہ سکيں کہ ھمار زمانے ميں نہيں ہيں بيان کيا : انسان کا ظاھر اور باطن ايک رہے کہ اگر ايک نہ ہو تو روشن ہے کہ يہ اچھا انسان نہيں ہے ?
انہوں نے اسلام اورمسلمانوں کو منافقين سے بہت بڑا خطرہ بتاتے ہوئے اشارہ کيا: اسلام کو منافقين سے جو نقصان ہوا کسي اوردشمن سے نہيں ہوا?
حضرت آيت الله مکارم شيرازي نے اپنے بيان ميں يہ کہتے ہوئے کہ بہت سارے سني علماء عدالت صحابہ يعني تمام صحابہ کے عادل ہونے کا نظريہ رکھتے ہيں، اس نظريہ کے جواب ميں کہا : ھمارا انہيں يہ جواب ہے کہ بعض منافقين بھي اصحاب پيغمبراسلام (ص) ميں سے تھے اور ان حديثيں بھي منقول ہيں کيا وہ عادل ہيں؟
اس مرجع تقليد نےمزيد کہا : ھم يہ کہتے ہيں کہ صحابہ پيغمبر(ص) مختلف تھے اور ان کے بيچ مختلف طريقے کےلوگ موجود تھے لھذا تمام کے تمام کو عادل نہيں کہا جاسکتا؛ توقع ہے کہ علماء اھل سنت اپنے بعض علمي مسائل پر تجديد نظر کريں، اگر چہ بعض علماء اھلسنت نے عدالت صحابہ کے روشن نہ ہونے کے سلسلے ميں کتابيں بھي لکھيں ہيں، اميد ہے کہ يہي سب کا عقيدہ ہو?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے